کہاآپریشن آل آئوٹ اور جموںوکشمیر کی تقسیم کے بعد بھی کوششیں بار آور ثابت نہ ہوسکیں
جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جی اے میر نے کہاکہ 'آپریشن آل آؤٹ' جیسے انسداد عسکریت آپریشن یا تبدیلیاں (5 اگست ، 2019 کی آئینی تبدیلیاں) کوئی نتیجہ برآمد کرنے میں ناکام رہیں جو حکومت کے دعوئوں کے منافی تھے کیونکہ 1990 کی دہائی سے اب تک فعال عسکریت پسندوں کی تعداد 250 پر برقرار ہے۔جی اے میر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا"حکومت نے 5اگست کے فیصلوں کی یہ وجہ بتائی تھی کہ جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد سب کچھ کنٹرول میں ہوگا۔ تاہم میں حیران ہوں کہ گورنمنٹ چینلز اس پر بات نہیں کرتی ہیں‘‘۔میر نے کہا "میں حیران ہوں ، اگر آپ جموں و کشمیر پولیس کے ڈی جی پی کے اس بیان کو سنیں جو انہوں نے 15 دن قبل دیا یا 1990 کے بعد سے جموں و کشمیر پولیس کے ہر ڈی جی پی کے سالانہ بیانات دیکھیں تو ان سب نے دعوی کیا تھا کہ اب بھی 250 سرگرم عسکریت پسند موجود ہیں "۔انسداد عسکریت پسندی آپریشن کی کامیابی پر بالواسطہ طور پر سوال اٹھاتے ہوئے میر نے کہا: "ہم آل آؤٹ کرتے ہیں ، فنش آوٹ رتے ہیں ، اور ہم ان (عسکریت پسندوں) کے خاتمے کے لئے تمام پروگرام بھی کرتے ہیں۔ لیکن سال کے آخر میں ہم اب بھی سنتے ہیں کہ 250 سرگرم عسکریت پسند ہیں‘‘۔ان کا کہناتھا’’وہ باقی ملک میں جموں و کشمیر کا دوسرا چہرہ دکھاتے ہیں کہ تبدیلیوں کے بعد ہم نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے۔ لیکن اپنے بیان میں ڈی جی پی ، جو مجھ سے نہیں بلکہ مر کزی حکومت سے تعلق رکھتا ہے ، کہتے ہیں کہ 250 عسکریت پسند موجود ہیں اور 200 کے قریب جموں و کشمیر کے اس طرف لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دوسری طرف انتظار کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ "آل آؤٹ یا فائنش آؤٹ جیسے آپریشن کچھ نہیں کرینگے"۔میر کا کہناتھا’’مختلف فورموں پر میں نے بار بار کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک انتہائی حساس خطہ ہے۔ جب تک حکومت جموں و کشمیر کے بارے میں پالیسی انکشاف نہیں کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لئے کیا اقدامات اٹھارہی ہے "۔انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی کارکنوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیاسی کارکن دوبارہ شکار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ وقت آگیا ہے جب حکومت ہند کو دوسرے تمام لوگوں (بالواسطہ اسٹیک ہولڈرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کے ساتھ مل کر لوگوں کی ترقی کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔