ترال// پبلک ہیلتھ سینٹر کہلیل ترال میں پچاس سال سے کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے 20گائوں کے ہزاروںلوگوں کو علاج معالجے کیلئے شدیددشواریوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔اس ہیلتھ سینٹر میں طبی ونیم طبی عملے کے 20ملازم تعینات ہیں جن میں ایک بی یو ایم ایس ڈاکٹراور ایک ڈنٹل سرجن اورایک آیورویدک ڈاکٹر شامل ہیں لیکن وہ مئی کے مہینے سے کووِڈ ڈیوٹی پرتعینات ہیں جبکہ اسپتال میں دو ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی کرسیاں کئی سال سے خالی پڑی ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق اسپتال میں اتناہی نہیں بلکہ نیم طبی عملے کی تعداد کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔ دستیاب جانکاری کے مطابق ہسپتال میںایک ڈنٹل سرجن،ایک بی یو ایم ایس ڈاکٹر کے علاوہ 2دواساز،1ہیلتھ ایجوکیٹر،ایک ہیلتھ ورکر ،ایک نرس اور ایک صفائی ورکر اس وقت کام کرہے ہیں،جبکہ ہسپتال میں ایک فارماسسٹ،2ایم بی بی ایس میڈیکل افسر،ایک جونئیر نرس،کمیونٹی ہیلتھ افسر،آئی ایس ایم فارما سسٹ کی ایک ایک کرسی ، 3نرسنگ آرڈر لی ،ایک صفائی کرم چاری،ایک آئی ایس ایم میڈیکل افسر ،لیبارٹری اسسٹنٹ،دوڈرائیور،دو چوکیدراوں کی جگہیں گزشتہ کئی سال سے خالی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نفوس پرمشتمل آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سرکاری ضوابط کے مطابق PHCمیں کم سے کم25 ملازمین پر مشتمل طبی و نیم طبی عملہ موجود رہتا ہے ۔ دستیاب جانکاری کے مطابق اس ہسپتال کو دوسابق ممبران اسمبلی ترال نے دو ایمولنس گاڑیاں فراہم کی ہیں جن کے بارے میں کسی کو کوئی علمیت نہیں ہے کہ یہ دونوں گاڑیاں کہاں ہے جبکہ اس ادارے کے لئے ایک ڈارئیور کی اسامی بھی باضابطہ طور منظور شدہ ہے ۔ وسیع علاقے کو دیکھ کر سرکاری کی جانب ہسپتال عمارت تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی اور شعبہ صحت کو3کنال اراضی بھی منتقل ہوئی جبکہ زیر تعمیر ہسپتال کاکام آخری مرحلے پر گزشتہ کئی سال سے رُکا پڑا ہے۔آبادی کے مطابق اس ہسپتال کے ساتھ جن عمارتوں پر کام شروع کیا گیا تھا، ان میں ہسپتال منتقل بھی ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے بلاک میڈیکل افسر ترال ڈاکٹر بشیر احمد نے بتایا کہ میری جانکاری کے مطابق جتنا عملہ یہاں تعینات ہونا چاہے تھا وہ اس وقت وہاں کام کر رہا ہے۔