ہیوسٹن //امریکہ کے ہیوسٹن میں نسل پرستی اور پولیس بربریت کے خلاف ملک گیر سطح پر جاری مظاہروں کے درمیان جارج فلائڈ کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور اس دوران 6,000 سے زیادہ لوگ انہیں آخری وداعی اور خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ۔امریکی سیاہ فام شخص جارج فلائڈ کی امریکہ کے مینیسوٹا میں پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی جس کے بعد پورے ملک میں نسل پرستی اور پولیس بربریت کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے ۔اس سے پہلے پیر کو ٹیکساس ریاست کے ہیوسٹن شہر میں ‘دی فاؤنٹین آف پریج چرچ’میں جارج فلائڈ کے اعزاز میں پروگرام کا انعقاد ہوا اور اس دوران ان کے تابوت کو لوگوں کے دیدار کے لئے رکھا گیا۔پروگرام کے منتظم نے بتایا کہ پروگرام میں 6,362 لوگ آئے تھے ۔یہ بہت ہی پرامن اور معیاری طریقے سے مکمل ہوا۔جارج فلائڈ کی آخری رسومات کے دوران لوگ کورونا وائرس انفیکشن کو توجہ میں رکھتے ہوئے سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں آرہے تھے ۔انعقاد کے داخل ہونے والے دروازے پر لوگوں کی صحت جانچ کررہے تھے اور یہ یقینی بنا رہے تھے کہ سبھی نے فیس ماسک پہنا ہو۔جارج فلائڈ کی پیدائش نارتھ کیرولینا میں ہوئی تھی اور انہوں نے ہیوسٹن میں اپنی زندگی کا لمبا وقت گزاراتھا۔(یواین آئی)
موت کے معاملہ پر اقوام متحدہ کو مکتوب روانہ
اقوام متحدہ//اقوام متحدہ میں کام کرنے والے افریقی نژاد ماہرین کے ایک گروپ نے امریکہ میں پولیس کی تحویل میں جارج فلائیڈ نامی سیاہ کی ہلاکت کے سلسلے میں اقوام متحدہ کو چارج شیٹ بھجوا ئی ہے ۔ گروپ کی سکریٹری کرسٹینا سینڈرز نے یہ اطلاع دی ۔ سینڈرز نے پیر کے روز کہا‘‘افریقی نژاد لوگوں کے اقوام متحدہ میں کام کرنے والے گروپ نے جارج فلائیڈ قتل معاملہ میں کارروائی کیلئے چارج شیٹ اقوام متحدہ کو بھیجا ہے ’’۔قابل ذکر ہے کہ 25 مئی کو ، ایک پولیس افسر نے جارج فلائیڈ کی گردن کو کم سے کم آٹھ منٹ تک دبائے رکھا تھا ، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔جارج فلائیڈ کے اہل خانہ اور ان کے وکیل بنجامن کرمپ نے 3 جون کو اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کو ایک خط بھیجاتھا ،جس میں امریکی حکومت سے اس معاملہ میں مکمل انصاف کا مطالبہ اور قتل میں ملوث تمام افسران پرقتل کا الزام لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔خط میں کہا گیا ہے کہ ‘‘افریقی نسل کے سیاہ فاموں کے ساتھ امریکہ میں جان لیوا پولیس تشدد کی ایک لمبی تاریخ اورروایت رہی ہے ’’۔ انہوں نے کہا‘‘بہت سے معاملات میں ، ریاستی اور مقامی حکومتوں کی ناکامی کے نتیجے میں جوابدہ پولیس افسران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔