پچھلے ہفتے ایک چھوٹے سے مارکیٹ کے بیچ میںسے پیادہ گذرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن ایک بورڈ کو میں نے تین دُکاندار حضرات کی دُکانوں کے اوپر دیکھ لیا۔ اس بورڈ میں ایک ٹینکی کی تشہیر کی جارہی ہے۔ تشہیر میں بالی وُڈ کی مشہور جوڑی بڑے دلنشین انداز میں ٹینکی سے لَو لگائے بیٹھے ہیں۔ سیف علی خان ٹینکی کو ایک طرف سے پیار کر رہے ہیں، وہیں اُن کی محترمہ کرینہ کپور دوسری طرف سے ٹینکی پر اپنی کہنی ڈالے مسکرا رہی ہیں۔
اس صورتحال کو دیکھ کر ایک محتاط تبصرہ پیش خدمت ہے۔
۱۔ ٹینکی کی جن اداکاروں کے ساتھ تشہر کی جارہی ہے، وہ بذات خود بے معنی ہے۔ کیوں کہ سیف صاحب اور اُن کی محترمہ ٹھہرے بڑے اسٹار۔ اُن کا اس طرح سے کسی ٹینکی سے پیار کرنا بعید اَز امکان ہے۔ اُن کے لائف اسٹائل کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کبھی یہ جھنجھٹ لی ہی نہیں ہو گی، کہ اُن کے نہانے، کھانے اور پینے کا پانی کہاں سے آتا ہوگا۔ کجا کہ وہ مارکیٹ جائیں ، ٹینکی خریدیں اور پھر اُس ٹینکی کے کمال کو دیکھ کر ایک عدد فوٹو شوٹ کرائیں۔ اس لیے سب سے پہلے اُن تمام کمپنیوں سے بصد احترم استدعا ہے کہ اگر آپ کو اپنے چیزوں کی تشہیر کرنی ہی ہے تو یہاں کے کلچر، مذہب اور سماجی خدوخال کو ملحوظِ نظر رکھیں۔ اُسی میں آپ کی زیادہ اور جاندار تشہیر ہوگی۔
۲۔ لیکن کیا احقر کا مندرجہ بالا نقطہ اُن کمپنیوں کو یاد نہیں ہوگا؟ بالکل ہوگا۔ تو پھر وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ایسا وہ عمداً کر رہے ہیں۔ لوگ عموماً اِن چیزوں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ لیکن اس کا لوگوں کی نفسیات پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ متذکرہ بورڈ پر کرینہ جی نیم عریاں حالت میں جس طرح جوانوں کی شہوت کو بھڑکا رہی ہیں، اُس بارے میں کسی جوان سے ہی استفسار کیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بورڈ ہمارے ہی بھائی بندوں نے اویزاں کیے ہیں۔ دن میں ہزاروں لوگ اس بورڈ کو دیکھتے ہوں گے۔ کرینہ جی کے ـبدن کی خوبصورتی کا اندازہ لگاتے ہوں گے اور اپنے شہوانی جذبات کو جِلا بخشتے ہوں گے۔ آج ایسی تصویر کی طرف میں نے دیکھ کر مزہ لے لیا۔ کل اس سے بڑھ کر کوئی مزہ دار تصویر کہیں چسپاں ہو گی۔ ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُن کی طرف دیکھیں گے۔ اپنی پسند بدلیں گے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا، کوئی سوال نہیں کرے گا ، کسی کے دل میں خیال تک نہیں آئے گا ، یوں ہماری تہذیب بدلتی جائے گی۔
۳۔ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے، یہی یلغار باقی شعبوں میں بھی چل رہی ہے۔ بچوں کا اسکول جانا ہو تو رپورٹر کو صرف نیم عریاں لڑکیاں ہی نظر آتی ہیں۔ صحت مندی کی علامت دکھانی ہو تو جوانوں کی نیم عریاں تصاویر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنے کلینک کی راہ دکھانی ہو تو اُس میں ایک انگریز لڑکی کا دکھانا ضروری بن جاتا ہے۔ا سکولوں کا پرچار کرنا ہو تو اسکارٹ پہنی بچیاں منظر عام پر لائی جاتی ہیں۔ بچوں سے منسلک کوئی اور چیز دکھانی ہو تو اُس میں ہندوستانی عورت کی بے پردہ تصویر کا ہونا ضروری ہے۔ گھڑی کی گنگناہٹ کو دکھانا ہو تو اُس میں کٹرینہ جی کا ہونا اہم ہے۔ بچوں سے لے کر بڑو ں تک، مرغی سے لے کر ہاتھی تک، صابن سے کے کر کوٹ پنٹ تک، اینٹ سے لے کر عمارت تک، بچپنے سے لے کر بزرگی تک،جس جگہ جہاں جائیں وہاں ایسی تہذیبی یلغار ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔
وائے ناکامی! متائے کارواں جاتا رہا
کاروان کے دل میں احساسِ زیاں جاتا رہا