سرینگر // اس سال چلہ کلان کے آغاز میں ہی شدید برف باری کے بعد ریکارڈ منفی درجہ حرات کی وجہ سے ابھی تک برف پگلنے کا نام نہیں لے رہی جبکہ ایسے بھی سال گزرے ہیں، جب چلہ کلان میں برف باری ہی نہیں ہوئی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی جغرفیائی حالات اور یہاں کے زرعی پیداروار کیلئے سردیوں کے موسم میں 128.0ملی میٹر بارشوں کا ہونا لازمی ہے، تاہم سال 2018کشمیر میں ایسا سال گزا ہے جہاں پر سردیوں کے تین ماہ جنوری فروری اور مارچ میں بہت ہی کم بارش ریکارڈ ہونے کے نتیجے میں یہاں کی فضلوں کو نقصان پہنچا ہے اور کئی ایک علاقوں میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ سال 1995میں کشمیر وادی میں سب سے زیادہ برف باری اور بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق سال 2018میں کشمیر وادی میں صرف 44.7ملی میٹر بارش ہی ریکارڈ کی گئی ہے اور اس سال برف باری نہیں ہوئی اس ماہ میں دسمبر کے مہینے میں 37.2ملی میٹر ، جنوری میں 1.2ملی میٹر اور فروری میں 44.7ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔محکمہ کے عداوشمار کے مطابق 1995میں سب سے زیادہ یعنی 310.6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔اس سال دسمبر میں 154.2جنوری میں 39.1 اور فروری میں 117.3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔محکمہ نے پچھلے دس برسوں کے عداد وشمار پیش کرتے ہوئے صرف جنوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری2011میں میں کشمیر وادی میں 54.2ملی میٹر بارش ریکاڑد کی گئی ہے ۔جنوری2012میں 60.2ملی میٹر ،جنوری 2013میں 58.7ملی میٹر ،جنوری 2014میں 86.9ملی میٹر جنوری 2015میں 5.6ملی میٹر جنوری 2016میں 21.4ملی میٹر جنوری 2017میں 162.2ملی میٹرجنوری 2018میں 1.2ملی ، جنوری 2019میں 83.8ملی میٹر اور جنوری 2020میں 137.3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔محکمہ موسمیات نے رواں سال کے ا عداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال جنوری کے مہینے میں سرینگر میں 189.4ملی میٹربرف پڑی ۔کشمیر میں چلہ کلان کے دوران ہونے والی برف باری کو زرعی شعبہ کیلئے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اس موسم میں جتنی برف باری ہو گئی اتنا ہی کشمیر کے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے گا ۔