سرینگر //جموں و کشمیر میں کام کرنے والے نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہوموں میں مریضوں کو لوٹنے کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور عالمی وباء کے دوران اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہوموں کی لوٹ کھسوٹ کو روکنے کیلئے سرکار نے فروری 2012میں ریٹ لسٹ جاری کیا تھالیکن وہ عدالت کی جانب سے امتناع جاری ہونے کی وجہ سے لاگو نہ ہوسکا تاہم اب محکمہ صحت و طبی تعلیم کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ معاملہ پر پھر سے نظر ثانی ہوگی۔محکمہ صحت و طبی تعلیم نے 3فروری2012کو اپنے ایک حکم نامہ زیر نمبر 89-HME-of 2012کے تحت نجی کلنکوں، نرسنگ ہوموںاور اسپتالوں میں مریضوں کو فراہم کی جاننے والی خدمات ،جن میں علاج و معالجہ، جراحی،ٹیسٹ اور دیگر سہولیات کیلئے ایک مخصوص نرخ نامہ جاری کیا اور تمام نجی اسپتالوں کو نرخ نامہ کے مطابق مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کی ہدایت دی لیکن سرکار کا یہ حکم نامہ کبھی بھی لاگو نہ ہوسکا اور نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہوم مالکان نے اپنی من مانیا ں جاری رکھیں۔ افتخار خان نامی ایک مریض نے بتایا ’’ حالیہ دنوں میں ایک نجی اسپتال میں ڈاکٹر کو دیکھنے کیلئے 500روپے بطور فیس ادا کی، لیکن جب میں اسی ڈاکٹر کے نجی کلنک پر گیا ،تو مجھے وہاں صرف 200روپے بطور فیس ادا کرنی پڑی‘‘۔
سرکاری حکم نامہ میں زچگی کی جراحی و دیگرسہولیات کیلئے پرائیویٹ اسپتالوں کو صرف 10ہزار روپے لینے کا پابند بنایا گیا تھا لیکن وادی کے کسی بھی پرائیویٹ اسپتال میں اس طرح کی جراحی کیلئے 20000سے کم نہیں لیا جارہا ہے۔ حکم نامہ میں جنرل وارڈ میں زچگی کیلئے صرف 8ہزار روپے کے عوض تمام خدمات دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اعلیٰ اور معیاری سہولیات میں بڑی جراحی کیلئے 16ہزار روپے جبکہ جنرل وارڈ میں مریضوں کو صرف 14000روپے ادا کرنے ہونگے۔ لپرسکوپک(Laproscopic) جراحی کیلئے مریضوں کو 20ہزار روپے ادا کرنے ہونگے جبکہ جنرل وارڈ میں اس جراحی کیلئے 18ہزار یا 15ہزار روپے ادا کرنے ہونگے۔ جدید لپرسکوپک(Laproscopic) جراحی کیلئے 25ہزاراور اسی جراحی کو جنرل وارڈ میں کرانے کیلئے 22ہزار اور 20ہزار روپے ادا کرنے ہونگے۔
متوسط جراحی کرانے کیلئے 12ہزار جبکہ جنرل وارڈ میں کرانے کیلئے صرف 11اور 9ہزار روپے ادا کرنے ہونگے۔ حکم نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھوٹی جراحی کیلئے 4ہزار جبکہ جنرل وارڈ میں 3ہزار اور 2700روپے کی ریٹ رکھی گئی ۔
حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ Local anesthesiaکے ساتھ ختنہ کیلئے صرف 2ہزار روپے جبکہ General anesthesia کیلئے 3ہزار روپے ادا کرنے ہونگے ۔لیکن اس سرکاری حکم نامہ کو بالائے طاق رکھکر نجی اسپتالوں اور کلنکوں کے مالکان اپنے مرضی کے مطابق غریب مریضوں سے طبی خدمات کے عوض پیسے وصول کررہے ہیں اور عالمی وباء کے دوران مریضوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹتے رہے ۔پرائیوٹ اسپتال اور نرسنگ ہوم ایسوسی ایشن کے صدر جان محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ریاستی سرکار نے ایک ریٹ لسٹ جاری کیا تھا لیکن بعد میں اس کے خلاف امتناع جاری ہوا ‘‘۔ انہوں نے کہا’’ تب سے جموں و کشمیر سرکار کی جانب سے کوئی بھی ریٹ لسٹ جاری نہیں کیا گیا ہے‘‘۔محکمہ صحت و طبی تعلیم کے فائنانشل کمشنر اتل ڈلو نے بتایا ’’ اصل میں اس کیلئے کوئی بھی قانون موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے ریٹ لسٹ کے خلاف عدالت نے امتناع جاری کیا ‘‘۔ ا نہوں نے کہا ’’ ہم اس معاملہ پر پھر سے نظر ثانی کریں گے‘‘۔