گول//اگر چہ سرکار دور دراز علاقوں تک پانی کی بہتر رسائی کے لئے زمینی سطح پر لاکھوں ، کروڑوں روپے صرف کرنے کا دعویٰ کر تو رہی ہے لیکن جو زمینی سطح پر لاکھوں روپے صرف کئے گئے ہیں کیا اُن روپیوں سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ حاصل ہو رہا ہے یا صرف ٹھیکیداروں کی ہی جیبیں ان رقوم سے گرم ہوئی ہیں ۔ اس طرح سے سب ڈویژن گول میں محکمہ جل شکتی کی جانب سے کافی تعداد میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے حوض تعمیر کئے گئے لیکن سالوں سے یہ حوض استعمال نہیں کئے گئے جس وجہ سے لوگ آج بھی پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں ۔ علاقہ گاگرہ کا نائید باس علاقہ میں کم و بیش دو حوض محکمہ جل شکتی کی جانب سے تعمیر کئے گئے لیکن دونوں حوضوں میں پانی نہیں ہے ایک حوض پر مقامی شہری جس کی اراضی میں یہ حوض ہے اُس نے قبضہ ہی کر لیا ہے صرف اپنے لئے ہی کنکشن رکھا ہے باقی ایک حوض کو پیچھے سے ہی سپلائی نہیں دی گئی جس وجہ سے لوگ آج بھی دور دور چشموںسے پانی لا رہے ہیں ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا کہ یہاںپر ماہ مارچ سے لوگ پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں اور انہوں نے یہاں قریباً ایک سال سے کوئی ملازم بھی نہیں دیکھا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر محکمہ جل شکتی کی جانب سے دو حوض تعمیر کئے گئے جس میں سے ایک کوابھی تک پانی کی سپلائی نہیں دی گئی ایک حوض پر صرف ایک ہی گھر نے قبضہ کیا کیونکہ یہ حوض اُسی کی اراضی میں تعمیر ہوا اور صرف اپنے لئے ہی کنکشن نکالا دوسرے لوگوں کو نہیں دیا جا رہا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ یہاں پر محکمہ جل شکتی کا کوئی ضابطہ نہیں ہے جس وجہ سے یہاںپر پہلے ٹھیکیداری کی غرض سے اور زیادہ سے زیادہ رقم بچانے کی غرض سے حوض تو بنا لیتے ہیں لیکن ان حوضوں سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہے ۔اس سلسلے میں جب اے ای ای محکمہ جل شکتی سے بات کی تو انہوں نے اس بار ے میں وہ زمینی سطح پر دیکھیں اور لوگوں کو پانی کی سپلائی دینے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ رام بن ، ایس ڈی ایم گول اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ علاقہ میں لوگوں کو پینے کے پانی کی اس شدید قلت سے باہر نکالا جائے۔