سرینگر//بڈگام میںحکام نے ایک نجی اسکول کو چھٹی جماعت سے آگے کی جماعتیں پڑھانے سے منع کیا ہے جبکہ حکام نے معائنے کے دوران پایا کہ اسکول میں چھٹی جماعت سے آگے کی کلاسوں کی تعلیم بغیر اجازت کے ضوابط کے خلاف دی جارہی تھی۔مامتھ میں ایک نجی سکول کوچیف ایجوکیشن افسر بڈگام نے نوٹس میں کہا ہے کہ اسکول کو عارضی طور2019میں پانچویں جماعت تک پانچ برس کیلئے درس وتدریس کی اجازت دی گئی تھی۔تاہم نوٹس میں کیا گیا ہے کہ موقعہ پر کئے گئے محکمہ تعلیم کے حکام نے دورے کے اسکول میں نویں جماعت تک تعلیم ضابطوں کے خلاف رجسٹریشن کے بغیر دیئے جانے کی تصدیق کی۔اس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ فیس کا تعین کرنے والی کمیٹی کے احکامات کی بھی عدولی کے الزامات تھے۔چیف ایجوکیشن افسر نے کہا کہ اگرچہ اسکول نے اس سال22جون کو ڈائریکٹر ایجوکیشن کشمیر سے رجوع کیاتھاتاکہ اسکول میںآٹھویں جماعت تک تعلیم دی جائے ،اس نے ان برسوں کے دوران چھٹی جماعت سے لیکرنویں جماعت تک اسکول میں بغیر اجازت تعلیم دیئے جانے کی تصدیق کی ۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کی تحریری نمائندگی کے پس منظر میں ڈائریکٹر ایجوکیشن کشمیر نے اس دفتر کو ہدایت دی ہے کہ اسکول کا معائنہ کیاجائے اوریہاں پرقواعدکے مطابق چھٹی جماعت سے آگے تعلیم دیئے جانے یانہ دیئے جانے سے متعلق سفارش کی جائے۔اس میں کہاگیا ہے کہ معاملہ زیرغور ہے اورآئندہ دنوں میں قواعد کے تحت محکمہ کے حکام کی کمیٹی اس کی جانچ کرے گی۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو اسکول میں چھٹی جماعت سے آفے تعلیم دینے سے گریز کرنے صلاح دی جاتی ہے اور صرف پانچویں جماعت تک ہی تعلیم محدود رکھی جائے۔ان احکامات کی عدولی پرسخت کارروائی کی جائے گی۔