سرینگر//کشمیرمیں کووِڈ- 19کی دوسری لہر کے دوران ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر نے خبردارکیا ہے کہ نئی لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک اوربدترثابت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا ،’’وباء کی دوسری لہر یں ہمیشہ سخت ہوتی ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا ،’’ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ کیسے 1918میں سپینش فلو کے وباء کی دوسری لہرپہلی سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی تھی ۔پہلی لہر موسم بہار میں شروع ہوئی تھی جو نسبتاًمعمولی تھی لیکن دوسری لہرموسم خزان میں شروع ہوئی جس نے پچاس کروڑ لوگوں کومتاثر کیاتھااوردنیابھرمیںپانچ کروڑ لوگ اس سے ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ- 19اسی طرز پرچل رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں کورونا کی دوسری لہرپہلے سے زیادہ شدید تھی۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس وقت کشمیر کووِڈ کی دوسری لہر کی پکڑ میں ہے اور کورونا کے معاملات اور اسپتالوں میں داخلوں کے کیسوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ڈاکٹر نثار نے کہا،’’اگر ہم نے بروقت اقدامات نہیں کئے تو ہمیں گزشتہ برس کی طرح ہی کی صورتحال کاسامنا کرنا پڑے گا اور گزشتہ برس جو ہم نے دیکھا وہ اس سے بھی بدتر ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں آبادی کی کثیرتعدادکواب بھی کوروناوائرس لگنے کاخطرہ ہے اور یہ وائرس وہاں ہی جائے گا جہاں اسے جگہ دی جائے اور جن لوگوں کو انفیکشن لگنے کا خطرہ ہو،انہیں یہ اپنا شکار بنائے گا۔ ڈاکٹرنثار نے کہا ،’’لوگ اب وباء سے تھک چکے ہیں ،وہ پابندیوں،ماسک پہننے ،اہلخانہ اور دوستوں سے دور رہنے سے تنگ آ گئے ہیں اور نئے معمولات سے وہ زیادہ سے زیادہ اُکتا گئے ہیں۔انہوں نے احتیاط کو ترک کیا ہے۔بہت سے لوگوں نے ماسک پہننا چھوڑ دیاہے اوروہ سماجی دوریوں کابھی لحاظ نہیں کرتے۔اس طرح وہ وائرس کے ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کی راہیں ہموار کرتے ہیں جس سے یہ وباء ایک بار پھر پھوٹ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی لہر کو وائرس کی نئی ہیت اور بھی زیادہ بدتر بنائے گی ۔انہوں نے کہا کہ وائرس کی کچھ نئی ہیتیں زیادہ متعدی ہوسکتی ہیں یامہلک بھی ہوسکتی ہیں حتی کہ ان پر ادویات یا ویکسین کا بھی اثر نہیں ہوسکے گا۔ڈاکٹرنثار نے کہا،’’ہمیں سہل انگاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ ابھی تک دوسری لہر میں کیسوں کی شدت اور اموات کی شرح پہلے سے کم ہے۔دوسری لہر بزرگوں سے زیادہ جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اورکئی ہفتوں بعدان میں سے بہت اپنے بزرگوں کو یہ وائرس منتقل کریں گے اور جب ایساہوگا تو شدیدبیماری اور اموات میں اضافہ ہوگا۔