سرینگر//سرکار نے جموں کشمیرمیں ’’بورڑ آف روینو‘‘(مالی بورڑ) کے قیام کو فائنانشل کمشنر مال شالین کابرا کی سربراہی میں منظوری دی۔ عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری کی طرف سے جمعرات کو جاری حکم نامہ میں کہا گیا کہ جموں کشمیر کے لینڈ روینو ایکٹ مجریہ1956 کے دفعہ5شق اے کی ذیلی شق1 کے تحت بورڈ آف روینو کے قیا م کو منظوری دی۔ اس بورڈ کی کمان فائنانشل کمشنر مال شالین کابرا کو دی گئی ہے جبکہ بورڈ میں محکمہ شہری رسدات،امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے کمشنر سیکریٹری زبیر احمد اور کسٹوڈین جنرل راجیش شرما ممبر ہونگے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ بورڈ حکومت کی نگرانی ، ہدایت اور کنٹرول کے تابع ہوگا ، اور جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ مجریہ 1996 میں فراہم کردہ تمام معاملات کے بارے میں چیف کنٹرولنگ اتھارٹی ہوگا۔ آرڈر کے مطابق مزید یہ ’’ بورڈ ا آئی بی آئی ڈی یکٹ یا کسی دوسرے قانون کے تحت یا اس کے تحت اس کو دیے گئے اختیارات ، افعال اور فرائض کا استعمال کرے گا اور اس کو نافذ کرے گا جبکہ حکومت کی طرف سے اسے سونپے گئے تمام کام کو وقتا فوقتا انجام دے گا۔ ‘‘
اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معقولیت لانے کیلئے کمیٹی تشکیل
بلال فرقانی
سرینگر// لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معقولیت لانے کیلئے انتظامی سیکریٹری اعلیٰ تعلیم کی سربراہی میں5 رکنی کمیٹی کے قیام کو منظوری دی،جو جموں کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ضروریات کی معلومات حاصل کرے گی۔ سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا’’ مرکزی زیر انتظام جموں کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معقولیت لانے کیلئے افسراں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کو منظوری دی جا رہی ہے‘‘۔ اس کمیٹی میں انتظامی سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم چیئر پرسن ہوںگے،جبکہ کمیٹی میں محکمہ خزانہ کے ڈائریکٹر جنرل(بجٹ)،ڈائریکٹر جنرل(کوڈس)،ڈائریکٹر فائنانس محکمہ اعلیٰ تعلیم اور ڈائریکٹر(منصوبہ بندی) ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بطور ممبران کام کریں گے۔ اس کمیٹی کو جموں کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ضروریات کی معلومات حاصل کرنے کے علاوہ مرکزی زیر انتظام خطے میں موجودہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی معقولیت اور جموں کشمیر میں مستقبل میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کھولنے کیلئے معیار تجویز کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ماتحت کام کرے گی اور 15دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
محکمہ مال اوردیہی ترقی وپنچایتی راج کی درجہ بندی
کام کاج میں معقولیت لانے کیلئے 9رکنی کمیٹی تشکیل
بلال فرقانی
سرینگر// سرکار نے محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج اور محکمہ مال کے ڈھانچے کے درجہ بندی اورکام کاج میں معقولیت کی نگرانی کیلئے پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال کی سربراہی میں9رکنی کمیٹی کے قیام کو منظوری دیتے ہوئے15دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ سرکاری آرڈر میں کہا گیاہے،’’مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں محکمہ مال اور محکمہ دیہی ترقی اور پنچایتی راج دونوں کے ڈھانچے کی درجہ بندی اورکام کاج میں معقولیت لانے کی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی ہے ‘‘۔ کمیٹی کی کمان پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال کو سونپی گئی ہے جبکہ کمیٹی میں محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کی پرنسپل سیکریٹری،محکمہ عمومی انتظامی کے کمشنر سیکریٹری، صوبائی کمشنر کشمیر اور صوبائی کمشنر جموں،محکمہ سماجی بہبود کے سیکریٹری، ڈائریکٹر پنچایتی راج اور محکمہ دیہی ترقی کے جموں اور کشمیر کے ڈائریکٹر شامل ہیں۔اس کمیٹی سے کہاگیا ہے کہ وہ دونوں محکموں کے موجودہ اور قدیم رپورٹنگ ڈھانچے کی درجہ بندی کا مطالعہ کریں،جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں محکموں کوکام کاج میں تبدیلیوں کا بھی مطالعہ کریں۔حکم نامہ میں اس کمیٹی کو گزشتہ دہائی کے دوران دونوں محکموں کی اچانک توسیع کی معقولیت کے مطالعہ کے علاوہ دونوں محکموں کے لئے درجہ بندی اور رپورٹنگ ڈھانچہ تجویز کریں۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی محکمہ مال کے ماتحت کام کرے گی اور15دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔