سرینگر//عدالت عظمیٰ نے منگل کو اپنے فیصلے میں تینوں زرعی قوانین کے نفاذ کو تاحکم ثانی معطل رکھنے کے احکامات صادر کرلئے۔ زرعی قوانین کو منسوخ کرانے نیز ان سے جڑے دیگر امور پر عدالت عظمیٰ میں سماعت آج مکمل ہوگئی اور کورٹ نے تینوں قوانین پر اگلے احکامات تک پابندی عائد کردی ۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میںکہا ” ایک کمیٹی کی تشکیل کی جائے گی جو عدالت کی نگرانی میں کام کرے گی اور کمیٹی میں کن لوگوں کو شامل کیا جائے گا اس کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی“۔
عدالت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا” ہمیں اس قانون پر روک لگانے کا اختیار ہے لیکن ہم اس پر مستقل پابندی عائد نہیں کریں گے بلکہ یہ پابندی عبوری ہوگی“۔
زرعی قوانین کی مخالفت میں کسانوں کی جانب سے گذشتہ 47 دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کی سرحد سنگھو بارڈر، ٹیکری بارڈ سمیت دیگر مقامات پر کسان جمے ہوئے ہیں اور ان قوانین کو منسوخ کرانے کے لیے بضد ہیں۔
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے گذشتہ روز ہی عندیہ دیا تھا کہ وہ اس مسئلہ کو جلد حل کرنے کی کوشش کرے گی۔عدالت نے مرکزی حکومت کے رویے پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور واضح لفظوں میں کہا تھا ” ہم اس معاملے کا تصفیہ چاہتے ہیں۔ آپ جس طرح معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے ہم خوش نہیں ہیں۔ اس کا جلد از جلد حل نکالا جانا چاہیے“۔