ترال//ترال قصبے میں قائم تمام آٹھ سرکاری اسکول نجی عمارتوں میں قائم ہیں اور یہاں طلاب اور اسکول عملہ کو اس وجہ سے گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اگرچہ تعلیمی اداروں کے ڈھانچوں کو بہتر بنانے کے دعوے کررہی ہیں،لیکن ترال قصبے میں قائم تما م سرکاری اسکول اس کے بغیر ہیں۔ دستیاب اعداد شمار کے مطابق قصبے میںقائم پرائمری سکول نور آباد ترال پائین، پرائمری سکول باگندر ترال پائین نجی عمارت میں قائم ہونے کے علاوہ ایک ایک کمرے میں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں زیر تعلیم بچوں کے علاوہ تعینات عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پرائمری سکول کنڈ ستان،ایم پی ایس تاج محل ترال پائین کرایہ کے تین کمروںپر مشتمل ہیں ۔گورنمنٹ جی ای ایس برنتل ترال کام نہیں کر رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سکول اپنی عمارت قائم نہیں ہے۔پرائمری سکول شریف آباد ترال پائین کو بائز مڈل سکول آری گام کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ لوگوں کے مطابق یہاں بھی سکول عمارت نہیں تھی جس کی وجہ سے ان سکولوں میں لوگوں نے بچوں کو داخل کرانا بند کر دیا ۔اسی طرح سے جی پی ایس کوثر بل ترال پائین کو بی ایم ایس ترال پائین کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے یہاںبھی سکول کو بہتر جگہ دستیاب نہیں تھی۔ یو پی ایس ترال پائین جو ایک نجی عمارت میں پہلے قائم تھا کو چند سال پہلے بی ایم ایس ترال پائین کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے جبکہ مذکورہ تعلیمی ادارہ ایک نجی عمارت میں کام کر رہا ہے ۔ ترال پائین ایک بڑے علاقے پر مشتمل ہے جو8میونسپل واڑوں پر مشتمل ہے اوریہاں آج تک کسی بھی حکومت نے ایک بھی سرکاری سکول کی عمارت تعمیر نہیں کی جس کی وجہ سے یہاں کے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔ایک مقامی سماجی کار کن غلام محمد کانٹرو نے بتایا ،سرکار ایک طرف بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرنے زور دیتی ہے، دوسری جانب یہاں مرکزی قصبے میں قائم ایک بھی سکول کی اپنی عمارت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا جہاں اب اسکول کرایہ کی عمارت میں قائم ہیں، وہاں بھی معقول جگہ نہیں ہے جس کی وجہ سے بچوں اور سکولی عملے کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ایک مقامی شہری ریاض احمد نے بتایا ہم مزدور پیشہ لوگ ہیں ہم اپنے بچوں کو شوق سے نجی تعلیمی ادروں میں داخل سے نہیں کرتے بلکہ یہاں سکول برائے نام قائم ہیں ۔انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود سرکاری اراضی پر تعلیمی اداروں کو قائم کیا جائے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی پی سرکار نے جن تعلیمی اداروں کو یکجا کیا تھا، انہیں اب سرکار نے دوبارہ اپنی جگہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔اگر چہ لوگ اس فیصلے سے خوش ہیں ،مگر ترال قصبے میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی ایک عمارت بھی نہیں ہے ۔