بانہال //بیوپار منڈل بانہال کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کال پر سنیچر کے روز قصبہ میں دکانیں اور مقامی ٹرانسپورٹ مکمل طور سے بند رہا جس کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہو کر رہ گئی ۔ بیوپار منڈل بانہال قصبہ سے ہٹائے گئے بس اسٹینڈ سے مقامی مسافر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرر ہے ہیں تاکہ دوردراز کے علاقوں سے قصبے کا رخ کرنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صدر بیوپار منڈل بانہال نصیر احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہڑتال کی جائے کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے پچھلے تین برسوںکے دوران سب سے زیادہ مصائب کا سامنا دکانداروں کو کرنا پڑا ۔
لیکن انتظامیہ کی طرف سے مسافر گاڑیوں کو بانہال بس سٹینڈ سے چلنے کی اجازت نہ دینے اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے دکاندار اور ٹرانسپورٹر غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں اور مطالبات نہ ماننے تک یہ ہڑتال جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے چار مختلف مقامات پر گاڑیوں کی عارضی پارکنگ بنا رکھی ہے جو دور ہے اور قصبہ بانہال میں آنے جانے والے عام مسافروں ، مریضوں بزرگوں اور سکولی بچوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتظامیہ کے مثبت اقدامات کے منتظر ہیں تاکہ مسافروں اور دکانداروں کو بس اسٹینڈ کے ہٹانے سے ہورہی مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ بانہال سے جموں اور اننت ناگ کے علاہ رام بن ، اکڑال پوگل پرستان، کھڑی مہومنگت، نیل چملواس اور ٹھٹھاڑ نو گام کی رابطہ سڑکوں پر چلنے والی ایک ایک گاڑی کو سابقہ بس سٹینڈ بانہال سے چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ قصبہ بانہال آنے والے ہزاروں لوگوں کو روزانہ کی مشکلات سے نجات مل سکے۔