اقوام عالم کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمارے سامنے ایسے بہت سارے ستارے رونما ہونگے جن کی تعریف و توصیف آئے روز ہماری سماعتوں میں رس گھولتی ہے۔ جنکی کامیابی کے چرچے زباں زدِعام ہوتے ہیں اور جن کاذکر کرکے دل پھولے نہیں سماتا۔ دراصل کسی بھی شعبہ میں کامیابی کا پیمانہ انگنت کاوشوں اور مسلسل جدوجہد کے ذمہ ہوتا ہے۔ اس کامیابی کی کشمکش کے بیچ دل میں ہزاروں عزائم کے پہاڑ ایستادگی کے لئے جونہی کوشا ں ہوتے ہیں تو ہماری نگاہ اسباب و ذرائع کی جانب منتقل ہوجاتی ہے۔
گزشتہ دنوں میں دیش میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والوں نے ہندوستان کا نام عالمی سطح پر اُجاگر کیا ، جن میں نیرج چوپڑا سرِفہرست ہیں۔دیگر لوگوں نے بھی طبع آزمائی کی مگر ان کی کاوشوں کا پھل انہیں اس قدر نہ مل پایا تاہم عالمی سطح پر نشانِ امتیاز حاصل کرنا بھی ہر بامقصد نوجوان کیلئے باعثِ فخر ہے۔ ان کی یہ حوصلہ مندی اور جو ہرافشانی ہمارے معاشرے کے نوجوان طبقے میں جہدِ مسلسل کی روح پھونک دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولمپکس کے نتائج آنے کے بعد ہمارے نوجوان اپنے ہاتھوں میں ڈنڈا لئے ہوئے ایک بے ربط محنت میں جُٹ گئے ہیں۔ ان کی نگاہ میں طلائی تمغے لانے کی امنگیں اور امیدیں انگڑائیاں لینے لگیں مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں نوجوان طبقہ کی امیدوں پر سرکاری انتظامیہ بلڈوزر چلا دیتی ہے اور ان کے عزائم زمین بوس ہوکر رہ جاتے ہیں۔
ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے حسب ِصلاحیت سرکاری شعبہ جات کا انعقاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ریاستیں بخوبی سمجھ چکی ہیں کہ ہمارا نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہے۔اسی لیے 29اگست کا کھیل کود کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جموں و کشمیر بھی اپنے سینے میں ایسے بے شمار نگینوں کو سموئے ہوئے ہے کہ اگر اُنکی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے محرکات کا استعمال کیاجائے تو کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں جموں کشمیرکے سرپربھی کوئی طلائی تمغہ ہو۔ ضلع پونچھ کا علاقہ بھی اپنی گوناگوں صلاحیتوں سے پہچانا جاتاہے۔ یہاں کے طلباء وطالبات ملک میںبڑی بڑی پوسٹوں پر فائز ہیں۔ ضلع پونچھ کے ایک گاؤں کالا بن کا منظر کچھ یوں ہے کہ جیسے تعلیمی نظام دورِگذشتہ کاہو۔ یہاں کے ایک ہائی اسکول اعواں کالابن کی عمارت زمین بوس ہونے کو ہے۔ کھیل کود کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں۔ایک چھوٹا سا گراونڈ ہے جسکی حالت ِزار شکستہ ہے۔ مقامی سرپنچ کالابن مظفر حسین کا کہنا ہےکہ ضلع کے ذمہ داران سے بارہا اس موضوع پر بات ہوئی لیکن اُنکی طرف سے کوئی خاطرخواہ اقدام نہ ہونے کے سبب یہاں کے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ایسے حالات میں اقبال کا یہ مصرہ انکی زبانوں پر گردش کررہاہے کہ ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی‘۔ کالابن کا علاقہ یوں تو گونا گوں مسائل و مشکلاتسے دوچارہے۔ تعلیم ، پانی وبجلی اور دیگر کئی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔اگر تعلیم کی ہی بات کریں تو یہاں کے بچوں کو چھترال یا مہنڈر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔اس کے باوجوداگر یہاں کے نوجوانوں کوتعلیم سے جڑی سہولیات یعنی کھیل کود کے وسائل مہیا ہوتے تو یہ علاقہ بھی نیرج چوپڑا جیسے نوجوان پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن حیف ہے ہمارے ضلع ترقیاتی کارکنان پر کہ وہ آج تک نوجوان طبقہ کے لئے کھیلوں کے شعبہ جات کا اہتمام وانصرام نہ کر پائے اور اگر کیا بھی تو ان کی خستہ حالی میں بہتری نہ لا پائے۔ان کی اس ناقص انتظامی کارکردگی سے یہاں کے نوجوانوں کے پرعزم خواب شرمندہ تعبیر ہوپاتےہیں۔ اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ جس معاشرہ اور سوسائٹی میں نوجوان طبقہ کی صلاحیتوں کی قدر نہ ہو، وہاں رہنے والے لوگوں کے عزائم کی دیواریں مسمار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ایک مقامی نوجوان پچیس سالہ محبوب احمد کا کہنا ہے کہ ہماراعلاقہ مدتوں سے سرکاری عدم توجہی اور ناانصافی کا شکار ہے۔ یہاں کے نوجوان کھیل کود سے بڑی دلچسپی رکھتے ہیںاور ملک کے لیے تمغےلانا چاہتے ہیں۔لیکن وسائل کی کمی کے باعث انکے خواب حقیقت سے دورہیں۔ کا لابن کے علاقے میں کھیل کود کا کوئی مناسب میدان نہیں ، جہاں پر یہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔ یہاں کے طلباء اور نوجوان کبھی کبھی سڑکوں پرہی وکٹیں بچھا لیتے ہیں۔ مہنڈر کالا بن کے پورے علاقے میں چھوٹے چھوٹے خستہ حال اسکولی گراؤنڈوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی مناسب کھیل کا میدان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ان میدانوں سے بچے قومی اور عالمی سطح پر کھیلنے کی آس روش کرتے ہیں جو کہ ناممکن ہے۔ محبوب خان کے مطابق کالابن اعواں اسکول کا گراؤنڈ بہت ہی زیادہ خستہ حالی کا شکار ہے۔ جبکہ یہ اس علاقے کا مشترکہ گراؤنڈہے، جہاں دور دور سے بچے کھیلنےکیلئے جمع ہوجاتے ہیں مگر افسوس ! جگہ کی کمی اور گراؤنڈ کی خستہ حالی اُن کےکھیل کود میں سنگِ راہ بنتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی زبوں حالی کا شکار ہر وہ علاقہ ہے جس میں اسبابِ کھیل کود کامیسرنہ ہونا نوجوانوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ رہاہے۔ تو پھر کس طرح نوجوانوں کو قومی سطح پر تمغہ لانے کی توقعات میں ڈالا جائے۔مگر افسوس کے آزادی کے 74 سال بعد بھی حکومت ہوش کےناخن لینے میں ناکام رہی ہے۔
یہ سچ ہے کہ نوجوانوں کی صحت و تندرستی کیلئے ملک بھر میں کھیلوں کی مختلف اسکیمیں چلا ئی جارہی ہیں۔ ان اسکیموں میں کھیلو انڈیا اسکیم، فٹ انڈیا اسکیم، فزیکل ایجوکیشن اسکیم وغیرہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ذریعہ عمل میں لائی جارہی ہیں۔ وزارت ’کھیلو انڈیا اسکیم‘ کے تحت اور ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ (ای بی ایس بی) پروگرام کے ذریعے دیہی اور دیسی، قبائلی کھیلوں کو بھی فروغ دینا ہوتا ہے۔ مذکورہ اسکیمیں مرد اور خواتین دونوں کھلاڑیوں کے لیے ہیں ۔ اس کے علاوہ کھیلو انڈیا اسکیم کے متوازی ایک اسکیم 'خواتین کے لیے کھیل ،خاص طور پر خواتین میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔ مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہ سب اسکیمیں حدِ زباں تک محدود ہیں۔ اور زمینی سطح پر انکا فائدہ نوجوانوں کو نہیں مل رہا۔اگریہ سہولیات میسر ہوتیں تو قومی سطح پریہاں کے نوجوان بھی جوہر وکمالات دکھا رہے ہوتے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس سلسلہ میں جب ہم نے اعواں اسکول کالا بن کے ایک اندرونی ممبر سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکول برسوں سے تعلیم و تمدن کے کام کو انجام دے رہا ہے۔یہاں پہ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کو دور دراز شہر کے ا سکولوں میں داخلہ لینا پڑ تاہے۔ اور کھیل کودکی بات کی جائےتو اس کیلئے مناسب جگہ اسکول میں میسر نہیں۔ایک ہی چھوٹا سا گراونڈ ہے جو حکومت کی غیر ذ مہ د ارانہ نگاہ کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ اسکول کی عمارت و بیت الخلاء بھی انتہائی بوسیدہ حالت میںہے۔ہماری یہ اپیل ہے کہ ریاستی سرکار اس طرف متوجہ ہوجائے اور اسکول کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کرے۔ ایک اور مقامی نوجوان وسیم احمد جو کھیل کودسے بڑی دلچسپی رکھتے ہیں کا کہنا ہےکہ کھیل صحت مند زندگی کے حصول کیلئے نہایت ضروری ہیں۔ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہیں۔
کھیل خواہ کسی بھی قسم کے ہوں اِنڈور یا آوٹ ڈور، ہر طرح سے انسانی نشونما پر اثر ڈالتے ہیں۔ جو بچہ فزیکل فیٹنس کے اصول سے واقف ہو وہ خود کو ہر کھیل کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ کھیل کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں نے بھی اس میدان میں قدم رکھاہےاور تعلیم کے ساتھ ہی کھیل کی طرف بھی متوجہ کرایا جاتا ہے۔مگر افسوس! کالابن اعواں اسکول کا گراؤنڈ دیکھ کر ایسالگتا ہے کہ کھیل صرف وقت کا ضائع سمجھے جاتے ہیں اور ضلع ترقیاتی کارکن اسکے مفاد سے انجان ہیں۔ حق تو یہ بھی ہے کہ جس معاشرے میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں تو اس معاشرے کے اسپتال ویران ہوتے ہیں اور ایسے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی یقینی ہوتی ہے۔ ہماری حکومت کو بھی تعلیمی اداروں کے کھیل کے میدانوں پر خاص توجہ دینی چاہیے اور ان میں کھیلنے کے مناسب وقت، جگہ اور ماحول کا انتظام کیا جانا چاہیے۔(چرخہ فیچرس) (کالا بن، پونچھ)