پتھراﺅاور لاٹھی چارج میں ایس ایچ او سمیت کئی مزدور زخمی، سیول سوسائٹی نے کارروائی کا مطالبہ کیا
ڈوڈہ//دریائے چناب سے پریم نگر کے نزدیک ریت کے کاروبار کو لے کر عرصہ دراز سے مزدوروں و ٹھیکیدار کے درمیان چل رہا تنازعہ نے ہفتہ کے روز اسوقت تشدد کی صورتحال اختیار کی جب مزدوروں کے مطابق مذکورہ ٹھیکیدار بات چیت کے لئے موقع پر نہیں پہنچا جس کے بعد انہوں نے بٹوت کشتواڑ شاہراہ پر احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق پریم نگر کے نزدیک شبنوت پل کے پاس پچھلے کئی برسوں سے مزدور ریت کا کاروبار کرتے آئے ہیں اور گذشتہ برس محکمہ جیالوجی و مائننگ نے باقاعدہ طور پر ٹنڈر نکالے۔مزدوروں کے مطابق چناب سے وہ دہاڑی لگا کر ریت نکال کر ٹھیکیدار سے اجرت وصول کرتے تھے اور سڑک سے ریت گاڑیوں کے ذریعے سپلائی ہوتی تھی لیکن مذکورہ ٹھیکیدار نے مشینری کا استعمال عمل میں لایا جس پر مزدور برہم ہوئے۔احتجاجی مظاہرین میں شامل ریاض احمد و بیپن لال نے بتایا کہ مشینری کے استعمال سے ان کا روزگار چھن گیا ہے اور ٹھیکیدار ان کے ساتھ ناانصافی کررہا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ٹھیکیدار سنجے کمار بات چیت کے لئے بلایا تھا لیکن وہ وقت پر نہیں پہنچا جس پر مزدور برہم ہوئے اور نعرہ بازی کا سلسلہ شروع کیا۔اس دوران ایس ایچ او ٹھاٹھری امرت کٹوچ موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کو کہا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور پتھراﺅ شروع کیا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او کو سر میں گہری چوٹ لگی اور اس کی گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں کئے گئے لاٹھی چارج میں مزدور بھی زخمی ہوئے جن میں سے محمد امین، ریاض احمد و بیپن لال کو زیادہ چوٹیں آئیں ۔ایس ایچ او کو فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ منتقل کیا گیا جہاں پر اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے تاہم مزدوروں نے ہسپتال جانے سے انکار کیا اور احتجاج جاری رکھا۔اس واقعہ کے بعد ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر ،آپریشن ایس پی ڈوڈہ، ایس ڈی پی او بھدرواہ و ڈی ڈی سی کونسلر چرالہ موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا جس کے بعد ساڑھے چار بجے کے قریب احتجاج کو ختم کیاگیا۔ادھر سیول سوسائٹی نے مزدوروں کے اس رویہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کچھ شرپسند عناصر باہر سے آکر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مزدوروں کی مانگ کے ساتھ ہیں لیکن جو رویہ انہوں نے اختیار کیا وہ افسوسناک ہے۔انہوں نے قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔