تبصرہ نگار:سہیل سالمؔ
مصنف:شہزادہ بسملؔ
صفحات۔512 ،قیمت۔450 روپے
پیلی کیشنز: الحیات پرنٹو گرافرس
کالم نگاری کے باری میں سید اقبال قادری لکھتے ہیں:’’کالم کا ایک صحافتی فیچر ہے جس میں کالم نویس منتخب موضوع پر اپنے مخصوص انداز میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کسی بھی معاملے کے اہم پہلوئوں پر رروشنی ڈالتا ہے‘‘۔(رہبر اخبارنویسی۔ص۔300 )کالموں میں سماجی مسائل کی نشاندہی،سیاسی میدان کے خدو خال اور مذہبی روداری کو خوش اسلوبی کے ساتھ اجاگر کیا جاتا ہے لیکن کالم نگار کو زبان کی چاشنی کا خاص خیا ل رکھنا پڑنا ہے۔جہاں تک جموں وکشمیر کا تعلق ہے تویہاں کے کالم نگاروں نے بھی اس صحافتی فیچر کو وقار بخشنے میںا ہم کردار ادا کیا ہے جن میں شہزادہ بسملؔ بھی سہر فہرست نظر آتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب ’’چلتے چلتے ‘‘ بھی وادی کے کہنہ مشق کالم نگار جناب شہزادہ بسملؔ کے کالموں کا پہلا مجموعہ ہے جو کہ ماضی میں مسلسل رورنامہ کشمیرعظمیٰ میں شائع ہوچکے ہیں اور اب کتابی صورت میں منصہ شہود پر آگئے۔’’چلتے چلتے ‘‘56 کالموں پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے سیاسی ،سماجی ،ادبی،اقتصادی ،مذہبی اور لسانی ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تہدیب وثقافت کو بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ان کالموں میں بیشتر تاریخ کا حولہ دے کر انہوں نے یہاں کے سیاسی حالات اور یہاں کے سیاسی رہنمائوں کی نبض کو ٹٹولنے کی کوشش کی ہے۔ ہر ادیب ،فنکار،شاعر اور کالم نگار کا اپنا مخصوص لب ولہجہ ہوتا ہے۔ اس کا طرز سخن ،اس کا طرز تحریر،اس کی لفاظیت اور اس کی انفرادیت کو نمایاںکرتا ہے۔’’چلتے چلتے‘‘ کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک عام قاری ان تمام خوبیوں کو محسوس کرتاہے اور محظوظ بھی ہوتا ہے۔اس مجموعے میں بھی قاری کو ان تمام خصوصیات کا سامنا ہوگا۔ کتاب کا سب سے پہلا کالم’’ذرا جلدی کیجئے‘‘ہے جس میں انھوں کے ایک ایسے موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے نیز جس کو مسلم معاشعرے میں عقیدت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔’’ذرا جلدی کیجئے’’ میں انھوں نے زکواۃ کی وضاحت،زکواۃ کے مسائل اور زکواۃ کے حق دار کو کالم کا روپ دے کر اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کیا۔اسلا م کے بنیادی ا رکان میں زکواۃ کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے لیکن جب ایک مسلمان اس اہم رکن کو نظر اندار کرکے اپنی زندگی بڑے اطمینان سے گزارتا ہے تو مسلم سماج میں کون سے مسائل جنم لیتے ہیں،ملاحظہ فزمائیں:’’ وادی کشمیر میں اس وقت بھی لوگوں کے گھروں میں ،بینک لاکروں میں اور نجی لاکروں میں کئی کوئنٹل سونا زیورات اور گہنوں کی شکل میں موجود ہیں۔گینی پونڈ کا رواج صرف کشمیر میں ہی ہے باقی جگہ اس کو سٹاک نہیں کرلیتے ہیں۔اس سونے میں کچھ سونا بے شک نصاب میں نہیں آتا ہوگا مگر اکثر و بیشترپر نصاب لگتا ہے۔اگر اس میں بھی صرف آدھے پر ہی زکواۃ ادا کی جائے تو یقین مانئے کہ بیسیوںیتیم خانے اور راحت سینٹرکھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میریج بیورو اور مریج کونسلنگ سینٹر قائم نہیں کرنا پڑیں گے۔گاڑیاں دوڑا کر اور گرامافون ریکاڑ یاسی ڈی بجابجا کر گھر گھر جاکر پیسہ جمع نہیں کرنا پڑے گا۔اگر یہ ڈیو پیسہ اور اربوں روپیہ لاکروں اور بینکوں سے باہر آجائے تو وادی سچ مچ جنت بے نظیر کا نقشہ پیش کرے گی۔۔۔۔‘‘(چلتے چلتے۔۔ص۔۔ 18 )
بنی نوع انسان کو اللہ تعالی نے کئی نعمتوں سے نوازا ہے ۔صحت اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت تصور کی جاتی ہے۔اکر کبھی بھی انسانی جسم کسی بھی دردو تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اپنی جسمانی تندرستی کو بحال کرنے کے لئے اپنے ضلع یا علاقے کے ہسپتال کی اورامید بھری نظروں سے دیکھتا ہے کہ وہ وہاں جاکر شفائے کاملہ سے فیضیاب ہوسکتا ہے۔اس کے بر عکس آ ج کے ہسپتال اب ذبح خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، اس کی مثالیں ہم آئے دنوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔اس تمام صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے شہزادہ بسمل کالم ’’پنجرے کے پنچھی‘‘ میں لکھتے ہیں:’’وادی ٔدلسوز میں ویسے انسانی جان کی قیمت ایک ٹھیکری کے برابر بھی نہیں مگر ایک ماں کو اس طرح تڑپاناجیسے یہاں کے زنانہ اور بچہ ہسپتالوں میں ہوتا ہے،تڑپا تڑپا کربچے کی اور کبھی کبھی دونوں کی جان لینا،شاید ہٹلر کے زمانے میں یہودی مراکز ِاسیراں یا کنسنٹریشن کیمپوں میں بھی نہیں ہوتا ہوگا۔یہ وہ عمل ہے جس سے ہر ایک ماں،بہن،بیوی ،بیٹی اور خود ڈیوٹی پر متعین زنانہ ڈاکٹر بھی گذر جاتے ہیں۔مگر اس کے باوجود یہ بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ پن کیا معنی رکھتا ہے۔آنکھوں کا پانی بھلے ہی مر گیا ہو کیا دل بھی پتھر کا ہو گیا ہے‘‘(چلتے چلتے۔۔ص۔۔52 )۔
کسی بھی ملک کی تقدیر تبھی بدل سکتی ہے جب اس ملک کے نوجوان تعلیم کے نورسے منور ہو کر اپنے ملک کو ہر زوایے سے سنورانے میں مشعول رہیں۔نوجوان اپنے ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔قو م کا مستقبل نوجوانوں کی تعلیم سے منسلک ہوتا ہے۔ تمام والدین کو یہی فکر ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی تعلیم حاصل کر کے اپنی زندگی کے مقصد میں چار چاند لگائے جس کے سبب وہ اپنے والدین کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ملک یا خطے کی مانگ کو عزت سے مزین کرسکے ۔یہ ترقی جبھی ممکن ہے جب اس ملک کا تعلیمی نظام قابل ستائش ہو ۔جنت بے نظیر کو چھوڑ کر ملک کی دیگر ریاستوں میں تعلیمی نظام کسی حد تک بہتر ہے۔ اسی لئے یہاں کے سرمایہ دار اپنے بچوںکی تعلیم کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیںاوراپنے بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کیلئے ملک کی مختلف ریاستوں کوروانہ کرتے ہیںکیونکہ یہ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے یہاں کا تعلیمی نظام کب کا کھوکھلا ہوچکا ہے۔بقول شہزادہ بسمل:’’یہ بات کم لوگوںکو معلوم ہوگی کہ ابھی حال ہی میں بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے جو نتائج ظاہر کیے، ان میں بورڈکی جانب سے بچوںکے تیس پینتیس نمبرات گریس کے مل گئے۔حالانکہ مذکورہ ادارے پر ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں تھی مگر ارباب اختیارکیا کرتے،حالات ہی ایسے تھے۔بہر حال افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے بچوں کے ساتھ ان کے تعلیمی کیریئر کے ساتھ یابہ الفاظ دیگر قوم کے مستقبل کے ساتھ ہمیشہ کھلواڑ کیا ہے۔بچے نافہم یا کندہ ذہن نہیں ہیں مگر ظالم ہم خود ہی ہیں۔ہم نے پھولوں کو کانٹوں کی باڑھ لگا کر قید کیا ہوا ہے۔اس لیے یہ پھول نہ خوشبو پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی گھر یا محفل کی زیب و زینت ہی بننے کی پوزیشن میں ہیں‘‘(چلتے چلتے۔۔ص۔۔147 )
اکیسویں صدی سائنس کی صدی ہے۔ اس صدی میں سائنس نے ایسے تجربے کیے کہ انسانی عقل دنگ رہ گئی ۔جس سے انسانی زندگی کو کافی سہولیات میسر ہوئیں لیکن انسانی ذہن لالچ میں آکر اپنے مفادات کے لئے قدرت سے جنگ لڑنے پر آمادہ ہوا۔اس نے قدرتی وسائل کو آلودہ کر کے اپنے پائوں پر کلہاڑی مار دی جس کے سبب آج وہ خوراک کے لئے بھی غیروں پر منحصر ہے۔ایک پر کشش کالم ’’ماڈرن شیخ چلی ‘‘میں شہزادہ بسمل خون کے آنسو بہا کر رقمطراز ہیں:’’چونکہ گھنے جنگل ہونے سے کافی ساری برف پڑتی ہے اور بارش ہوتی ہے جس سے سال بھر پانی مہیا رہتا ہے اور کھیتی اور کاشتکاری کے لیے پانی ہے تو کھیت ہے،کاشتکاری ہے،زراعت ہے اور اناج کی فراوانی ہے۔یہ سب کہنے کی حاجت نہیں ہے۔یہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں مگر پھر بھی ہم چند سکوں ،چند دنیاوی مفادات اور سہولیات کے لئے قوم کی جڑیں کاٹ رہے ہیں‘‘۔(چلتے چلتے۔۔ص۔۔495 )
اسی طرح کالم ’’سیایونارا‘‘میں کشمیرکے تجارتی طبقے کی کردار سازی کو بے باکی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مذکورہ بالا کالموں کے علاوہ اور چناب بہتا رہا،ٹوٹے آئینے،کب سحر ہوگی،ہر سانس ترانے گائے،پھر میں کون ہوں ،بور کا دیا،زلف کے سر ہونے تک ،اندھیرے اجالے،سب کی پیاری،پیدائشی حق،نیلا تارا،آمد سے قبل شور آمد کا، زندگی کی شام،وناش کالی ،تصویر کا دوسرارخ،گولر کے پھول،السلام علیکم ، بلاعنوان ، زہر کے سودا گر،اسیر قفس،شب کے جاگے،ریت کی دیوار،بکھرے سپنے،ننگے حمام کے،قوم پرست نمبر ایک،آئو خودکشی کریں،عذاب مسلسل اور یہی زندگی ہے وغیرہ وغیرہ سیاسی ،سماجی اور تہذیبی موضوعات کی عکاسی کرتے ہیں۔کالموں میں استعمال کی گئی زبان دلکش ہونے ساتھ ساتھ آسان بھی ہیں جس سے قاری کو قرأت کرتے وقت کسی بھی منفی اندیشے کا سامنا نہیں کرنا پڑتااور نہ ہی اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ہر ایک کالم کی شروعات سے پہلے ایک خوبصورت شعر درج کیا گیا ہے۔ کتاب کی طباعت کا فی اچھی ہے۔قیمت بھی مناسب ہے۔ امید قوی ہے کہ یہ کتاب ادبی حلقوں میں مقبول ہوگی اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی،تشنگان ادب کی تشنگی کو دور کرے گی،نئے کالم لکھنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
پتہ ۔ رعناواری سرینگر کشمیر
فون نمبر۔9103654553