ڈوڈہ //ڈوڈہ کے دیہی ترقی بلاک کاہرہ کی پنچائت ٹانٹا میں مقامی لوگوں نے منریگا اسکیم میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے ملازمین نے ملی بھگت کرکے مستحق و مزدور طبقہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔گاؤں کے لوگوں کے مطابق محکمہ کے ملازمین کی مالی بدعنوانی سامنے آنے کے بعد انہوں نے حق اطلاعات قانون کے تحت تین ماہ قبل کاموں کی تفصیل مانگی تو محکمہ آج تک ٹال مٹول کرتا رہا، اس کے بعد گاؤں کے چند لوگوں نے حال ہی میں ایل جی کے گریونس سیل و ویجی لینس آرگنائزیشن کے پاس الگ الگ شکایات درج کروائی ہیں۔ٹانٹا گاؤں سے آئے ایک وفد زیر قیادت شاہ محمد ماگرے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 2016 سے لے کر تاحال منریگا کے تحت مکمل ہوئے کاموں کے مٹیریل کی لاکھوں روپے بلیں زیر التواء پڑی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ کے ملازمین نے چند اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے مٹیریل کی رقم نکال کر ہڑپ کی ہے اور جن لوگوں نے وہ کام کئے ہیں ان کو محروم رکھا گیا ہے۔ وفد میں شامل بابر نفیس و شبیر احمد نے کہا کہ جب بھی محکمہ سے اس بارے میں رجوع کیا جاتا ہے تو ملازمین غریب عوام کو باہر کا راستہ دکھاتے ہیں۔ بابر کے مطابق رواں سال کے ماہ جنوری کی گیارہ تاریخ کو بی ڈی او کاہرہ کے پاس آر ٹی آئی ڈالی ہے لیکن ابھی تک ریکارڈ نہیں دیا گیا ہے۔آر ٹی آئی کے ذریعے پنچائت ٹانٹا میں 2016 سے 2021 تک منریگا کاموں کی فہرست و رقومات واگذار کرنے ،چار سال میں منریگا بجٹ کی مجموعی رقم، مٹیریل سپلائر کی تفصیل مانگی گئی ہے. دو ماہ کے بعد انہوں نے اے سی ڈی کے پاس اپیل دائر کی ہے۔وفد کے مطابق محکمہ کے رویہ سے تنگ آکر انہوں نے کچھ روز قبل ایل جی کے گریونس سیل و ویجی لینس آرگنائزیشن میں آن لائن شکایات درج کروائی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایل جی انتظامیہ و ویجی لینس آرگنائزیشن کی چھان بین کے بعد ہی مستحق لوگوں کو انصاف ملے گا۔ اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کاہرہ انجینئر نعمت اللہ شیخ سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پنچائت میں منریگا اجرتوں کی کوئی بقایاجات نہیں رہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مٹیریل کا 2017 و 18 کے علاوہ باقی جو بھی رقم آئی ہے وہ پنچائتی نمائندگان کے سپرد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مٹیریل کی رقومات پنچائتوں کے ذریعے واگذار کی جاتی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کی کوئی شکائت رہے ہوگی وہ براہ راست دفتر میں ثبوت کے ساتھ آسکتے ہیں۔آر ٹی آئی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص کو کاغذات کا خرچہ جمع کر کے ریکارڈ حاصل کرنے کے بارے میں تحریری طور پر لکھا ہے۔