ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی سب ڈویڑنل ہیڈکواٹر ٹھاٹھری سے صرف دو کلومیٹر کی دوری پر واقع دریا کالنئی پر ہونڈا کے نزدیک لکڑی کا عارضی پل گذشتہ ماہ کے تباہ کن سیلاب میں بہہ گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں موڑاجات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ نائب سرپنچ ہلارن چوہدری محمد شریف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی یہ پل متعدد بار سیلاب کی نذر ہو گیا ہے اور ہر بار مقامی لوگ اپنی رقم سے تعمیر کرتے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو پچھلے کئی برسوں سے ضلع و مقامی انتظامیہ کی نوٹس میں لایا جا رہا ہے لیکن یقین دہانیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ نائب سرپنچ نے کہا کہ عارضی پل بہہ جانے سے ہونڈا، لوپا،سلوگا، گلنی، کھٹاسو و مسرونڈا کی رہائشی آبادی کا راستہ صدر، تحصیل، سب ڈویڑنل ہیڈکواٹر سے منقطع ہو گیا ہے جس کے باعث مریضوں، بچوں و عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر سے مقامی لوگوں نے ذاتی رقم جمع کر کے اسی مقام پر لکڑی کا عارضی پل تعمیر کیا۔نائب سرپنچ نے کہا کہ اس جگہ کئی لوگ دریا میں گر کر بہہ گئے ہیں لیکن انتظامیہ تاحال کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے انتظامیہ پر ایس ٹی طبقہ کے ساتھ ہر سطح پر ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر، ڈی ڈی سی چیئرمین ڈوڈہ ،ڈپٹی کمشنر و سب ڈویڑنل انتظامیہ سے دریائے کالنئی پر ہونڈا کے نزدیک پکا پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی کو راحت مل سکے۔