نیویارک //اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش میں آتشزدگی کے حالیہ واقعے میں اپنی جھونپڑیوں سے محروم ہو جانے والے ہزاروں مہاجرین کی رہائش گاہوں کی تعمیر نو کے لیے 14 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے مزید کہا ہے کہ اس امدادی رقم سے اس علاقے کے رہائشیوں کو پینے کا صاف پانی، غذا، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے لیے ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی آپریشن اور متشدد مذہبی گروپوں کے حملوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے بنگلہ دیش کی سرحد کی جانب سے ہجرت کی تھی۔میانمار کی فوج کی زیر قیادت کیے گئے آپریشن کے بعد تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش میں سرحد پر واقع کیمپوں میں پناہ لی تھی۔اقوام متحدہ نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ فوجی کارروائی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور حکومت میں شراکتی فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔گذشتہ دنوں بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 560 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے تا حال 400 افراد لاپتہ ہیں۔ 45 ہزار سے زیادہ پناہ گزین اپنی رہائش سے محروم ہو چکے ہیں۔