شعبہ سکل ڈیولپمنٹ کے جاری پروجیکٹ | پالی ٹیکنک مراکز کو جدت طرازی سے ہمکنار کرنے پر بٹھناگر کا زور
جموں //لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ( ایس ڈی ڈی ) کے مختلف جاری پروجیکٹوں کی فزیکل اور مالی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون ، مشن ڈائریکٹر سکل ڈیولپمنٹ مشن جموں و کشمیر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی وکاس کنڈل ، ، ترقیاتی کمشنر ورکس سمیع عارف ، ڈائریکٹر ایس ڈی ڈی سدرشن کمار ، چیف انجینئر آر اینڈ بی کشمیر /جموں ، ڈائریکٹر فائنانس ، متعلقہ پرنسپل ، آئی ٹی آئی کے سپرنٹنڈنٹس کے علاوہ متعلقہ ضلعی سطح کے افسران نے از خود اور ورچول موڈ میں میٹنگ میں شرکت کی ۔ میٹنگ کے دوران پولی ٹیکنک اور آئی ٹی آئی سیکٹرز کے تحت جاری مرکزی اسپانسر شدہ مختلف اسکیموں ، 18 نئی پولی ٹیکنک کے قیام ، نئی پولی ٹیکنک کی فزیکل اور مالیاتی صورتحال ، نئی پولی ٹیکنک میں مشینری اور آلات کی تنصیب کی صورتحال ، 4 پرانے پولی ٹیکنک اور جموں و کشمیر میں خواتین کے ہوسٹل کی تعمیر کی اپ گریڈیشن پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ۔ مختلف جاری پروجیکٹوں کی فزیکل اور مالیاتی پیش رفت کا جائیزہ لیتے ہوئے بٹھناگر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ پولی ٹیکنک عمارتوں پر جاری کام کو بروقت مکمل کریں تا کہ طلباء کو نئی عمارتوں میں منتقل کیا جا سکے ۔ مشیر نے متعلقہ افسران سے یہ بھی کہا کہ وہ نئی تعمیر شدہ پولی ٹیکنک میں مشینری اور آلات کی تنصیب کیلئے مطلوبہ منصوبہ پیش کریں ۔ افسران سے فنڈز کے صحیح استعمال کیلئے پوچھتے ہوئے مشیر بٹھناگر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ فنڈز کو تفویض کردہ کاموں پر استعمال کیا جائے اس کے علاوہ کام کے معیار کو ہر لحاظ سے برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی پر اس کی ذمہ داری طے کی جائے ۔ مشیر نے پولی ٹیکنک کے پرنسپلز کو مزید ہدایت دی کہ ہر پولی ٹیکنک میں تمام سیٹیں پُر ہونے کو یقینی بنائیں اس کے علاوہ پولی ٹیکنک میں داخلے کیلئے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو راغب کرنے کیلئے مناسب کونسلنگ کیمپ کا انعقاد کیا جائے ۔ میٹنگ کے دوران پرنسپل سیکرٹری ایس ڈی ڈی نے مشیر کو مختلف مرکزی اسپانسر شدہ اسکیموں کے تحت مختلف پروجیکٹوں کی فزیکل اور مالی پیش رفت کے بارے میں بتایا ۔
بھاجپا انتخابی فائدے کیلئے لوگوں کو تقسیم کررہی ہیں:محبوبہ مفتی
جموں//محبوبہ مفتی بے بھاجپا پرملک میں لوگوں میں تفرقہ ڈالنے کاالزام عائدکرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں سیاسی فوائد کیلئے لوگوں کو تقسیم کیا جارہا ہے۔محبوبہ جو جموں کے پانچ روزہ دورے پر ہیں ،نے بھاجپا پر الزام لگایا کہ وہ اترپردیش میں اگلے سال کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ملک میں لوگوں کو تقسیم کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے حکومتیں اپنی حصولیابیوں کے بل بوتے پر لوگوں سے ووٹ مانگتی تھیں جیسے انہوںنے کتنے پل بنائے ہیں ،روزگار کے کتنے مواقع مہیا کئے ہیں،اورکتنے جوانوں کو روزگار فراہم کیا ہے‘‘۔محبوبہ نے کہا،’’لیکن انہیں(بھاجپا) کو لوگوں کو دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے،سوائے ہندوئوں اور مسلمانوں کے لڑانے کے ،تاکہ ووٹ بٹورے جائیں‘‘۔ انہوںنے جموں کے جوانوں کو محتاط رہنے کاکہتے ہوئے کہا کہ سماج میں زہر گھولنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو بے روزگاری کابڑامسئلہ درپیش ہے اورانہیں(حکومت) کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔انہیں کسانوں کے مسائل کا جواب دینا ہے جو سڑکوں پر گزشتہ ایک سال سے بیٹھے ہیں۔ محبوبہ نے تری پورہ،اترپردیش اورمہاراشٹر میں حالیہ پیش آئے مبینہ فرقہ وارانہ تنائو کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ان کے پاس صرف ایک مشین ہے اور صرف ایک جز ہے اور وہ ہے سماج کو تقسیم کرناتاکہ اترپردیش کے انتخابات میںسیاسی فائدہ اُٹھایا جائے ۔ پی ڈی پی رہنما نے کہا کہ وہ جموں میں کرشن دیو سیٹھی کے گھر میں پلی بڑھی ہیں اور انہوں نے کبھی ہندو اور مسلمان کا فرق محسوس نہیں کیا۔یہ جموں کا بھائی چارہ ہے جو ملک کی ایک جگہ ہے جہاں سیکولرازم زندہ ہے اور ہند ومسلم اور سکھ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔محبوبہ نے کہا کہ آپ کو ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے بلکہ ان سے پوچھناچاہیے کہ کتنے مقامی لوگوں کو بجلی پروجیکٹوں اورفیکٹریوں میں کام ملا ہے جو یہاں قائم کئے گئے ہیں۔دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کتنے مقامی اورغیر مقامیوں کو جموں کشمیرمیں نوکریاں ملی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شراب کے تاجروں نے اپنی تجارت باہر کے لوگوں کے ہاتھوں کھو دی ہے جبکہ مقامی دکاندار اور چھوٹے کان کنوں کے روزگارپر بھی باہر کے لوگوں کاغلبہ ہورہا ہے۔سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میںہریانہ اور پنجاب میں 75سے80فیصد نوکریاں مقامی لوگوں کے لئے مخصوص رکھنے کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ نے پوچھا کیوں ایسی خصوصیت جو دفعہ370کی تنسیخ سے قبل جموں کشمیر کو حاصل تھی،چھینی گئی۔
۔5اگست کے بعد حالات بد سے بدتر ہوگئے : عمر عبداللہ
انتخابات کے انعقاد میں افسرشاہی حائل
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے 5اگست 2019کو خصوصی دفعات کی منسوخی پر جموں وکشمیر کو لیکر جو دعوے اور اعلانات کئے تھے آج کے حالات ان دعوئوں اور اعلانات کے عین برعکس ہیں۔پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں صوبہ کشمیر ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ مرکزی حکومت نے اس بات کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ خصوصی دفعات کی منسوخ کے بعد یہاں مکمل طور پر امن کا قیام ہوگا ،گن کلچر ختم اور پنڈتوں کی واپسی ہوگی لیکن حالات ٹھیک ہونے کے بجائے خراب سے خراب تر ہوتے گئے، آئے روز گولیاں چلتی ہیں، ہلاکتوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑا ہے، جو تھوڑے سے پنڈت واپس وادی آئے تھے، اُن میں سے بھی بہت سارے واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے دورِ حکومت میں کشمیر سے درجنوں بنکر اور فورسز کیمپ ہٹائے گئے تھے لیکن آج کے حالات دیکھئے کہ نہ صرف پرانی جگہوں پر پھر سے بنکر تعمیر کئے گئے بلکہ دوسری جگہوں پر بھی اُس سے دوگنی تعداد میں بنکر کھڑے گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ فلائی اووروں پر بنکر، سڑکوں اور گلی کوچوں میں فورسز کی موجودگی اور کمیونٹی ہالوں کو فورسز کی تحویل میں دینا ہی کشمیر کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کے حالات اتنے پُرامن تھے کہ ہمارے دورِ حکومت میں ایک وقت پر یہاں مرحلہ وار بنیادوں پر افسپا ہٹانے کا سنجیدگی سے غور کیا جارہا تھا لیکن5اگست 2019کے بعد صرف جموں وکشمیر کو اندھیروں میں دھکیلنے کا کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی ہر سڑک، ہر گلی اور ہر چوراہا 5اگست2019کے غیر جمہوری فیصلوں کی دہائی رے رہا ہے، یہاں کے حالات یہ ہیں کہ کسی کو حق اور صداقت پر مبنی بات کرنے کی اجازت نہیں،بے گناہوں کو سخت ترین قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے حتیٰ کی صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔گذشتہ دنوں ہی ایک صحافی کی اتنی مارپیٹ کی گئی کہ وہ 85فیصد بینائی سے محروم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صحافیوں کو عزت اور آبرو کا مقام دیا جاتا تھا اور یہاں آزاد صحافت کا بول بالا تھا لیکن آج ان کا قافیہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر پر اس وقت افسر شاہی مسلط کی گئی ہے اور یہ لوگ یہاں انتخابات کیلئے راہ ہموار ہونے نہیں دے رہے ہیں کیونکہ عوامی حکومت کے قیام سے ان کی عیش و عشرت ختم ہوجائیگی اور ان سے جوابدہی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت لوگ زبردست مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں ۔اجلاس میںپارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، سینئر پارٹی لیڈران میاں الطاف احمد، چودھری محمد رمضان، مبارک گل، شمیمہ فردوس، محمد اکبر لون، حسنین مسعودی، سکینہ ایتو، عرفان احمدشاہ ،محمد سعید آخون، نذیر احمد خان گریز، علی محمد ڈار، میر سیف اللہ، جاوید احمد ڈار، ترجمان عمران نبی ڈار، تنویر صادق، سلمان علی ساگر، عبدالمجید لارمی، میر غلام رسول ناز، غلام محی الدین میر، سید توقیر، شبیر احمد کلے، شوکت حسین گنائی، شوکت احمد میر، پیر آفاق احمد، قیصر جمشید لون، ڈاکٹر سجاد شفیع، محمد خلیل بند، مشتاق گورو، شیخ محمد رفیع، جگدیش سنگھ آزاد، پیر محمد حسین، شفقت وٹالی، سارا حیات شاہ، ہلال احمد لون، ارشاد کار، نذیر احمد ملک، ریاض بیدار، خواجہ محمد یعقوب وانی، سیف الدین بٹ، غلام حسن راہی، سید رفیق شاہ، صبیہ قادری، سلام الدین بجاڑ، غلام نبی بٹ، عفرا جان، غلام نبی وانی تیلبلی، غلام نبی راتھر، حاجی عبدلاحدر ڈار اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
اسمبلی چنائو میں تاخیر کرنا دانستہ حربہ: میر
جموں//پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمدمیر نے الزام عائد کیا ہے کہ بھاجپا دانستہ طور پر جموںوکشمیر میں اسمبلی انتخابات میں تاخیر کررہی ہے۔ ملک بھر میں جاری 'جن جاگرن ابھیان' کے ایک حصے کے طور پرریاسی میںدھرنے کی قیادت کرتے ہوئے غلام احمد میر نے مطالبہ کیا کہ جموںوکشمیر کو ریاستی درجہ بحال کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ بھاجپا اس لئے اسمبلی چنائو میں تاخیر کررہی ہے اُسے محسوس ہورہا ہے کہ عوام مخالف پالیسیوں کے سبب ان کورائے دہندگان کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر’ٹیکس دہشت گردی‘ کے ذریعے عام آدمی پر بوجھ ڈال رہی ہے اور ’نفرت کی سیاست‘ تکثیری سماج کے لئے خطرناک ہے۔انہوںنے کہاکہ ’’جہاں تک ہمارے جائزے کا تعلق ہے، بی جے پی کو آگے ایک مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اس سے واقف بھی ہیں، وہ جان بوجھ کر اسمبلی انتخابات میں تاخیر اور جموں و کشمیر میں ایک معروف حکومت کی تشکیل کے لئے حد بندی کی مشق کی رٹ لگارہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بھاجپا قیادت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ لوگ اس کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور لوگوں نے انہیں ہماچل پردیش میں اس کا مزہ چکھا لیا ہے ،جہاں حال ہی میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے تینوں اسمبلی نشستیں اور منڈی لوک سبھا کااہم حلقہ کانگریس سے ہار۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کے رائے دہندگان اس حکومت کو اس کے غلط کاموں کی سزا دینے کے موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔غلام احمد میر نے تاریخی ڈوگرہ ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنے پر بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ ’جموں و کشمیر کے 1.30 کروڑ لوگ اپنی شناخت کھو چکے ہیں، ہمارا کیا قصور تھا اور کس نے UT کا درجہ مانگا، دفعہ 370 پر اختلاف تھا لیکن کیوں؟ ہم سے ریاست چھین لی گئی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس جموں و کشمیر کے لوگوں کو دینے کے لئے کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی تفرقہ انگیز اور متنفر سیاست کے ذریعے ان کی توجہ ہٹائی جائے۔
یونیورسٹی سطح کے سالانہ امتحانات میں نمایاں کارکردگی
پولیس اہلکاروں کے 9 بچوں کے حق میںسکالرشپ منظور
سرینگر//پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے یونیورسٹی سطح کے سالانہ امتحانات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کے حق میں اسکالرشپ کو منظوری دی ہے۔تعلیمی سال2020-21 کے دوران مختلف یونیورسٹی سطح کے سالانہ امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے، ڈائریکٹر جنرل پولیس، دلباغ سنگھ نے اسکالرشپ کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے منگلوار کو پی ایچ کیو کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامہ کے مطابق ایسے پولیس اہلکاروں کے 9 بچوں کے حق میں ایک لاکھ کے لگ بھگ رقم کو منظوری ملی ہے۔حکم نامہ کے مطابق پولیس سربراہ نے ماسٹر ڈگری کے امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے چار بچوں کے حق میں فی کس12ہزار روپے کی رقم کومنظوری دی ہے۔ اسی طرح گریجویشن سطح کے امتحانات میں80 فیصد یا اس سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے پولیس اہلکاروں کے5 بچوں لیے فی کس8500 روپے کی رقم کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ رقم سنٹرل پولیس ویلفیئر فنڈ سے منظور کی گئی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے دوران ڈی جی پی نے پولیس اہلکاروں/ایس پی او ایس کے ایسے بچوں، جنہوں نے سالانہ امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کے حق میں تقریباً1.6 کروڑ روپے کی رقم کو منظوری دی ہے۔میرٹوریس اسکالرشپ کا مقصد میرٹ کو فروغ دینا اور پولیس اہلکاروں کے وارڈز میں مقابلے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کی Meritorious اسکالرشپ اسکیموں میں 10ویں اور 12ویں /یونیورسٹیوں اور تکنیکی کورسز کی سطح کے امتحانات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کو خصوصی انعام بھی دیئیجاتے ہیں جبکہUPSC، JKPSC، NEET، NET، CSIR وغیرہ جیسے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے وارڈوں میں بھی انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں۔
ولر کوسیاحتی منزل بنانے کی کوششیں جاری: سرمدحفیظ
سدرکوٹ( بانڈی پورہ)//یہاں کی مشہور ولر جھیل کے کنارے ثقافت ، موسیقی اور آرٹ کی ایک دن کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ موقعہ ولر وینٹیج پارک میں ولر فیسٹول کا جشن تھا جس میں محکمہ سیاحت جموں وکشمیر کے 75غیر معروف سیاحتی مقامات کو فروغ دینے کی پہل کا حصہ تھا ۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے سیکریٹری سیاحت و ثقافت سرمدحفیظ نے کہا کہ یہ میلہ جموںوکشمیر کے 75غیر معروف سیاحتی مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے اور ان کی اچھی آمد کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ سیاحت کے اقدام کا حصہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں کے میلے کا مقصد بانڈی پورہ بالخصوص ولر جھیل کے سیاحتی امکانات کو روشنی میں لاناہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ نے اِس سال کے شروع میں گریز میں تین روزہ فیسٹول کا اِنعقاد کیا تاکہ منزل کی تشہیر کی جاسکے۔سیکرٹری سیاحت نے ولر جھیل کو ایک مکمل سیاحتی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ اِس جھیل کو شبیہ کو بلند کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے جو کہ ایشیا کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے اور یہاں سیاحوں کی نمایاں آمد کو یقینی بنا یا جارہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ ولر اور اس سے ملحقہ علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے کے لئے جل دہی پرندوں کو دیکھنے کا میلہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے ۔سرمد حفیظ نے کہا کہ اس سے علاقے میں سیاحتی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس سے معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ میلہ مقامی آبادی کو اَپنے علاقے میں سیاحت کی صلاحیت کے بارے میں جاننے کا موقعہ بھی فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت نے اس میلے میں ٹور اینڈ ٹریول آپریٹروں کو مد عو کیا ہے جس اس جگہ کی خوبصورتی اور صلاحیت کے بارے میں جانیں گے تاکہ وہ سیاحوں کو پیش کر سکیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے اَپنے خطبہ استقبالیہ میں امید ظاہر کی کہ یہ میلہ بانڈی پورہ ضلع کے سیاحتی امکانات کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ ضلع میں سیاحت کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مختلف پروجیکٹ پائپ لائن میں ہیں جو ضلع میں سیاحت کے شعبے کو فروغ دیں گے۔ناظم سیاحت کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے کہا کہ عصر حاضر میں سیاح صرف سیرو تفریح نہیں چاہتے ہیں بلکہ ایڈونچر، کھیل وغیرہ سمیت متعدد سرگرمیاں چاہتے ہیں ۔ انہوں نے پودوں اور حیوانات کا خیال رکھتے ہوئے غیر استحصال والے علاقوں میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
مشتاق چایہ جموں اور کشمیر ہوٹلیئرس کلب کے چیئرمین منتخب
سری نگر//جموں اور کشمیر ہوٹلیئرس کلب نے آئندہ 2برسوںکیلئے مشتاق احمد چایہ کو دوبارہ چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔ہوٹل ریڈیسن میں منعقد ہوئے انتخابات میں اراکین نے متفقہ طور پر مشتاق چایہ کو دوبارہ منتخب کیا ۔ریاض اے شہداد سینئر وائس چیئرمین، امیت آملہ جونیئر وائس چیئرمین، طارق رشید گانی سیکریٹری جنرل، نصیر خان جوئنٹ سیکرٹری جنرل، مصدق شاہ خزانچی اور ظہور اے ترمبو مشیر منتخب ہوئے۔جموں و کشمیر ہوٹلیئرز کلب کے ممبران بشمول گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ کے ممبران نے بھی عہدیداروں کے انتخاب میں حصہ لیا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے، چایا نے ممبران کی حمایت اور ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرنے پر ان کی ستائش کی۔انہوں نے ممبران کو یقین دلایا کہ وہ بالخصوص ہوٹل انڈسٹری اور بالعموم ٹریول ٹریڈ کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔اس موقع پر چایا نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ ہوٹل والوں کو ان کی جائیدادوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے اہم مقامات پر اجازت دی جائے۔انہوں نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ وہ گلمرگ جیسے سیاحتی مقامات پر ہوٹل والوں کے زمینی لیز کے معاہدے کی تجدید کرے تاکہ وہ مہمان نوازی کے شعبے کو بغیر کسی پریشانی کے فروغ دے سکیں۔
باغبانی شعبہ کی مربوط ترقی | جموں وکشمیر کیلئے 6 سی اے پروجیکٹوں کی منظوری
سرینگر //ایم آئی ڈی ایچ کی بااختیار نگران کمیٹی کی 20ویں میٹنگ منگل کو آچاریہ جگدیش چندر بوس ہال میں مرکزی ایڈیشنل سکریٹری (A&FW) ڈاکٹر ابھیلکش لکھی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں کرشی بھون ریاستی باغبانی مشن کے تحت پروجیکٹوں پر مبنی تجاویز کو منظور ی دی گئی۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل باغبانی کشمیر اعجاز احمد بٹ نے بھی شرکت کی جس میں 10 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی جن میں سے 6 سی اے پروجیکٹس جموں و کشمیر یو ٹی کیلئے ہیں ۔ان پروجیکٹوں کی منظوری جموں و کشمیر میں CA اسٹوریج کے مطلوبہ بنیادی ڈھانچے میں اضافہ کرے گا۔چیئرمین نے اس دوران ہدایت دی کی وہ دیگر پروجیکٹوں کیلئے مظلوبہ دستاویزات کو فوری مکمل کریں تاکہ اگلی میٹنگ میں ان پروجیکٹوں کو منظوری دی جا سکے۔
حیدرپورہ میں نہتے شہریوں کی ہلاکت افسوسناک: حریت (ع) | آخری رسومات کیلئے لواحقین کو نعشیں سپرد کی جائیں
سرینگر//خانہ نظر بند میرواعظ کی سربراہی والی حریت کانفرنس(ع) نے حیدرپورہ سرینگر میںفائرنگ کے تبادلے کے دوران نہتے شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ خاندانی ذرائع کے مطابق حیدر پورہ کے محمد الطاف بٹ کو فورسز نے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہلاک کیا اور خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کا کسی بھی جنگجو گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا جیسا کہ مرحوم کی بھانجی سائمہ نے میڈیا کے سامنے حقیقت حال بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرحوم الطاف بٹ کو تین بار انسانی ڈھال کے طور پر چیکنگ کیلئے لے جایا گیا اور تب تک وہاں کوئی فائرنگ بھی نہیں ہوئی تھی اور جب فورسز کو کچھ ہاتھ نہیں آیا تو الطاف کو گولی مار کر وہیں ڈھیر کردیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ جموںوکشمیر میں فورسز کو جاری غیر معمولی اختیارات کے نتیجے میں یہ افسوسناک حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ متاثرہ خاندان کے افراد گزشتہ کل سے سڑکوں پر آکر اس بات کیلئے احتجاج اور التجا کررہے ہیں کہ کم از کم انہیں اپنے عزیز کی لاش آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے ان کے حوالے کی جائے جس کی تاحال حکام اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔حریت (ع)نے کہا کہ ہلاک کئے جانے والے ایک اور شہری راولپورہ کے سینئر ڈینٹل سرجن ڈاکٹر مدثر گل ہیں جن پرOGWکا لیبل چسپاں کیا گیا ہے تاکہ ان کے خون ناحق کا جواز پیش کیا جاسکے ۔حریت (ع)نے کہا کہ حکمرانوں کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کیخلاف بھارت سمیت عالمی برادری اور سول سوسائٹی کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیرمیں رہنے والے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔حریت (ع)نے کہا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس سانحہ میں ہلاک کئے جانے والوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور جاں بحق ہوئے افراد کی لاشیں فوری طور پر ان کے لواحقین کو سپرد کئے جائیں تاکہ وہ ان کی مناسب تدفین کافریضہ انجام دے سکیں حالانکہ لواحقین کیلئے صدمہ ناقابل برداشت ہے اور ان کے زخم بھرے نہیں جاسکتے۔
مغل باغات نشاط اور شالیمار کی بحالی | پروجیکٹ مانیٹرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ منعقد
جموں//مغل گارڈن شالیمار اور نشاط کے تحفظ /بحالی کے کاموں کے سلسلے میں پروجیکٹ مانیٹرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ کمشنر /سیکرٹری برائے حکومت فلوریکلچر ، پارکس اینڈ گارڈنز ڈیپارٹمنٹ کی صدارت میں سول سیکرٹریٹ جموں میں منعقد ہوئی ۔ جس میں جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن کے نمائندوں کے علاوہ پروجیکٹ مانیٹرنگ کمیٹی کے ممبران بھی موجود تھے ۔ میٹنگ میں جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن کی کنسلٹنٹ مسز ابھا نارائن لامبا کی طرف سے ایک تفصیلی پرذنٹیشن دی گئی ۔ پرذنٹیشن کے دوران مغل گارڈن شالیمار میں شروع کئے جانے والے تحفظ /بحالی کے کاموں کے حوالے سے ایک موضوعی گفتگو ہوئی ۔ باغ میں تحفظ اور بحالی کیلئے جن کاموں کی نشاندہی کی گئی ہے پنک پویلین ، نور محل اور میڈز کوارٹرز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مزید براں گارڈن کے سینٹرل وسٹا ، فوارے ، واٹر باڈیز ، واٹر چینلز ، واچ ٹاورز اور دیگر ساختی اجزاء کی اپ گریڈیشن پر بھی بات ہوئی ۔ کنسلٹنٹ جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن کی طرف سے پیش کردہ جامع /محفوظ منصوبہ پروجیکٹ مانیٹرنگ کمیٹی ( پی ایم سی ) کے اراکین نے پہلی بار تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ ( ڈی پی آر ) کی تیاری کیلئے متعلقہ طور پر انتفاق کیا ۔
سکمز میں غذائیت پرجانکاری پروگرام
سرینگر // سکمز صورہ کے شعبہ غذائیات نے نیوٹرا سینٹریکل ویلنس کے اشتراک سے یک روزہ جانکاری پروگرام کا اہتمام کیا ۔ ڈائریکٹر سکمز نے منتظمین کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو غذائیات کے بارے میں بتانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ صحتمند رہن سن اپنا سکے۔ انہوں نے پروگرام کے منتظم کے علاوہ نیٹرو دسینٹرل ویلنس آرگنائزیشن کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ اس موقعہ پر شعبہ غذائیات کی سربراہ شاہانہ قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غذائیت کے بارے میں جانکاری زندگی کے ہر مرحلے پر ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس موقعہ پر شعبہ کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی ۔ نیوٹروسینٹرل وینلس ممبر عرفان ٹاک نے موجودہ صورتحال میں موزوں غذائیت کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ ماہرین نے موزوں غذا اور عمر کے مختلف زمروں میں آنے والے لوگوں کو ہر وقت موزوں غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروگرام میں فیکلٹی ، طلبہ اور مختلف شعبہ جات کے افسران نے بھی شرکت کی۔
کشمیراوروسطی ایشیاء:عمومی عارفانہ وراثت | کشمیریونیورسٹی میں سمینارشروع
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی میں منگل کو’’کشمیراوروسطی ایشیاء:عمومی عارفانہ وراثت‘‘سمینار شروع ہوا۔قومی سطح کے اس سمینار کاانعقاد یونیورسٹی کے شیخ العالم سٹیڈیزسینٹر نے کیا ہے۔ڈین اکیڈمک پروفیسرفاروق احمد مسعودی نے سمینارمیں مہمان خصوصی کے طور شرکت کی جبکہ رجسٹرارڈاکٹرنثار علی مہمان ذی وقار تھے۔اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر مسعودی نے نئی تعلیمی پالیسی میں تمدنی تاریخ کے مطالعے کی اہمیت بیان کی۔انہوں نے شیخ العالم سینٹر سٹیڈی سینٹر کی یہ سمینار منعقد کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر میر نے یقین کی اہمیت صوفی منظر نامے میں بیان کی۔انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی اُن تمام تعلیمی کاوشوں کی مدد کرنے کو تیار ہے جن کا مقصد علم اور معلومات کووسیع کرنا ہے۔سینٹرفار شیخ العالم اسٹیڈیز کے چیئرمین پروفیسرجی این خاکی نے وسطی ایشیاء کے عارفوں ،صوفیوں،شاعروں اور اسکالروں کی بھارت کی تاریخ خاص طور سے کشمیر کی تاریخ کو مرتب کرنے میں رول کو اُجاگرکیا۔
عوام معاشی بحران کا شکار | جے کے پی سی سی لیڈران کا کنزر میں اجتماع سے خطاب
سرینگر//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے نائب صدر حاجی عبدالرشید ڈار نے جموں و کشمیر میں معاشی بحران اور بے روزگاری کیلئے مرکزی حکومت کوہدف تنقید بنایا۔موصوف ملگام کنزر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جو جموں و کشمیر میں شروع کی گئی پارٹی کے’ جن جاگرن ابھیان ‘کا حصہ ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما بشیر احمد ماگرے ترجمان، گلزار احمد وانی، ڈی سی سی صدور فیاض احمد میراور جی اے ریشی نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ عبدالرشید ڈار نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے شروع کئے گئے ’جن جاگرن ابھیان ‘کا مقصد مہنگائی، بے روزگاری اور ملک کے تئیں مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو درپیش دیگر مسائل کے خلاف بھرپور احتجاج کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی معاشی بحران، پٹرول، ڈیزل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتی ہے ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔
برلا اوپن مائنڈز انٹرنیشنل اسکول کی جانب سے شجرکاری مہم
پانپور// برلا اوپن مائنڈس انٹرنیشنل سکول نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل فارسٹری کے تعاون سے شجرکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کی صدارت عبدالعزیز میر چیئرمین بی ایم ایل ویلفیئر ٹرسٹ نے کی۔ ڈائریکٹر برلا شیخ غیاث الدین نے تمام معززین کا خیرمقدم کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ریجنل ڈائریکٹرسوشل فارسٹری کشمیر معراج الدین ملک نے شرکاء کو مختلف اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کے شبیر احمدنے آلودگی پر روشنی ڈالیاور انہوں نے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا۔ سماجی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر نے نوجوان نسل کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین بلالیہایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ منظور احمد وانگنو نے شجرکاری کا اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔اس موقع پر دیگر معززین میں اشتیاق محی الدین تحصیلدار پارنپوراور ایس ڈی پی او سمیت دیگر لوگ بھی موجود تھے۔
غیر قانونی کان کنی کے خلاف جیالوجی مائننگ سرگرم
چار ماہ کے دوران 300ٹپر، ڈمپراور ٹریکٹر ضبط، 60لاکھ روپے جرمانہ وصول
سرینگر//محکمہ جیالوجی اینڈ مائننگ نے غیر قانونی کان کنی کے الزام میں گزشتہ چار ماہ کے دوران 300 ٹپر، ڈمپر اور ٹپر ضبط کرلئے جبکہ قصورواروں سے لاکھوں روپئے کا جرمانہ بھی وصو ل کیا گیا ۔ ڈسٹرکٹ منرل افسر سہیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران غیر قانونی طریقے سے معدنیات حاصل کرنے والوں سے قریب 60لاکھ روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت میں محکمہ نے ضلع میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران 300ٹپر، ڈمپر، اور ٹریکٹروں کے علاوہ 20جے سی بی بھی ضبط کرلئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ معدنیات کو نکالنے کیلئے مخصوص جگہوں کا تعین کیا گیاہے تاہم اس کیلئے محکمہ کی جانب سے باضابطہ بولی لگائی جائے گی اور یہ عمل جلد شروع کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ مواد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایس ڈی آر ایف کشمیر کے اہتمام سے مصوری مقابلہ
سرینگر// آزادی کا امرت مہااتسو منانے کے سلسلے میں کشمیر ہارورڈ اسکول حبک سرینگر میں ایس ڈی آر ایف کشمیر کی جانب سے ایک پیٹنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔کشمیر ہارورڈ اسکول اور ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں سمیت نامور اسکولوں کے 80 طلباء نے دو زمروں میں حصہ لیا۔پہلی کیٹگری میں علی میموریل سکول کی فاطمہ عباس، گرین ویلی کے طہور مشتاق اور رینبو انٹرنیشنل کے ریان ملک نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ دوسری کیٹگری میںہارورڈ کے یوسف کشمیر، عرشیہ عمر اور ٹائنی ہارٹس کے سہیب شبیر نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔تقریب کے دوران سبھی شریک طلباء کو شرکت کیلئے اسناد دی گئیں۔ ہر گروپ میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو نقد انعامات کے ساتھ ساتھ پرنسپل کے علاوہ ایس ڈی آر ایف فسٹ بٹالین کے کمانڈنٹ حسیب الرحمن اور طارق احمد بکتو (چیئرمین کشمیر ہارورڈ اسکول حبک سرینگر) نے بھی انعامات سے نوازا۔ اختتامی تقریب میں حسیب الرحمان جو اس موقع پر مہمان خصوصی بھی تھے، نے شرکاء کو یقین دلایا کہ SDRF کشمیر کی جانب سے مستقبل میں بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
بانڈی پورہ میں ولر میلہ کا انعقاد
حکام نے جھیل کی شانِ رفتہ بحال کرنے کا عزم دہرایا
عازم جان
بانڈی پورہ//بانڈی پورہ میں ولر میلہ 2021 شان شوکت سے منایا گیا۔اس سلسلے میں محکمہ سیاحت کے سیکریٹری سرمد حفیظ ،ڈائریکٹر غلام نبی ایتو،ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد اور ایس ایس پی محمد زاہد مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈی ڈی سی چیئرپرسن اورنائب چیئرپرسن کے علاوہ اے ڈی ڈی سی علی افسر خان ،اے ڈی سی ظہور احمد میر،جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ امتیاز احمد، ایڈیشنل ایس پی محمد عاشق ٹاک اورضلع انفارمیشن افسر بانڈی پورہ جہانگیر احمد آخون بحیثیت مہمانان ذی وقار موجود تھے۔ولر میلہ کی تقریب کے دوران رنگا رنگ تمدنی پروگرام پیش کئے گئے ۔اس موقع پر محکمہ سیاحت کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر کے علاوہ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ نے خطاب کرتے ہوئے ولر میلہ کی نسبت سے روشنی ڈالی ۔انہوں نے ولر کی شان رفتہ کو بحال کرنے کے لیے کئے گئے اقدامات کی تفصیل ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ولر جھیل کو بانڈی پورہ میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کلیدی مقام عطا ہوگا ۔دیگرمقررین نے کہا کہ ولر میلہ کامقصد لوگوں کو سیاحت کی جانب راغب کرنے کا ذریعہ ہے ۔
سی سی ٹی این ڈیٹا بیس
بانڈی پورہ میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا
سرینگر//ضلع بانڈی پورہ کے پولیس تھانوں کے سی سی ٹی این ایس ڈیٹا بیس میں فیڈنگ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی پی او میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈی وائی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد ادریس نے کی۔ میٹنگ میں ضلع بانڈی پورہ کے سی سی ٹی این ایس آپریٹروں،ایم ایچ سیز اور انچارج سی سی ٹی این ایس نے شرکت کی۔ڈی وائی ایس پی ہیڈ کوارٹر نے اس موقع پر متعلقین کو ہدایت کی کہ وہ ڈیٹا بینک سروسز ماڈیول، سٹیزن سروسزماڈیول اور دیگر دستیاب فارموں،رجسٹریوں کو اپ ڈیٹ کریں ۔انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر آن لائن سافٹ ویئر کے ذریعے شکایات اورشہری خدمات کی درخواستوں کو چیک کریں۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کو روزانہ کی بنیاد پر لاگ ان کریں اور تمام سائبر شکایات کا ازالہ کریں۔