جسمانی طور ناخیزافراد کی سہولت کیلئے بھی اقدام کرنے کی ہدایت
سرینگر// محکمہ سماجی بہبودہر سطح پر فرائض کی ادائیگی کے دوران مستحقین کو سہولیت فراہم کرنے کے لئے انسان دوستی کا طریقہ اپنائیں تاکہ معاشرے کے کمزورطبقے کو سکون محسوس ہو۔ درخواست دہندگان کو مختلف سکیموں سے استفادہ کرنے کے لئے اسناد اور دستاویزات جمع کرنے کے لئے پوسٹ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر نے اِن باتوں کا اِظہار سول سیکرٹریٹ سری نگر میں سوشل ویلفیئر اور آئی سی ڈی ایس محکموں کے افسران کی ایک روزہ میراتھن میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔میٹنگ میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بشیر احمد ڈار ، ایگزیکٹیوڈائریکٹر ری ہیبلٹیشن سینٹر اشفاق احمد ، مشیر کے او ایس ڈی محمد اَشرف حکاک ، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس بلقیس ، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر سری نگر اور تمام ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر اَفسران نے شرکت کی جبکہ بذریعہ ورچیول موڈ ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس شبنم کاملی ، ڈائریکٹر پلاننگ عمیرہ شفت اور ڈائریکٹر فائنانس انیل نے میٹنگ میں حصہ لیا۔مشیر فاروق خان نے محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے مختلف سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ اولڈ ایج پنشن درخواست دہندگان کو خود سے اسناد اکٹھا کرنے کو نہ کہا جائے بلکہ ضلعی دفاتر درخواست گزار کے مطلوبہ اسناد اکٹھا کرنے کے لئے طریقہ کار اپنائیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ طویل مدت کے لئے فائلوں کے غیر ضروری ڈھیر لگنے سے بچنے کے لئے کیس پروسسنگ کی رفتار متحرک ہونی چاہئے۔اُنہوں نے تمام نئے معاملات کو وقت پر مہینے میں مکمل ہونا چاہیئے ۔اُنہوں نے کہا کہ رقم کی فراہمی کا بروقت عمل ایس ڈبلیو ڈی کی اوّلین اور فوری کوشش ہونی چاہیئے تاکہ مستحقین کو بروقت خدمت کی جائے گی۔مشیر نے ایس ڈبلیو ڈی کے ذریعہ سکالرشپ اور میرج اسسٹنٹ سکیموں کی عمل آوری کا بھی جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اقلیتی سکالرشپ میں تین سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے اور یہ رقم بروقت مستحقین کو منتقل کردی جاتی ہے۔ تاہم شادی بیاہ معاونت کے بارے میں مشیر موصوف کا جانکاری دی گئی کہ ان معاملات کو بروقت نمٹایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سروے میں تغیر کی وجہ سے ضمنی فہرست میں منظوری کے معاملے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔مشیر نے ایس ڈبلیو ڈی کے ذریعہ قائم یتیم خانوں کی حیثیت اور ان اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے داخلے کا بھی جائزہ لیا۔ مشیر فاروق خان کو جانکاری دی گئی کہ محکمہ نے ضلع اننت ناگ میں گرلز یتیم خانہ قائم کیا ہے جہاں تمام جدید سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ مزید انھیں بتایا گیا کہ یتیم خانوںمیں یتیموں کو ہنر مندی کی تربیت دینے کے لئے کمپیوٹر لیب سے لیس کیا جائے گا۔مشیرموصوف نے کہا کہ اننت ناگ کے گرلز یتیم خانے کے مرکز میں دستیاب بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات میسر ہیں اور اپنے اپنے اضلاع میں افسروں پر اسی طرز کے مراکز قائم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یتیم خانہ ، مہیلا شکتی اور او ایس سی مراکز جدید خطوط پر آرٹ کی سہولیات کے آغاز کے ساتھ ترقی کریں گے۔
اس سلسلے میں اننت ناگ یتیم خانے کو دوسرے اداروں کے لئے ایک ماڈل کے طور پر لیا جانا چاہئے۔مشیر فاروق خان نے جسمانی طور ناخیز افراد کو فراہم کئے جارہے بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کی تمام عمارتوں کے پاس ریمپ اینڈ لفٹ ہونا ضروری ہے اور تمام سرکاری عمارتوں میں ریمپ کی تعمیر کے لئے ایک سرکلر جاری کیا جائے تاکہ دفاتر کو ہینڈی کیپٹ فرنڈلی بنایا جاسکے۔اسی طرح انہوں نے بینائی سے محروم افراد اور ذہنی طور کمزورافراد کو مختلف سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اہل افراد میں سے ہر ایک طبقہ کو مرد اور خواتین گروپوں کی علیحدگی کے ساتھ مختلف بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔مشیر نے آئی سی ڈی ایس ڈیپارٹمنٹ کے کام کاج اور بچوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے مختص سکیموں کا بھی مجموعی جائزہ لیا۔مشیر کو بتایا گیا کہ اس وقت صوبہ کشمیر کے آنگن واڑی مراکز میں61 مختلف آئی سی ڈی ایس سینٹر سرگرم عمل ہیں۔انہیں یہ بھی جانکاری دی گئی کہ مجموعی طور پر 14,256 اے ڈبلیو سی فعال ہیں جن میں 6 ماہ سے 6 برس تک کی عمر کے 3,86,471بچے داخل ہیں۔اس کے علاوہ 95,013 حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں نے بھی اندراج کیا ہے۔
ڈبلیو سی کے ذریعہ 06 ماہ سے6 برس تک کی تکمیلی غذائیت کے لئے 388761مستحقین ، حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو تغذیہ فراہم کیا جارہا ہے۔مشیر کو اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ صرف 231 اے ڈبلیو سی ایس بیت الخلاء اور 227 اے ڈبلیو سی پانی کی فراہمی کے بغیر ہیں۔اس موقعہ پر مشیر نے متعلقہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ جل جیون مشن کے تحت تمام اے ڈبلیو سی کو کور کرنے کے علاوہ وہاں داخل بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے یوٹیلیٹی سہولیات فراہم کریں۔یہ بھی بتایا گیا کہ دودھ پلانے ، متوازن غذا ، حفظان صحت ، اضافی خوراک ، کیڑے مارنے ، کووِڈ اور دیگر اہم مضامین کے بارے میں پیغام تقسیم کرنے کے لئے پوشن ابھیان کے تحت ماہانہ پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔گزشتہ مالی برس میں سری نگر ، بڈگام ، اننت ناگ اور پلوامہ میں لاڈلی بیٹی کے تحت 19246 معاملات کی منظوری دی گئی تھی اور 1157 پر کام جاری ہے۔ لاڈلی بیٹی سکیم کے مطابق ان چار اضلاع میں 14 برس کی عمر تک ایک بچی کے کھاتے میں ایک ہزار روپے جمع ہیں۔ یہ سکیم ان اضلاع کے جنسی تناسب کو بہتر بنانے کے لئے بنائی گئی تھی۔