اور بدی کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہیں بلکہ شعور آدمی کی فطرت میں ہیں۔قرآن اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے فَاَلھَمَھَا فْجورَھا وَتقواھاَ یعنی نفس ِ انسان کو خْدا نے بھلائی اور بْرائی کی واقفیت الہامی طور پر عطا کر رکھی ہے۔
میعاری تعلیم حاصل کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے چاہے وہ دینی تعلیم ہو یا دنیاوی تعلیم۔ بچے اکثر دسویں کلاس کے بعد کوچنگ سنٹروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ معیاری تعلیم کے نور سے آراستہ ہوں اور آگے جا کر اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کر للیں۔بچے اکثر پرائیویٹ کوچنگ ہی کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ جبکہ ہمارے یہاں بہترین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں دستیاب ہیں۔ کیا پرائیوٹ کوچنگ کرنا فیشن بن گیا ہے یا ہمارے گورنمنٹ ٹیچروں کی لاپرواہی اس کے لئے ذمہ دار ہے؟ اساتذہ صاحبان ہمارے سماج کے معزز افراد میں شامل ہیں اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھنا ہمارا فرص بھی ہے۔
اگر اساتذہ صاحبان میں کچھ خامیاں ہیں تو انہیں سامنے لانا بھی صروری ہے۔ یہ تنقید برائے تعمیر کہلائے گا۔بہت سے اساتذہ صاحبان گورنمنٹ ملازمت کے ساتھ وفا نہیں کرتے۔کالجوں اور سکولوںمیںحاضری برائے نام کر کے پورا دن کوچنگ سنٹروں میں پڑھاتے ہیںاور مارچ میں جبBiometric Attendenceحاضری کیلئے سکول جانا پڑتا ہے تو بچوں کو یہی اساتذہ صبح صادق کے وقت ہی کلاسز لینے پر مجبور کرتے ہیں اور بچے بھی خالی پیٹ آنے کو مجبور ہوجاتے ہیں جوMethodology of Educationکی کھلم کھلا خِلاف ورزی ہے۔
کوچنگ مراکز میں جس جنون اور جذبے کے ساتھ اساتذہ پڑھاتے ہیں، اگر یہی جذبہ گورنمنٹ اداروں میں بھی دکھاتے تو بہت سے 'باست خان' جیسے طالب ِ علم آج ترقیوں کے اعلیٰ مقاموں کو عبور کر کے اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرلئے ہوتے۔ افسوس مادیت کو اولین ترجیحات میں شامل کر کے بہت سارے خود غرض اساتذہ ہمارے قومی سرمایہ یعنی ہمارے آنے والی نسلوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر ہی شاید خوش ہونگے ۔
اب اگرچہ محکمہ تعلیم نے اُن تمام اساتذہ کو سبکدوش کرنے کی وارننگ جاری کی ہے جو گورنمنٹ ملامت کے باوجود پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں تو یہ ایک قابل ِ تعریف اقدام ہے۔ اس سے ایسے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بیکار بیٹھے ہوئے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ زمینی سطح پر اِس قانون کو عملی جامہ پہنانے میں شاید حکام سنجیدہ نظر نہیں آ رہے ہیں ۔دور دراز علاقوں کے بہت سارے اساتذہ کو سبکدوش کرنے کی خبریں آے دن سنتے ہیں لیکن سرینگر کے مین ٹیوشن ہب پر محکمہ تعلیم کے حکام ابھی حاضری لگانے میں پیچھے کیوں ہیں؟… آخر چراغ تلے اندھیرا کیوں؟… امید ہے کہ نئی ایجوکیشن پالسی من و عن نافذ کی جائے گی اور سرکاری اساتذہ کی پرائیوٹ کوچنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھانے پر اپنی توجہ مبذول کرسکیں اور نجی کوچنگ مراکز میں جانے کے خواہشمند بچوں کو وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پڑھانے کیلئے دستیاب ہوں جنہیں ابھی سرکاری روزگار نہیں مل پایا ہے۔اس سے دو فائدے ملیں گے۔ایک تو سرکاری سکولوں کا معیار بہتر ہوگا اور دوم اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوںکو نجی سیکٹر میں روزگار بھی ملے گا۔
پتہ۔ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
ای میل۔ [email protected]