سری نگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ ممبر (ر)جسٹس حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ حد بندی کمیشن کے حوالے سے مرکزی سرکار کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات اور کوششیں مکمل طور ہمارے لئے غیر قانونی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس حوالے سے منعقدہ میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حد بندی کے حوالے سے پوری مشق ہمارے اصولوں کے برعکس ہے اور تیکنیکی وجوہات کی بنا پر وہاں ہم اپنی تجاویز بھی پیش نہیں کرسکتے تھے کیونکہ یہ مشق مکمل طور جمہوریت کی آئینی شقوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا دلی میں حال میں اس حوالے سے منعقدہ میٹنگ میں ہماری شرکت پوری غیر قانونی مشق کو قبول کرنے کے مترادف تھی کیونکہ اس سلسلے میں ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ پورا عمل غیر قانونی ہے اور ہم کسی بھی صورت میں اسکو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب آئین کو پامال کیا گیا ہے تو پھر ہم اس کے فریق کیسے ہوسکتے ہیں اور اگر ہم نے اس میں شرکت کی ہوتی تو پھر یہ طریقہ کار اس مشق کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی کررہے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم کسی غیر آئینی عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین کسی ریاست کو یونین ٹریٹری بنائے جانے کی منظوری نہیں دیتا ہے اور آئین کہتا ہے کہ ریاست کو اَپ گریڈ کرنا چاہیے یعنی اس کا درجہ بڑھانے کی بات کرتا ہے نہ کہ کسی ریاست کو ڈاؤن گریڈ کرنے کی آئین اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سیاست دان ان معاملات کے بارے میں بخوبی واقف نہیں ہیں اگر آپ اس عمل کا حصہ ہیں تو پھر آپ کو UT کی حیثیت کے بارے میں بھی سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے لہذا نیشنل کانفرنس نے اس کے بارے میں اپنا موقف برقرار رکھا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی اے جی ڈی ضلع ترقیاتی کونسل کے چیئر پرسن اور نائب چیئرپرسن عہدوں کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے دو دن کے اندر تمام اکائیوں کا اجلاس طلب کر رہا ہے۔