کشتواڑ//گزشتہ ماہ 27تاریخ کو ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ دچھن کے ہونزڈ گائوں میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں آئے سیلاب کے سبب لاپتہ ہوئے 19افراد کی تلاش میں لگی این ڈی آر ایف ، ایس ڈی آر ایف، پولیس و فوج کی ٹیموں کے ہاتھ کچھ نہ لگااورایک ماہ بعد بھی لاشیں بازیاب نہ ہوسکیں جسکے بعد انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن کو مکمل طور ختم کر دیا۔ ضلع انتظامیہ نے واقعے کے فوراً بعد علاقہ میں امدادی کارروائی شروع کی تھی اور لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالنے کا عمل شروع کیا تھالیکن ایک ماہ کے زائد عرصے کے بعد بھی لاپتہ ہوئے افراد کاکوئی پتہ نہیں چل سکا۔ضلع ترقیاتی کمشنر اشوک شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن کو مکمل طور بند کردیا گیا ہے جبکہ علاقہ میں انتظامیہ نے ہرممکن مدد فراہم کی۔ انھوں نے ا علیٰ حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے اور امید ہے کی لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے مزید مدد ملے گی تاکہ متاثرین کی مدد ہوسکے۔انھو ں نے کہاکہ کل 19خاندان متاثر ہوئے ہیں جن میں فوت ہوئے افراد کے اہل خانہ کے ایک فرد کو بطور ایس پی او تعینات کیا گیا ہے جبکہ دو خواتین کو پاور پروجیکٹ میں نوکری فراہم کی گئی ہے اور آنے والے چند دنوں کے اندر مزید چھ افراد کو پاور پروجیکٹ میں نوکری فراہم کی جائے گی جبکہ رہایشی مکانات کی دوبارہ تعمیر کیلئے بھی ضلع انتظامیہ امداد فراہم کر رہی ہے اور پاور پروجیکٹ کمپنیوں نے شیٹ و دیگر سامان مہیا کیا ہے۔وضح رہے کہ اس سانحہ میں کل 26 افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ 17افراد زخمی ہوئے تھے اور 8رہایشی مکانات اور 1 راشن ڈیپو تباہ ہوگیا تھا۔