اُردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
9مئی 1857ء تیغ و تفنگ، قرابین، بندوق، گولیاں، بارود، قلب تشکر تیار چوکس دستہ کی مارچ پاسٹ ،توپوں کے دہانے کھل گئے اور جنگ آزادی کا دَرکھل گیا ۔ادھر دلی کی مانگ کا سیندور اجڑنا تھا کہ آتش شوق اور بھڑک اٹھی ۔دِلیؔ کی بُربادی پر 1962ء میں فغان ِدہلی کی اشاعت پرتحریک خلافت کے زمانے میں منشی مشتاق میرٹھی کے جذبات حریت کا زیور طبع سے آراستہ ہونا ایسا کہ برنیؔ اور بعد میں سبطؔ حسن کی مرتبہ آزادی کی نظمیں منظر عام پر آ ئیں۔ اُردو ادب قدم قدم پرخارجی محرکات سے متاثر ہوئی۔یہ قعلوں اور محلوں کی فصیلوں کے اندر پروان نہیں چڑھی۔ اُردو درباری زبان نہیں تھی، اِس نے ہمیشہ عوام کے دل کی دھڑکنوں سے اپنا رشتہ قائم رکھا۔ درباروں میں ہمیشہ فارسی کا چلن رہا۔ سلطنتِ مرہٹہ کی زبان بھی فارسی تھی ۔تاریخ کے نہا ں خانے میں جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تیر ہویں صدی عیسوی کے آغاز میں جب دلیؔ نے سیاسی مرکز یت حاصل کر لی توکھڑی بولی یا زبانِ دہلوی یا اُردو برج بھاشا کے اثرات کے تحت وہاں نئے سرے سے اپنے قدم جمانے لگی ،خو بئی قسمت کہ اس نے یوں کچھ پھلنا پھولنا شروع کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب ،بہار اور دکن اس کی آغوش میں سمٹ آئے ۔پندر ہویں صدی میں دلی کی مرکزیت سے ناطہ توڑ لینے کے بعد دکنی اردو میں سنسکریت الفاظ اور تر کیبیں شامل ہونے لگیں اور بعد ازیں اُردو قومی وحدت کا ایک موثراور دل پسندیدہ وسیلہ بنتی چلی گئی ۔اب میدان صوفیوں کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے تصوف کے ان پہلو ؤں کو جلّا بخشی۔راما نج اسکول سے وابستہ سوامی راما نند نے بھکتی تحریک میں ہر فرقے کو شامل کیا اور مشرقی سلطنت کے آخری فرمان روا حسین شاہ مشرقی نے جونپور میں پہلی بار وحدت قومی کے تصور کو پیش کیا ۔اکبر ؔکے عہد میں اس تصّورنے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔دارا شکوہ اور فیضیؔ نے سنسکرت ادب کے ترجمے کئے ۔امیر خسرو اور عبد الرحیم خان خاناں نے ہندی میں شا عری کی ۔اب دیر حرم کے بنیادی اتحاد پر زور دیا جانے لگااور واعظ و زاہد پر ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔
دکن میں قلی قطب شاہ کے اشعار عوام کے دل کی دھڑکنوں سے تال میل کھانے لگے ،وجہی کی "سب رس "اسی سلسلے کی ایک خوبصورت لڑی ہے۔شمال ہند میں نظیر اکبرآبادی اپنے انفرادی شان سے ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتے ہیں، ان کا کلام چا سر کی خوبصورت پو ر لسٹر یٹ گیلری ہے ،جس میں انکا عہد سانس لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ عید، ہولی، دیوالی، بازار،میلہ، بسنت، جاڑا، گرمی، برسات، بچپن جوانی، بڑھاپا سبھی دیکھ لیجئے ،حتیٰ کہ کبوتر بازی، بیڑبازی، دریا کی سیر یہ سب رواں دواں تصویریں ہیں ،جس میں نظیر نے عوامی کلچر کا ایسا کلوز اَپ پیش کیا ہے کہ آج تک اہل ِنظر انگشت بد نداں ہیں۔ نظیر کی نگاہیں ہمیشہ زندگی کی بنیاد ی حقیقت پر مر کو ز رہتی ہیں ۔ پھر اردو کے محل سرا میں ایک گدا ئے متکر کی آواز گونجی جو ہمیں آگاہ کرتا ہے۔ میر صاحب زمانہ نازک ہے۔دونوں ہاتھوں سے تھا مئے دستار ۔
پھر اسی محل سرا میں ایک درویش کی صد ا گونجی جس نے ہمیں ترک رسو م پر آمادہ کیا ۔ہم موحد ہیں ،ہمارا کیش ہے ترک رسوم ،سبق جب مٹ گیا اجزائے ایماں ہوگئیں۔
اس کے لئے کہ اصل ایما ں مقصود تھا ۔وفا داری بشرط استواری اصل ایمان ہے ،میرے بتخا نے میں تو گاڑ کعبے میں برہمن کو۔ پھر وہ بھی نگاہوں سےاجھل ہو گیا ہے۔غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں،روئے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں ۔ اسطرح اردو دیکھتے ہی دیکھتے روشن منا ر بن گئی اور دنیا کو منو ر کرنے لگی،جس سے قومی یکجہتی کی کرنیں چھن چھن کر باہر آنے لگیں ۔پھر تاریخ کا وہ موڑ آیا، جب اورنگ زیب کی پالیسی نے اس تحریک کو نقصان پہنچا یا لیکن بیچاری اُردو بڑی سخت جان نکلی ۔اور یہ ایک انحطاط پذیر معاشرے کی گود میں اسی طرح پھلتی پھولتی رہی کہ تاریخ نے ایک اور جست لگائی ۔اب رام نارائن موزو ں انگریز وں کے ہاتھوں سراج ا لد و لہ کی شکست سے متاثر ہو کر کہہ رہے تھے ۔۔۔۔غزالا ں تم تو واقف ہو کہو مجنو ں کے مرنے کی ، دوانا مر گیا آخر کو ویرانے پر کیا گزری۔ اب ذرا عبدالحئ تاباں کے بھی تیور دیکھئے جنکے مردا نہ حسن کی تعریف میں آزاد ’’آب حیات ‘‘میں رطب اللسان ہیں ۔۔۔نہیں مقدور کہ جا چھین لو تخت و طا ؤ س۔ ساتھ ہی ساتھ معاصرین اور امراءکے سلسلے میں میر کے تیکھےطنزسے بھی لطف اٹھاتے چلئے ۔ٹکڑوں پر جان دیتے تھے سارے فقیر تھے ، قاسم نے شاہ عالَم پر سخت حملے کئے اور اس کو ظل الٰہی کہنے کے بجائے ،ظل شیطان تک کہہ ڈالا ۔جناب مصحفی بھی کسی سے کم نہیں تھے ۔ہندوستان کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی ظالم فر نگیوں نے بد تدبیر کھینچ لی ۔
اس طرح اردو ہندوستان کے کلچر شعور کی تشکیل میں ایک نمایاں رواں انجام دیتی رہی ۔یہ سچ ہے کہ معاشرے کی سچی اور جیتی جاگتی تصویر یں اردو کے ادبی سرمایہ میں بکثرت ملتی ہیں ۔اردو ادب کے دامن میں کیا کچھ نہیں ہے۔بہر حال سلطنت مغلیہ اورشاہان اودھ کے زوال کے بعدکلچر تحریک کی بنیاد پڑی اور استوار ہوتی گئیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ انیسو یں صدی کے اواخر اور بیسو یں اوائل میں اس تحریک نے اردو کا قدم قدم پر سہارا لیا ہے۔ یوں تو اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما ‘‘تھا جو 1823ء میں شا ئع ہوا۔ لیکن جب اس تحریک کے قدم لڑ کھڑا ئے تو بقول گار سین دتا سی ، اردو صحافت نے آگے بڑھ کر اس کے بازو ؤں کو مضبوطی سے تھام لیا مگر راہ میں قربانیاں تھیں،عظیم قربانیاں ! منیجر صادق الاخبارکو تین ماہ قید با مشقت کی سزا ملی۔ صہبائی اور نجانے کتنے شہید کئے گئے ’’دلی اردو اخبار‘‘ کے ایڈیٹر محمّد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر کو پھانسی دی گئی ۔آزاد کے خلاف بھی گرفتاری کا وار نٹ جاری ہوا مگر جاکو راکھے سائیاں مار سکے نہ کوئے ۔ لیکن اب تاریخ کا وہ موڑ تھا جب سر سید کی مصا لحت پسندی اور اکبر کی روایت پرستی جدید نثر اور شدید طنز کے قالب میں ڈھل گئی ۔ بہت عمدہ ہے اے ہم نشیں برٹش راج ،کہ ہر طرح کے ضوا بط بھی ہیں اصول بھی ہے ۔جب اتنی نعمتیںمو جود ہیں یہاں اکبرتو ہرج کا ہے جو ساتھ اسکے ڈ یم فول بھی ہے۔
چنا نچہ اردو ادب میں ایک واضح انقلاب پیدا ہوا ،جسکا اظہار حالی اور آزاد کی نظموں میں ہوتا ہے ۔حالی نے مسلمانوں کی زبو حالی کا مرتبہ لکھااور ہندوستان کی عظمت کے گیت گائے ۔ پھر 1877ء میں منشی سجاد حسین نے ’’اودھ پنچ ‘‘ جاری کیا ۔یہ اخبار تقریباً ستر سال تک آزادانہ خیالات کا علمبردار رہا ،اس کے ممتاز لکھنے والوں میں اکبر، شرر، سر شار، اور چکبست پیش پیش تھے۔
28دسمبر1885 ء کو بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا اجلاس منعقد ہو چکا تھا ۔ابتداء میں تو اس تحریک میں اعتدال تھا لیکن آہستہ آہستہ ایک آزادی پسند طبقہ سر اٹھانے لگا اور آکلینڈ قانون کے زمانے یعنی 1888ءسے ہی انگریزوں نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ مسلمان کانگریس کے خلاف ہیں ۔سر سید اور نذیر احمد کی پالیسی سے اس پرو پگنڈہ میں مزید تقویت ملی ۔چند ادیب و شاعر ایسے بھی تھے، جنہوں نے کانگریس کی شدید مخالفت بھی کی لیکن مسلمانوں کا ایک خاص طبقہ ہمیشہ کانگریس کے سا تھ رہا اور رفتہ رفتہ اس نے ایک مشترکہ سیاسی مورچہ کی صورت اختیار کر لی۔ اب ایک طبقہ بال گنگا دھر تلک کی قیادت میں سامنے آرہا تھا ۔آج ملک کے اس مشہور قول کی گھن گرج کو کون فرا موش کر سکتا ہے ۔’’سوراج ہمارا پیدائشی حق ہے اور ہم اسے لیکر رہیں گے‘‘۔
1905ءمیں تقسیم بنگال کی تحریک نے شدت اختیار کر لی۔ حسرت موہانی کا اسی شدت پسند گروہ سے تعلق تھاجو اُبھر کر سامنے آرہا تھا، حسرت موہانی کی سیاسی نظمیں اس حقیقت کی غماز ہیں ۔1911ءمیں احساس غلامی کی فضا مزید تیز ہو گئی ۔اب ’’زمانہ‘‘ اور’’ مخزن‘‘ میں بھی قومی تنظیموں کی بہتات نظر آنے لگی تھی ۔1915ءمیں مسز اینی بیسنٹ نے ہوم رول تحریک چلائی اور چکبست چونک اٹھے ۔ طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے، نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے۔
لیکن اس دور کی شاعری نے دراصل ظفر علی خان کے دم قدم سے تقویت اور غذا حاصل کی۔ انکو سر زمین ہند سے دیوانوں کی طرح عشق تھا ۔ظفر علی خاں قید فرنگ کا مزا چکھنے کے باوجود ’’انقلاب ہند ‘‘کے نقیب بن کرآئے تھے ۔بارہا دیکھا ہے تونے آسماں کا انقلاب ،کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلاب ۔
یہی وہ دور تھا جب اقبال اپنا ’’ترانہ ہندی‘‘ لیکر جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ’’نیا شوالہ ‘‘اور ’’ہندوستانی بچوں کا گیت ‘‘بھی ہے ۔ لیکن وہی اقبال مئی1937ء میں محمد علی جناح کو مشورہ دیتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں ۔’’ہندوستان میں امن و امان بحال رکھنے کا واحد طریقہ کار یہ ہے کہ نسلی اور مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ملک کو از سر نو تقسیم کر دیا جائے ‘‘۔گویا پہلی جنگ عظیم سے پہلے کے اقبال کو ہم نے کوچ لیا اور بعد کے اقبال کو پاکستانی اٹھا لے گئے ۔بقول فراق گورکھپو ری ’’ اقبال کی شخصیت دو حصّوں میں منقسم ہو گئی تھی اور یہ دونوں حصّے کبھی آپس میں ملنے اور جھگڑنے کے شکار ہو کر رہ گئے تھے،حقیقت کسی مذہب و ملّت کی میراث نہیں ہوتی ،کاش اقبال یہ سمجھ سکتے ‘‘۔
شاید اسی لئے آج ماہر اقبالیات ،اقبال کو ہندوستان میں سیکو لر شاعر ثابت کرتے ہیں اور جب پاکستان جاتے ہیں تو انہیں اسلامی شاعر کہتے ہیں ۔
اسی دوران 1919ءمیں’’جلیا ں والا باغ‘‘ کے المناک سانحے کےبعد اردو کے ادبی افق پر دو اور ممتاز شخصیتیں نمودار ہوئیں۔ ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی،اب تحریک آزادی کی مشعل فضا میں اور بلند ہو گئ۔ پھر یگانہ قومی یک جہتی کے نقیب بن کر آئے لیکن ان کی آواز کو کچل دیا گیا۔1939ءمیں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کے ساتھ سجاد ظہیر،منشی پریم چند، اختر رائے پوری ،فراق ،مجنوں ،یوسف علی مہر اور بعد میں وامق مخدوم، مجاز،جذبی، سلام مچھلی شہری،جاں نثار اختر،فیض ،راشد ،اختر الایمان، میراجی، علی سردار جعفری وغیرہ وغیرہ سامنے آئے ۔وامق کی نظم’’ بھوکا بنگال ‘‘ نے 1944ءمیں ملک کے طول عریض میں ایک کہرام برپا کر دیا ۔ پیٹھ سے اپنے پیٹ لگا ئے لاکھوں الٹے کھاٹ ،بھوک مہنگا ئی سے تھک تھک کر اترے موت کے گھات۔
یہ سچ ہے کہ ترقی پسند تحریک پر مختلف سمتوں سے کاری حملے کئے گئے ۔آل احمد سرور نے تو یہاں تک لکھا اس تحریک کے بعض علمبرداروں میں بڑی سطحیت، بڑی رعونت، بڑی تنگ نظری ،بڑی قطعیت ہے۔ یہ زندگی کو مارکسی فارمولوں اور اقتصادی اصولوں کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔یہ ایک ذہنی غلامی سے نکال کر دوسری ذہنی غلامی میں انسان کو مبتلا کرنا چاہتے ہیں ۔ویسے سرور ؔصاحب کسی نہ کسی طرح کی غلامی کے اسیر ضرور ہیں ،وہ چاہے ان کے افکار و نظریات کی ہی غلامی کیوں نہ ہو،ان حقا ئق سے قطع نظر اسی تحریک کے زیر سایہ صرف مہاتما گاندھی پر جتنی معرکتہ الا آرا ء نظمیں اردو میں لکھی گئیں ،کوئی دوسری زبان مثال نہیں پیش کر سکتی ۔ انہیں دنوں مجروح ؔکی آواز کا جادو کچھ یوں چڑھ کر بول رہا تھا کہ خود انہیں بھی احساس ہو چلاکہ’’ میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر ۔لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘ ۔
بہر حال 1947ء کے بعد تاریخ کی چالس سالہ ترقی پسند تحریک کا عروج وزوال ہو چکا تھا ۔جدید یت کے مرا ری اپنا تماشا دکھا کر کھسک گئے ۔اب عوامی کلچر کی باری فورم کی باری ہے جسکی آواز پر اردو ہندی کے ادیب لبّیک کہہ رہے تھے ۔ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور ۔ بہر صورت بیچاری اردو زندہ ہے اور ختم ہونے والی تھی بھی نہیں۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ آزادی میں اردو ادیبوں اور شاعروں کا بہت بڑا حصّہ ہے ۔انہوں نے تاریخ کے بہت اہم موڑ پر کار ہائے نمایاں انجام دئے ہیں جو اس حسن و خوبی کے ساتھ صرف اُردو ادیب ہی انجام دے سکتے ہیں۔
( آرہ، بہار) انڈیا