سرینگر//سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیارہنمااور وزیرسجادغنی لون سمیت کئی مین اسٹریم لیڈروںنے حیدرپورہ میں پیر کو ہوئے تصادم کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرانے کامطالبہ کیاہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حیدر پورہ میں ہوئے انکاونٹر کی غیر جانبدارانہ تحقیقاتی عمل پر زور دیا ہے۔عمر عبداللہ نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا ،’ ’تصادم میں مارے گئے لوگوں کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لینے لگے ہیں جس کا جواب تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہو پائے گا‘‘۔عمر عبدا للہ کا مزید کہنا ہے،’ ’ماضی میں فرضی تصادم کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں اور یہ کہ حیدر پورہ میں ہوئے انکاونٹر کے بارے میں اٹھائے جارہے سوالات کا فوری اور قابل اعتبار انداز میں جواب دہی کی اشد ضرورت ہے‘‘۔نیشنل کانفرنس نے منگل کو حیدرپورہ میں سوموار کو ایک مسلح تصادم میںجاں بحق کئے گئے چار افراد ،جن میں ایک پاکستانی اورایک مقامی جنگجو بھی شامل ہیں،معاملے کی معیاد بنداورغیرجانبدار تحقیقات کرنے کامطالبہ کیا ہے۔مہلوکین میں مالک مکان اور ایک ڈاکٹر جسے پولیس نے جنگجو ئوں کا اعانت کارقرار دیاہے،بھی شامل ہیں۔تاہم کنبے کے افراد نے پولیس کے دعوے کو ردکیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ،محمداکبر لون اورحسنین مسعودی نے منگل کو ایک بیان میں اس واقعہ کی غیرجانبداراورمعیادبندتحقیقات کرنے کا مطالبہ کیااورکہا کہ متاثرہ کنبوں کوسُناجائے اوران کااحترام کیا جائے۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو حیدپورہ مسلح تصادم کی عدالتی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مالک مکان اور ایک ڈاکٹر کی ہلاکت پر تشویش کااظہار کیا۔انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا،’’جنگجوئوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آپ(پولیس) نے شہریوں کو نشانہ بنانے سے ٹیس اُٹھتی ہے‘‘۔ٹوئٹرپر ایک صارف کی طرف سے شیئر کئے گئے الطاف احمد کی دختر کی ویڈیوپرردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ نے لکھا،’’معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنا ،اورانہیں گولیوں کے تبادلے میں ہلاک کرڈالنا اورپھرآسانی کے ساتھ انہیں بالائے زمین کارکن قرار دینا ،اب حکومت ہند کے ضوابط کی کتاب ہے۔‘‘محبوبہ نے مزید لکھا،’’لازمی ہے کہ عدالتی تحقیقات کی جائے جس سے ساراسچ سامنے آئے گااوربریت کے کلچر کا خاتمہ ہوگا‘‘۔اس سے قبل پارٹی دفتر پرنوجوانوں کے گروپ سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا ،’’مجھے یہ خبر ملی کہ حیدرپورہ میں تصادم ہواہے۔جنگجو ئوں کا جاں بحق ہونا سمجھ آتا ہے لیکن ایک کنبہ الزام لگارہا ہے کہ ان کے مالک مکان کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کیا گیااوروہ ایک جوان ڈاکٹر کے ساتھ ماراگیا‘‘۔انہوں نے مزیدکہا،’’مجھے نہیںمعلوم کہ(مالک مکان اور ڈاکٹر) کو کس کھاتے میں وہ ڈالیں گے لیکن دل میں ٹیس اُٹھتی ہے۔اس سے درداُٹھتا ہے کہ آپ نے جنگجوئوں سے لڑنے کے دوران شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔وہ غلط ہے‘‘۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین نے بھی حیدر پورہ تصادم کی غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔سجاد غنی لون نے منگل کے روز کہا کہ ایک غیر جانبدار ادارے کے ذریعہ حیدر پورہ تصادم میں کیا ہوا، اس کی شفاف وضاحت تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’حیدر پورہ تصادم میں متضاد دعوئوں کے درمیان ہم کم از کم اس کے حقدار ہیں کہ ایک غیر جانبدار ادارے کی طرف سے کیا ہوا، اس کی شفاف وضاحت ہو۔ یہ نہ تو پہلی بار ہے اور نہ ہی آخری بار۔سجادلون نے ٹویٹ میں لیفٹنٹ گورنر سے مخاطب ہوکرکہاکہ آپ کے پاس یہ دعویٰ کرنے کا موقع ہے کہ انسانی جانوں کی اہمیت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) رہنما یوسف تاریگامی نے حکام پر حیدرپورہ میںجاں بحق کئے گئے الطاف احمداورمدثرگل میتوں کواُن کے کنبوں کے حوالے کرنے پرزوردیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مبینہ طورہلاک کئے گئے غیرمسلح شہریوں کوانسانی ڈھال کے طور استعمال کرنا چونکادینے والا ہے اور اُس کی عدالتی تحقیقات کی جانی چاہیے۔کن حالات میں یہ ہلاکتیں ہوئی ،کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔تاریگامی نے کہا کہ کشمیرمیں قانون کی خلاف ورزی بریت کے ساتھ جاری ہے،جونہایت ہی بدقسمتی ہے ۔لوگوں کی بلاجوازگرفتاریوں سے لیکرانہیں کالے قوانین کے تحت قیدکرنا اوراب شہریوں کوانسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے سے حالات بد سے بدترین ہوتے جارہے ہیں۔