سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے روشنی ایکٹ سکینڈل معاملے میںمبینہ طور پر ان کا نام لیے جانے پر جموں کشمیر کے سابق اور میگھالیہ کے موجودہ گورنر ستیہ پال ملک کو دس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا ہے ۔ ستیہ پال ملک نے محبوبہ مفتی پر روشنی ایکٹ کے تحت سرکاری زمین ہڑپنے کا الزام لگایا تھا۔محبوبہ مفتی نے 20 اکتوبر کو اپنے ایک ٹویٹ میں ملک کو اپنا بیان واپس نہ لینے کی صورت میں، قانونی چارہ جوئی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ مفتی نے اپنے نوٹس میںملک سے کہا ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر بطور معاوضہ 10 کروڑ روپے ادا کرے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرے۔ ہائی کورٹ کی جموں ونگ کے سینئر وکیل انیل سیٹھی نے ستیہ پال ملک کو نوٹس ارسال کیا ہے ۔ سیٹھی نے نوٹس میں کہا ہے کہ محبوبہ مفتی معاوضے کی رقم کو اپنے لئے نہیں بلکہ عوامی بہبود کیلئے استعمال کریں گی۔اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آپ کے بیان کی وجہ سے میری موکل کی ساکھ اور نیک نامی کو ہونے والے نقصان کی آپ کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم سے برپائی نا ممکن ہے ، پھر بھی میری موکل نے آپ کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔محبوبہ مفتی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ستیہ پال ملک کی باتیں سراسر غلط ہیں میری قانونی ٹیم ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے ۔ ان (ستیہ پال ملک) کو اختیار ہے کہ وہ اپنے تبصرے کو واپس لیں بصورت دیگر میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گی'۔