سرینگر //مارچ 2020سے قبل جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری، سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ اور کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے 10لاکھ سے زائد مریضوں کو نجی اسپتالوں اور پرائیویٹ کلنکوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان اسپتالوں میں علاج کرانے والے مریضوں کا کہنا ہے کہ اسپتال بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف انہیں علاج کیلئے مختلف نجی کلنکوں اور اسپتالوں میں دھکے کھانے پڑ رہے ہیں بلکہ مفت دستیاب ہونے والی ادویات کیلئے بھاری رقومات بھی ادا کرنی پڑ رہی ہیں جو غریب مریض خرید نہیں کرسکتے۔ رعناواری اسپتال میں عالمی وباء سے قبل روزانہ 2000مریضوں کا آنا جانا رہتا تھا اس طرح ہر مہینے 60ہزار اور ہر سال اسپتال میں 7لاکھ 20ہزار مریضوں کا علاج و معالجہ کیا جاتا تھالیکن 24مارچ کو اسپتال کو کورونا مریضوں کیلئے مخصوص کرنے کے بعد سے یہاں مریضوں کا داخلہ بند ہے۔ اسپتال میں زچگی کی روزانہ 30سے 40جراحیاں انجام دی جاتی تھیں لیکن اب ان خواتین کو نجی کلنکوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ کشمیر صوبے میں چھاتی کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے واحد خصوصی اسپتال ہے اور یہاں کورونا سے قبل ہر روز 600مریضوں کی طبی تشخیص ہوتی تھی۔موسم سرما میں یہ تعداد دوگنی ہوجاتی تھی لیکن کورونا وائرس مریضو ں کیلئے مخصوص اسپتال قرار دینے کے بعد یہاں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے 2لاکھ 16ہزار مریضوں کو بھی دیگر اسپتالوں اور نجی کلنکوں پر جانا پڑرہا ہے۔ ادھر کشمیر نرسنگ ہوم میں بھی روزانہ 250مریضوں کا علاج و معالجہ ہوتا تھا لیکن مذکورہ اسپتال کو بھی کورونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے۔ادھر صدر اسپتال سرینگر سے کورونا مریضوں کو سی ڈی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔