سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ماضی میں بہت سارے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور اس جماعت نے یہاں کے عوام کے تعاون اور اشتراک سے بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ سرخرو ہوکر اُبھری ہے۔اِن باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ موجودہ ایام میں بھی جموں وکشمیر ایک بہت بڑے چیلنج سے دوچار ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم اس چیلنج میں بھی سرخرو ہوکر اُبھریں گے لیکن اس کیلئے ہمیں صبرو استقلال اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ 5اگست2019کے سیاہ دن نہ صرف ہماری شناخت، انفرادیت اور اجتماعیت پر غیر قانونی اور غیر آئینی ڈاکہ زنی کی گئی بلکہ اس کے بعد سے لیکر آج تک ایسے حالات برپا کئے جارہے ہیں جس سے یہاں کے لوگ ہر طرح سے محتاج بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا ہر ایک شعبہ اس وقت تنزلی کا شکار ہے اور حکمران بھاجپا تعمیر و ترقی اور امن و امان کے بڑے بڑے دعوے کررہی ہیں لیکن زمینی سطح پر ان لوگوں نے کشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ بھاجپا والے یہاں تعمیر و ترقی کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں اور فریبی نعرے دے رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر سب کچھ اس کے عین برعکس ہے۔ساگرنے کہاکہ مرکزی حکومت ترقی کے دعوے کررہی ہیں لیکن تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں۔ مسلسل 2سال بند رہنے سے یہاں بے روزگاری ایک بہت ہی سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ جموں وکشمیر میں اس وقت بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے اور حکومت اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوزنہیں کررہی ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ اور کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاتعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عمر کی حد یںپار کر گئے ہیں جبکہ بہت سارے اس حد کو پہنچنے کے قریب ہے۔ ساگر نے کہا کہ گذشتہ برسوں سے جاری غیر یقینیت اور بے چینی سے یہاں کا نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوا اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نئی پود کو مزید پشت بہ دیوار کر کے رکھ دیا ہے ۔دوہرے لاک ڈائون سے یہاں کا پرائیویٹ سیکٹر بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا صنعتی سیکٹر تباہی اور بربادی کے دہانے پر آپہنچا ہے۔ اقتصادی بدحالی نے لوگوں کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور حکمران لوگوںکو راحت پہنچانے کے بجائے نت نئے حربے اپنا کر لوگوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔