شوپیان// شوپیان ضلع ہیڈ کوارٹر کے تحصیل امام صاحب میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان پیر کی سہ پہر خونریز معرکہ آرائی کے دوران 2مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔ مسلح تصادم آرائی کے آغاز کیساتھ ہی ضلع میں موبائل انٹر نیٹ سروس بند کی گئی۔یہ ماہ رمضان میں پہلی مسلح جھڑپ ہے۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بعد دوپہر انہیں زی پورہ امام صاحب نامی گائوں میں کم سے کم 2جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے فوراً بعد34آر آراور178سی آر پی ایف کی مدد حاصل کی گئی اور گائوں کا محاصرہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تلاشی کارروائی کی توجہ ایک مخصوص بستی پر رکھی گئی جہاں جنگجوئوں کی موجودگی کا شبہ تھا۔پولیس نے بتایا کہ ایک مکان میں جنگجو چھپے بیٹھے تھے، جنہیں سرنڈر کرنے کیلئے کہا گیاس لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ بعد میں جب آپریشن شروع کیا گیا تو جنگجوئوں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی۔ اسکے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا، جس کے دوران شام سے قبل پہلے ایک جنگجو جاں بحق ہوا اور بعد میں دوسرا جنگجو بھی مارا گیا۔انکی تحویل سے ایک اے کے47 رائفل اور ایک پستول بر آمد کیا گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگجو پہلے ایک میوہ باغ میں تھے اور جب فورسز نے ناکہ بندی کی تو وہ ایک مکان میں چھپنے کی کوشش کرنے لگے لیکن گولیوں کے تبادلے کے دوران ہی وہ مکان سے باہر آئے، جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا جس کے دوران دونوں جنگجوجاں بحق ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کارروائی میں ایک رہائشی مکان کو جزوی طور نقصان پہنچا۔شام دیر گئے تک یہاں محاصرہ اور تلاشی کارروائی جاری تھی، تاہم رات قریب ساڑھے سات بجے آپریشن ختم کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق جاں بحق جنگجوئوں میں عامر احمد بٹ ساکن ملی بگ امام صاحب شوپیان اور سبزار احمد ساکن سہہ پورہ کولگام شامل ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر انکی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق25سالہ عامر بٹ ولد محمد یوسف بٹ نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ 29نومبر2020سے لاپتہ تھا۔سبزار احمد گنائی ولد محمد امین گنائی ساکن ہیر پورہ سہہ پورہ کولگام 9مئی 2019سے لاپتہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سبزار جنگجوئوں کا کمانڈر تھا ، جو قریب 2سال سے سرگرم تھا۔
کہلیل ترال میں گھر گھر تلاشیاں
سید اعجاز
ترال// کہلیل ترال کی ایک بستی کوفورسزنے محاصرہ میں لیکر تلاشیاں لیں۔ جنگجوئوںکی موجودگی کے حوالے سے خفیہ اطلاعات کے بعد ایس او جی ترال، سی آر پی ایف اور 42 آر آر نے مشترکہ طورپر لعل پورہ کہلیل ترال کا محاصرہ کیا ۔مقامی لوگوں نے بتایا فورسز کی بھاری نفری کو داخلی اور خارجی راستوں پر بٹھا دیا گیا اور خانہ تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔تاہم بعد میں محاصرہ ہٹا دیا گیا۔