(ترجمہ)’’اوراسی طرح ہم نے تمہیں بہترین اُمّت بنایاہے تاکہ تم لوگوں پرگواہ ہوجاؤاوررسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پرگواہ ہوجائیں اورجس قبلے پر آپ پہلے تھے اُس کوہم نے صرف اسی لئے (قبلہ) بنایاتھاکہ ہم جانیں کون رسولؐ کی اتباع کرتاہے اُس سے جواپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتاہے؟ اور یقینایہ بلاشبہ بہت بڑی بات تھی مگراُن لوگوں کے لیے نہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اوراللہ تعالیٰ کبھی ایسانہیں کہ تمہارے ایمان کوضائع کردے۔بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پریقینابے حدشفقت کرنے والا، نہایت رحم والاہے‘‘۔(سورہ البقرہ۔آیت۔143)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، مسلمان ہونے کے بعد تمام تر شرعی احکام اسی وقت لاگو کیے جا سکتے ہیں،جب کوئی ظاہری طور پر مسلمان ہو۔ شادی بیاہ، نماز، روزہ اور اگر مر جائے تو کفن دفن وغیرہ اور سب سے بڑھ کرحسن اخلاق کے ذریعے ظاہری طور پر مسلم اور غیر مسلم سب کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان ہے۔ زبان سے دعویٰ اسلام کرنا اور دل میں،اپنے بد اعمال سے،نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنتوں کے خلاف عمل کر کے،قول و فعل میں تضادات کے ذریعے اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے(پارہ۔5، النساء۔آیت۔145)
مسلمان کا مطلب ہے دین اسلام کا پیروکار ہونا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک صرف وہی شخص مسلمان ہے جس کا وجود دوسروں کے لئے منبع امن و عافیت اور سر چشمہ امن و سکون ہو۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:
’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان و مال اور عزتیں محفوظ رہیں(البخاری، الصحیح، 1: 13، کتاب الایمان، رقم: 10)
ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے، یعنی دل سے اللہ تعالی کی توحید اور رسول ؐ کی رسالت کو سچا ماننا اور اسلام نام ہے اعمال ظاہرہ میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرنے کا،لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر جوارح کے اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے ،جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ کا اقرار کرے۔ اسی طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے،لیکن شریعت میں اس وقت تک معتبر نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ آجائے۔ اس طرح اسلام و ایمان مبدأ اورمنتہی کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہوکر ظاہر اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہوکر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے، مگر مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں تلازم ہے کہ ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں اور اسلام ایمان کے بغیر شرعاً معتبر نہیں(معارف القرآن) گویا لغوی معنی کے اعتبار سے تو دونوں میں فرق ہوسکتا ہے۔ لیکن دونوں کے شرعی مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے،لہٰذا شریعت کی نظر میں دونوں کے انعامات اور دونوں کا مقام و مرتبہ بھی برابر ہوگا۔
آیت مبارکہ میں اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا اعلان ہے۔ ’’اسی طرح‘‘ کا اشارہ دونوں طرف ہے: اللہ کی اس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ ’’اُمّتِ وَسَط‘‘ قرار دیے گئے، اور تحویلِ قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دُوسری سَمْت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزُول کیا اور اُمّتِ محمدیہؐ کو اس پر فائز کر دیا۔
’’اُمتِ وَسَط‘‘ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔
پھر یہ جو فرمایا کہ تمہیں’’اُمّتِ وَسَط‘‘ اس لیے بنایا گیا ہے کہ’’تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسُول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو‘‘، تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری نوعِ انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا، اس وقت رسُول ہمارے ذمّہ دار نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکرِ صحیح اور عمل صالح اور نظام عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی، وہ اس نے تم کو بے کم و کاست پوری کی پوری پہنچا دی اور عملاً اس کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسُول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اُٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسُول نے جو کچھ تمہیں پہنچایا تھا، وہ تم نے انہیں پہنچانے میں، اور جو کچھ رسُول نے تمہیں دکھایا تھا، وہ تم نے انہیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے، وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اس اُمّت کو بھی تمام دنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتاؤ، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔ پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، حتّٰی کہ اگر وہ اس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے، اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت، جو تیرے رسُول کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، ان سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دنیا میں معصیت، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں مر گئے تھے۔اس سے مقصُود یہ دیکھنا تھا کہ کون لوگ ہیں جو جاہلیّت کے تعصّبات اور خاک و خون کی غلامی میں مبتلا ہیں، اور کون ہیں جو ان بندشوں سے آزاد ہو کر حقائق کا صحیح ادراک کرتے ہیں۔ ایک طرف اہل عرب اپنے وطنی و نسلی فخر میں مبتلا تھے اور عرب کے کعبے کو چھوڑ کر باہر کے بیت المقدس کو قبلہ بنانا ان کی اس قوم پرستی کے بُت پر ناقابلِ برداشت ضرب تھا۔ دُوسری طرف بنی اسرائیل اپنی نسل پرستی کے غرور میں پھنسے ہوئے تھے اور اپنے آبائی قبلے کے سوا کسی دُوسرے قبلے کو برداشت کرنا ان کے لیے محال تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بُت جن لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے ہوں، وہ اس راستے پر کیسے چل سکتے تھے، جس کی طرف اللہ کا رسُول انہیں بُلا رہا تھا۔ اس لیے اللہ نے ان بُت پرستوں کو سچّے حق پرستوں سے الگ چھانٹ دینے کے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا، تاکہ جو لوگ عربیّت کے بُت کی پرستش کرتے ہیں، وہ الگ ہو جائیں۔ پھر اس قبلے کو چھوڑ کر کعبے کو قبلہ بنایا، تاکہ جو اسرائیلیت کے پرستار ہیں، وہ بھی الگ ہو جائیں۔ اس طرح صرف وہ لوگ رسُول کے ساتھ رہ گئے، جو کسی بُت کے پرستار نہ تھے، محض خدا کے پرستار تھے۔جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں دوسری جہتوں کو چھوڑکر کعبہ کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا اور تمہیں اسے دل وجان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن امت بنایا ہے (تفسیر کبیر) چنانچہ اس امت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیام قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکیں، معتدل امت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس امت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کرام کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف انکار کردیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا تھا تو امت محمدیہﷺ کے لوگ انبیائے کرام کے حق میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے رسالت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی امتوں کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا تھا اور اگرچہ ہم خود اس موقع پر موجود نہیں تھےلیکن ہمارے نبی کریمﷺصلوٰۃ و تسلیم محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی سے باخبر ہو کر ہم کو یہ بات بتلادی تھی اور ہمیں ان کی بات پر اپنے ذاتی مشاہدے سے زیادہ اعتماد ہے۔
دوسری طرف رسول کریمؐ اپنی امت کی اس بات کی تصدیق فرمائیں گے، نیز مفسرین نے امت محمدیہ ؐکے گواہ ہونے کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ شہادت سے مراد حق کی دعوت وتبلیغ ہے اور یہ امت پوری انسانیت کو اسی طرح حق کا پیغام پہنچائے گی جس طرح آنحضرتﷺ نے ان کو پہنچایا تھا۔ باتیں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں۔مطلب یہ ہے کہ پہلے کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا جو حکم ہم نے دیا تھا اس کا مقصد یہ امتحان لینا تھا کہ کون قبلے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون ہے جو کسی ایک قبلے کو بذات خود ہمیشہ کے لئے مقدس مان کر اللہ کے بجائے اسی کی عبادت شروع کردیتا ہے، قبلے کی تبدیلی سے یہی واضح کرنا مقصود تھا کہ عبادت بیت اللہ کی نہیں اللہ کی کرنی ہے، ورنہ اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اگلے جملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ جو لوگ صدیوں سے بیت اللہ کو قبلہ مانتے چلے آرہے تھے ان کے لئے اچانک بیت المقدس کی طرف رخ موڑ دینا کوئی آسان بات نہ تھی؛ کیونکہ صدیوں سے دلوں پر حکمرانی کرنے والے اعتقادات کو یکایک بدل لینا بڑا مشکل ہوتا ہے؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ نے یہ سمجھ عطا فرمائی کہ کسی بھی چیز میں کوئی ذاتی تقدس نہیں اور اصل تقدس اللہ تعالیٰ کے حکم کو حاصل ہے ان کو نئے قبلے کی طرف رخ کرنے میں ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی۔ کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پہلے بھی اللہ کے بندے اور اس کے تابع فرمان تھے اور آج بھی اسی کے حکم پر ایسا کررہے ہیں۔اس سلسلۂ کلام میں اس جملے کا ایک مطلب توحضرت حسن بصری ؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ نئے قبلے کو اختیار کرلینا مشکل تھا، لیکن جن لوگوں نے اپنی قوت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسے بے چون وچرا مان لیا اللہ تعالیٰ ان کے اس ایمانی جذبے کو ضائع نہیں کرے گابلکہ انہیں اس کا عظیم اجر ملے گا (تفسیر کبیر) دوسرے یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہے جو بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہوا تھا اور وہ یہ کہ جو مسلمان اس وقت انتقال فرماگئے تھے جب قبلہ بیت المقدس تھا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی وہ نمازیں جو انہوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی تھیں قبلے کی تبدیلی کے بعد ضائع اور کالعدم ہوجائیں؟ آیت نے جواب دے دیا کہ نہیں چونکہ انہوں نے اپنے ایمانی جذبے کے تحت وہ نمازیں اللہ ہی کے حکم کی تعمیل میں پڑھی تھیں، اس لئے وہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی۔
حوالہ جات:تفسیر کبیر،بیضاوی،کاملین،تفسیر ابن کثیر،معارف القرآن،تفسیر فیوض الرحمن،تفھیم القرآن،تفسیر القرآن،’تفسیر الخازن‘‘، ج1، ص۔26: وکفر نفاق، وہو اؤن یقرّ بلسانہ ولا یعتقد صحۃ ذلک بقلبہ۔’’تفسیر النسفی‘‘، البقرۃ، تحت الآیۃ:8 ص۔24 )
رابطہ:9968012976
�����