شِو راتری ہندوئوں کا ایک مذہبی تہوا ر ہے ۔ دنیا میں رہنے والے تمام ہندو اس تہوار کو بہت جوش و خروش کے ساتھ رات بھر کی پوجا پاٹھ میں مناتے ہیں۔اس مذہبی تہوار’ شِویاتری ‘کو’ہَر راتری ‘بھی کہتے ہیںجبکہ کشمیر ی عام اصطلاح میںاسے ’’ہیرَتھ‘‘کہا جاتا ہے۔ہیرَتھ دراصل ’’ہَر راتری‘‘کا بگڑا ہوا کشمیری روپ ہے۔شِو راتری کے لفظی معنیٰ’ شِو کی راتری ‘یا ‘بھگوان شِو کی رات ‘ہیں۔شِو کے معنی کلیان،امن ،شانتی ،خوشحالی اور بہتری کے ہیں۔یہ رات کلیان و خوشحالی کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔اس رات کو جاگرن کرنا اور رات بھر بھگوان کی یاد میں پوجا پاٹھ کرنا ،آرادھنا اور دھیان میں گزارنا انسان کے لئے توفیق و برکت اور خوشحالی کی ضمانت مانا جاتا ہے۔اس رات مذہبی کتابوں کا مطالعہ اور عالمِ انسانیت کے لئے بلا لحاظ مذہب و ملت ،قوم اور ملک کی بہتری ،خوشحالی ،امن و امان اور بھلائی و اچھائی کیلئے بھگوان سے پرارتھنا (دعا)کرنا ایک سچے ہندو کا فرض بن جاتا ہے۔چونکہ ایک ہندو عبادت اور پوجا پاٹھ کے آخر پر خدائے برتَر مالکِ دو جہاں سے اِن الفاظ سے التجا کرتا ہے:
سروے بھونتو سُکھنا ،سروے سنتو نِرامیہا۔یعنی میرے بھگوان! سب سُکھی ہوں،سب صحت مند ہوں،کسی بیماری میں مبتلا نہ ہوںاور کسی کو کسی قسم کا دُکھ نہ ہوں۔اس پرارتھنا پر ہر ایک کے لئے بھلائی کی دعا کی جاتی ہے جبکہ آخر پر یہ دعا بھی کی جاتی ہے ،وہ ہے :
راجا سُستے،پرجا سُستے ،دیش سُستے ،تتھَے وچہَہ
یعنی مُلک کا راجا ہر طرح سے خوش ہو ،سُکھی ہو اور بے غم ہو ۔رعایا (پرجا) بھی ہر طرح سے سُکھی ہو ،خوشحال ہواور بے غم ہو ،اور دیش (مُلک)بھی خوشحال ہو ،ہر طرح سے کامیاب و کامران ہو۔یہاں پر بھی مُلک اور قوم کے لئے بلا لحاظ مذہب و ملت ہر ایک بنی نوع انسان کے لئے دعا کی جاتی ہے اور یہی اس رات اہمیت ،خصوصیت اور تقدس ہے۔
اب سماجی طور پر اس تہوار کو منانے کے کچھ ایسے طریقے ہیں ،جن سے اس متبرک دن کے تقدس کو بڑھاوا ملتا ہے ۔یہاں پر میں کشمیر کے سماجی رسم و رواج کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔کشمیری پنڈت جوکہ تمام کے تمام برہمن ہیں ،اس روز اپنے گھروں کو پھاگُن مہینے کے اندھیرے پکھواڑے کی پہلی تاریخ یعنی اوکدہ سے صفائی کا آغاز کرتے ہیں۔مکانوں کی لِپائی ،صفائی ،رنگ و روغن کے علاوہ کپڑوں وغیرہ کو دھونے اور دُھلانے کا کام شروع ہوتا ہے اور اس پکھواڑے کی تیرویں تاریخ کو شِو راتری کا مُتبرک تہوار منایا جاتا ہے۔شِو راتری کے اس تہوار کو منانے کا تذکرہ کشمیر کی سب سے قدیم تواریخ ’’نیلمت پران‘‘میں ملتاہے۔کشمیر وادی میں یہ تہوار ہزاروں سال پہلے یعنی ستی سَر میں بستی کے آباد ہونے کے وقت سے منایاجاتا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس تہوار نے قومی یکجہتی کی شکل بھی اختیار کی ہے۔دوسرے مذاہب کے لوگ خصوصاً مسلمانوں کے بڑے بڑے مذہبی تہواروں یعنی دو عیدوں اور عید ِمیلادوغیرہ کے موقعوںپر، جس طرح ہندو بھی خوشی کا اظہار کرکے اپنے ہم وطنوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اُن کی خوشیوں میں شامل ہوجاتے ہیں، اُسی طرح کشمیر میں اکثریت یعنی مسلمان بھائی اپنے ہندو بھائیوں کو اس مُتبرک تہوار کے دوسرے دن یعنی رات کے وقت پوجا پاٹھ سے فارغ ہونے کے دن مبارک دینے کے لئے ہندوئوں کے گھر وں میں جاتے ہیںاور دعا و سلام پیش کرتے ہیں۔کئی صدیوں سے اس دوسرے دن کو عام کشمیری اصطلاح میں ’سلام‘ کہتے ہیںیعنی یہ دوسرا دن دعاو سلام کا دن تصور کیا جاتا ہے۔آج تک یہ ملی جُلی رسم و روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے جوکہ ہماری قومی یکجہتی اور آپسی میل و ملاپ اور بھائی چارے کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
بھگوان شِو سے دعا ہے کہ ہماری یہ روایت اور ہمارا یہ قومی ورثہ ہم سبھوں کے لئے ،ہمارے مُلک اور ساری دنیا کے لئے مسرت ،شادمانی ،خوشحالی اور سُکھ کا پیغام لائے۔کئی ہندوشِو راتری کو بھگوان شِو کی شادی (وِواہ) کی رات سے بھی منسوب کرتے ہیں اور گھروں میں ہر طرح کے دیوی دیوتائوں کا آواہن (استقبال)کرنے کے لئے مختلف روایات کے مطابق مختلف قسم کے برتنوں کوترتیب دیتے ہیں ۔ایک گھڑے میں اخروٹ بھرتے ہیں ،دوسرے برتنوں میں بھی مختلف قسم کی دوسری پاکیزہ و شفاف اشیاء بھر کر پوجا پاٹھ کرتے ہیں ،دو دو تین تین دن (اپنی اپنی نجی روایات کے مطابق)پوجا پاٹھ کے بعد وِسرجَن(الوداع)کیا جاتا ہے ۔مختلف برتنوں کے اس رکھ رکھائو اور سجاوٹ کو ہندو اصطلاح میں وٹَک کہا جاتا ہے اور اس رسم کو’’ وَٹک راز بھرنا‘‘ یا’’ وَٹک بھرنا‘‘ کہتے ہیں ۔آخری دن ان پانی میں رکھے ہوئے اخروٹوں کو تبرُک یعنی نوید کے طور پر رشتہ داروں ،ہمسایوں اور دوستوں وغیرہ میں بانٹا جاتا ہے اورخوشحالی ،سُکھ و شانتی کی دعا کی جاتی ہے۔
کشمیر کے ایک مشہور و معروف مسلمان حاکِم علی مردان خان نے اس وَٹک کا درشن خواب میں کیا اور فارسی زبان میں دعا (نعت) یا ’لیلا‘قلم بند کی ہے جوکہ صدیاں گذر نے کے بعد بھی زندہ و جاوید ہے اور جس کا مطلع ہے:
اوما اصل مہیشور بود
شب شاہے کہ من دیدم
یعنی ،میں نے اوما اور مہیشور (بھگوان شِو اور اُن کی رفیقِ حیات اُوما)کے درشن آج کی رات میں کئے۔اسی طرح ایک اور واقعہ کا ذکر بھی کرنا برمحل ہوگا کہ روپہ بھوانیؔ کے والد مادھو جودھر ؔ کو نوا کدل کے اُس پار اُس وقت کے مسلمان قلندر اور محویتِ خدائی میں مست ٹھگ باؔبا صاحب نے شِو راتری کے دن اپنے مکان کے ایک کمرے میں ہی بھگوان شِو ،اُوما اور اُس کے پریوار (کنبہ)کے تمام افراد کے درشن کئے۔یہ ہے ہماری شِو راتری کا تقدس اور قومی یکجہتی کی اہمیت۔
ٍرابطہ۔سریتا ویہار ،نئی دہلی
فون نمبر۔9871034686