جموں// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں تب تک امن لوٹ آنے کی کوئی اُمید نہیں جب تک نہ یہاں کی خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجے کو واپس کیا جاتا۔سندر بنی نوشہرہ اور کالا کوٹ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ دفعہ370اور35اے کے خاتمے کولیکر بلند بانگ دعوے کرتے تھے، اُن کے دعوے آج زمینی صورتحال دیکھ کر ریت کی دیوار ثابت ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ دفعہ370ختم ہونے کے بعد تمام مسائل حل اور حالات ٹھیک ہوجائیں گے ، اُن سے آج سوال کیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے کہ وہ کیوں ہورہا ہے؟۔انہوں نے کہا ’’کشمیر میں تب تک امن نہیں آئے گا جب تک نہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجہ کو بحال کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی الیکشن جیتنے کیلئے ہندو کو الگ اور مسلمانوں کو الگ کررہی ہے۔ یو پی الیکشن کے پیش نظر فرقہ پرستی کو پھر ایک بار ہوا دی جارہی ہے اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں تقسیمی عناصر کا توڑ کرنا ہے اور اس کیلئے ہندوئوں، مسلمانوں ، سکھوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کالاکوٹ میں ہندو ، مسلم اور سکھ متحد ہیں اور مجھے اُمید ہے یہاں کے لوگ ہمیشہ آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی مشعل کو فروزان رکھیں گے۔