کوٹرنکہ//بلاک بدھل اور کوٹرنکہ کی 46 پنچایتوںمیں کروڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی تعمیرو ترقی نا کے برابرہے۔پنچایت حلقہ گھروٹ بی کی وارڈ نمبر 4 پڈھیار نالہ پر اگست 2016 میں منریگا کے تخت پل کا کام شروع ہوا تھا لیکن چار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد پل کا ایک ہی ستوں تیار ہوسکا۔ مقامی شخص شوکت چوہدری نے بتایاکہ کاغذی طورپل مکمل ہوچکا لیکن زمینی سطح پر ایک ہی ستوں بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پڈھیار نالہ سے سینکڑوں لوگوں کا ہر روز آنا جانا ہوتا ہے اور برسات کے موسم میں لوگ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر نالہ عبور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں اور راستوں کی خستہ خالی کی وجہ کے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔اسی طرح پنچایت حلقہ راج نگر اپر گھبر کے مقامی نوجوان محمد اشفاق نے بتایاکہ راج نگر اپر گھبر اور گلیرکے در میان دریابہتا ہے اور اس دریا پر پل نہ ہونے کی وجہ سے پندرہ سو کے قریب کے آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال نویں جماعت کی دو طالبات دریا عبور کرتے وقت بہہ گئی تھیں اور مقامی لوگوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر انکوبچا لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج بدھل کے علاوہ کوئی سات سکولوں کے بچوں، بزرگوں خواتین اور عام راہگیروں کا بھی آنا جانا اسی دریا سے ہوتا ہے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ و ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد از جلد گھبر دریا پر پل کا کام شروع کیا تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔