ہم جب یوم آزادی منانے بیٹھیں ، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اسلاف کے کارنامہ حیات اور ان کی قربانیاں یاد کریں۔ ملک کے ہر شہری کو ان کے نام اور خدمات سے باخبر کریں ۔یہ ہماری اہم ذمے داری ہے اور فرض کی ادائیگی بھی۔
ہم سے اکثر کہا جاتا ہے کہ ہم سچے محب وطن نہیں ۔ہم باہر سے آئے ہوئے ہیں، طرفہ تماشا یہ کہ الزام وہ عائد کرتے ہیں ، جنھوں نے خود انگریزوں کا علی ا لاعلان ساتھ دیا، وہ خود یہاں کے باشندے نہیں ۔ہم 5سو سال قبل آئے اور وہ نوسو سال قبل۔بہر حال پھر یہ ثابت ہوا کہ یہ ملک ہمارا نہیں تو تمہارا بھی نہیں ہے۔
وہ جان لینا چاہئے کہ ملک کی آزادی کے لیے ہم نے جوبیش بہا قربانیاں دیں ، ملک کے سیاسی سماجی ادبی تواریخ میں سنہرے الفاظ میں درج ہوچکی ہیں ، اگر جانب دارانہ روی یہاں کی تواریخ بدل ڈالے،نئی تواریخ لکھ ڈالے،کیا فرق پڑتا ہے ؟عالمی تواریخ بدلنا ان کے دائرے اختیار میں نہیں ۔ اس کی مثال یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ امریکہ اور یورپ نے فلسطین کے سینے پرکس طرح اسرائیل کو بٹھا کر ہر ممکن امداد و حمایت کرتی رہی ہے( اخلاقی، معاشی ،عسکری )لیکن ساری دنیا امریکہ اور یورپ کی ’’سیاسی غلطی ‘‘کو دل سے قبول نہ کرسکی ، جس کا اعتراف انصاف پسند ممالک گاہے گاہے ببانگ دہل کیا کرتے ہیں کہ اسرائیل غاصب ہے۔امریکہ اور یورپ نے فلسطین کے سینےپر ناجائز طریقے سے اسرائیل کو مسلط کر رکھا ہے، عالمی سیاست کی تواریخ میں امریکہ اور یورپ کا نہایت ظالمانہ آمرانہ سفاکانہ عمل ہے۔
ایڈورڈ سعید اور نوم چومسکی یہودالنسل ہونے کے باوجود امریکہ کی گود میں بیٹھ کر نہایت دلیری سے فلسطین کے حقوق کی باتیں نہیں کیا کرتے تھے بلکہ اسرائیل و امریکہ کو آئینہ دکھاتے رہے مرتے دم تک کہ دیکھو! میری بات یاد رکھنا! ایک وقت آئے گا اسرائیل کو بوریا بستر باندھنے پر مجبور ہونا پڑےگا ۔ فلسطین آزاد ہوکر رہے گاخواہ صدیاں بیت جائیں !ویسے ہی وطن عزیز کا ہر محب وطن انصاف پسند شہری جانتا ہے کہ ملک کی آزادی کے لیے کس نے کیا کیا ؟آئیں !گاہے گاہے قصہ پارینہ را کے مصداق بند اوراق پلٹتے ہیں۔
قاری بوصدیق کی شوگر فیکٹری پوری طرح بند کر دی گئی تھی۔چونکہ صدیق صاحب نے انگریزوں کی مخالفت میں آزادی کی لڑائی میں شریک اور پیش پیش رہے ۔اس کارخانہ کی اہمیت اس بات سے لگا لیں کہ اس چینی مل کی چینی پورے انگلینڈ میں برآمد کی جاتی تھی ، برطانیہ کا ہر شہری اس مل کی چینی استعمال کیا کرتا تھا ۔شہید بھگت سنگھ کا کیس لڑنے کےلیے جب کوئی تیار نہ ہوا تو آصف علی اٹھ کھڑے ہوئے اور بھگت سنگھ کا کیس لڑا،انقلاب زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے والے، ایک قوم ، ایک نظریہ کے حامیوں نے نہیں بلکہ حسرتؔ موہانی نے دیا تھا ۔جنھوں نے جوانی کا بیش قیمتی وقت قید خانے کی صعوبت اور مشقت میں گزاری ،روزانہ کی بنیاد پر دومن گیہوں چکی میں پسا کرتے، دیگر امور کے سوا۔؎
ہے مشق سخن جاری ، چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرتؔ کی طبعیت بھی
اپنے ان مشکل دنوں کا اظہار مذکورہ شعر میں کیا انہوں نے۔بہرحال ملک آزاد ہوا، جواہر لال نہرو پہلے وزیر اعظم بنے۔انتخابات کے بعد حسرتؔ ممبر آف پارلیمنٹ، ایک روز ایوان سے باہر نکل رہے تھے حسرت کا پاجامہ گھٹنے کے قریب پھٹا ہوا ،باہر بیٹھے لوگ ان کا پاجامہ دیکھ کر ہنس پڑے ۔حسرتؔ نے فی البدیہہ شعر پڑھا ؎
ہم ہی جب نہ ہوں گے رونق محفل
آپ دیکھ کر کسےشرمائیے گا
1857ء ایک سال میں پچاس ہزار علماؤں کو تختہ دار پر چڑھایا گیا ، لاکھوں کی تعداد میں مسلمان شہید کیے گئے ، دہلی سے کولکتہ تک گرینڈ ٹرک سڑک گواہ ہے اور اس سڑک کنارے موجود درخت ثبوت کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں، جن کی پیشانی پر شہدائے کہ خون کے نشان اب بھی باقی ہیں ، کوئی ایسا درخت نہیں جس پر آزادی کے جانباز وطن کو مصلوب نہ کیا گیا ہو۔
میسور کے سلطان ٹیپو سلطان پہلے مجاہد آزادی ہیں جنھوں نے ملک کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، اشفاق اللہ خاں مجاہدین آزادی میں سب سے کم عمر پہلے مجاہد تھے جنھیں پھانسی کی سزا دی گئی – 'جئے ہندکا نعرہ کسی غیرمسلم نے نہیں بلکہ ایک مسلمان عابد حسن نے دیا تھا، جسے آج بھی ہماری فوج استعمال کرتی ہے ۔ ملک کا ترنگا جھنڈا بنانے میں ثریا سید کی تجویز مقدم مانی گئی، کان پور میں پیدا ہونے والے عظمت اللہ خاں نے 'مادر وطن ' بھارت کی جئےکا نعرہ دیا بعد میں فرقہ پرستوں نے لفظ ماتا 'کا اضافہ کیا ۔
عظیم اللہ خان نے پہلا قومی گیت تحریر کیا تھا ۔ محمد قاسم نانوتوی نے دار العلوم کا قیام انگریزوں کو ملک سے باہر نکالنے کی غرض سے کیا تھا۔ دار العلوم دیو بند کا مقصد صرف نوجوان نسل کو ذہنی و دینی تربیت کرنا تھی ، ان کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ اُبھارنا تھا تاکہ نوجوان قابض انگریزوں سے دو بدو مقابلہ آرائی پر آمادہ ہوسکیں۔ ریشم رومال تحریک کے بانی محمود الحسن اور عبید اللہ سندھی تھے اور یہ دیو بند کے ہی شاگرد تھے ، عبیداللہ سندھی نے سبھاش چندر بوس کے ساتھ مل کر پہلی مستحکم حکومت قائم کی ۔
کیا آپ جانتے ہیں گاندھی جی کو مہاتما کا خطاب کس نے دیا تھا ؟ وہ کوئی اور نہیں محمود الحسن ہی تھے اور پھر گاندھی پوری دنیا میں 'مہاتماکے نام سے پکارے جانے لگے۔
حکیم اجمل خاں کے ساتھ مل کر جامعہ ملیہ 1920ء میں قائم کیا ۔
کالا پانی کی درد ناک سزا پانے والوں میں90فیصد تعداد مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے ۔ آج بھی آپ انڈومان نکوبار جزائر چلے جائیں مسلم قبروں کی تعداد میری باتوں کی تصدیق کردے گی کیونکہ آج بھی سب سے زیادہ وہاں قبریں مسلموں کی پائی جاتی ہیں۔
1772ء شہاب عبدالقدیر نے فتویٰ دیا کہ" انگریزوں کی غلامی حرام ہے "جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب نے اس آواز پر لبیک کہا اور پہلی جنگ آزادی کے لیے متحد اور صف آرا ہوئے۔ اس جنگ کی قیادت مولوی احمد اللہ کررہے تھے – انگریزفوج نے اس وقت پچاس ہزار کا انعام مقرر کیا، انعام کی لالچ میں آکر راجہ جگت نے مخبری کردی اور مولوی احمد اللہ کو انگریز کے حوالے کردیا ۔انگریز نے مولوی احمد اللہ کو شہید کرڈالا۔آزادی کی پہلی لڑائی 1857ء میں شہید ہونے والے مسلمان کثیر تعداد میں بتائے جاتے ہیں۔ 90 فیصد مسلمان تھے باقی دس فیصد دیگر مذاہب کے افراد شامل رہے۔جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر کی گولیوں کا نشانہ بننے والوں میں بھی مسلمانوں کی تعداد زیادہ پائی گئی۔
انڈین نیشنل کانگریس کے نو سے زیادہ صدر مسلمان رہے۔گاندھی جی نے افریقہ کے جس کالج میں وکالت کی تعلیم حاصل کی وہ کالج بھی ایک مسلمان کا تھا۔ گاندھی جب ہندستان آئے تو علی برادران کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی کی باگ ڈور سنبھالی۔
1921ء کیرل میں 3 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے ۔50 ہزار مسلمانوں کو قید کرلیا گیا اس تحریک کوموب تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے۔1942ء بھارت چھوڑو تحریک کا منصوبہ ابوالکلام آزاد نے بنایا تھا۔
بھیم راؤ امبیڈکر کو عالمی پہچان دلانے میں مسلمان کا اہم کردار رہا ۔ 1946ء میں دلت ہونے کی وجہ سے بھیم راؤ انتخاب ہار گئے، بنگال میں مسلم لیگ سے انتخاب لڑنے کی دعوت ایک مسلم نے دی اور امبیڈکر انتخاب جیت گئے ۔اس طرح ہندستان کا آئین تیار کرنے میں اہم رول ادا کیا اور 'معمار آئین کے نام سے دنیا نے جانا ۔آزادی کے موضوعات پر سب سے زیادہ مضامین ، کتابیں اور شاعری مسلمانوں نے تحریر کیے ،مولوی باقر اردو کے پہلے شہید صحافی ہیں۔
کولکتہ کے حاجی سعید نے بنگال میں تن تنہا تمام کالجز اسکول، میڈیکل، اسپتال ، قائم کیا تھا۔ان کی دولت کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ اپنی ساری جائیداد ملک کی آزادی میں لگادی اور خود کرایے کے گھر میں رہنے لگے ،آخری ایام کسمپرسی میں گزارے اور صرف عثمان سعید تن تنہا نہیں تھے ان جیسے ان گنت مسلمان اپنی ساری دولت و سرمایہ وطن کی آزادی کے لیے صرف کردی ۔ابو الکلام آزاد کا جب انتقال ہوا تو وہ مقروض تھے ،ان کی وصیت کے مطابق ان کی کار فروخت کی گئی اور فروخت کی رقم سے قرض ادا کیا گیا۔
اللہ اللہ !یہ تھے ہمارے اسلاف۔۔۔۔!!
آج تو میونسپل کا انتخاب جیتنے والا مئیر بھی اس قدر وسائل جمع کرلیتا ہے کہ اس کی تجوریاں بھری رہتی ہیں!!!