سرینگر // محکمہ جل شکتی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ پانچ روز کے دوران شبانہ درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ گراوٹ کے نتیجے میں پانی کی کھپت میں 25سے30 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔یخ بستہ ہوائوں او ر درجہ حرات کے نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے سے وادی بھر میں پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔سردی کے قہر کے نتیجے میں پانی منجمند ہونے سے رہائشی مکانوں،ہوٹلوں، مساجد ،سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں پانی کی سپلائی بند رہی۔سر ینگر اورشمال و جنوب کے بیشتر علاقوں، بستیوں اور قصبوں میں پانی کی لائنیں منجمند ہوگئیں ہیں جس سے بیشتر آبادی پانی سے محروم ہے۔ شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں یہی صورتحال ہے اور گھروں کے اندر بھی نل جم گئے ہیں جس سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔نہ صرف پانی کے نل جم گئے ہیں بلکہ گھروں میں موجود پانی کی ٹنکیاں اور چشمے بھی منجمند ہوگئے ہیں۔متعلقہ محکمہ کے چیف انجینئر کشمیر افتخار احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر سمیت وادی کے اکثر علاقوں میں نل جم جانے سے پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 4جنوری سے 7جنوری تک ہونے والی شدید برف باری کے نتیجے میں وادی بھر میں 485سکیمیں متاثر ہو گئیں تھیں جس کے بعد دو دنوں کے اندر پانی کی سپلائی بحال کر دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے عملہ کو اضافی بوجھ اُس وقت پڑ گیا جب پچھلے پانچ روز میں درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ گراوٹ آئی اور سبھی پانی کے نل جم گئے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی ترسیلی لائنوں کو محکمہ نے بحال کر دیا ہے اور پانی لوگوں کے گھروں کے باہر تک آتا ہے لیکن نل جم جانے سے پانی کی فراہمی گھروں میں نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں 20سے 25فیصد علاقوں میں پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شوپیان ہے جہاں ترسیلی لائنوں کو نقصان ہوا ہے۔چیف انجینئر نے کہا کہ وادی میں 120ٹینکروں کو کام پر لگایا گیا ہے جس میں سے 105محکمہ کے اپنے ٹینکر ہیں اور 16ٹینکروں کی باہر سے خدمات حاصل کی گئی ہے ۔