سرینگر//حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے سالانہ عرس کے سلسلے میں وادی بھر میں تقاریب کا انعقاد ہواجہاں درودواذکار کی روح پرور مجالس میں عقیدتمندوں کی بھاری تعدادنے شرکت کی اور دستگیر صاحب ؒ کے تبرکات کے دیدار سے فیضیاب ہوئے۔ سب سے بڑی تقاریب آستان عالیہ خانیار اور سرائے بالامیں منعقد کی گئیں۔ پنجورہ شوپیان،بارہمولہ،سونہ وار،جناب صاحب صورہ،نادی ہل رفیع آباد،بانڈی پورہ ،کھرم سرہامہ، زچلڈارہ ہندوارہ، تجرشریف اور وادی کے دیگر کئی علاقوں کی مساجد ،خانقاہوں اور درگاہوں میں ایسی ہی تقاریب منعقد ہوئیں۔ عرس کی اختتامی تقاریب کے موقعے پر زائرین نے جوش و خروش اور عقیدت و احترام کا بھرپور مظاہرہ کیا۔آستان عالیہ خانیار میںدن بھر نعت و منقبت، درودواذکار اور ختمات المعظمات کی محفلیں آراستہ ہوئیں۔نماز ظہر صدر انجمن حمایت الاسلام مولانا خورشید احمد قانونگو نے تقریب پر حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کے گرام قدر تبلیغی اور روحانی ، درس و تدریس کے گوشوں پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آن جنابؒ نے انتشاری حالات میں اہل اسلام کے مردہ دلوں کو زندگی بخشی ۔ خانیار کے ساتھ ساتھ سرائے بالا میں بھی عقیدتمندوں کی بڑی تعداد نے حاضری دی جس کے نتیجے میں علاقہ کی فضائیں روح پرور آوازوں سے گونجتی رہیں۔ خانیار اور سرائے بالا میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمند تبرکات کے دیدار سے فیضیاب ہوئے اور یہ عمل ہر نماز کے بعد دہرایا گیا۔اس دوران وادی کے مختلف علاقوں میںدن بھر لوگوں کی بھاری تعداد نے زیارت گاہوں پر حاضری دی ۔ عرس کی تقریبات آثارشریف پنجورہ شوپیان،خانقاہ دستگیرصاحبؒؒبارہمولہ،سونہ وار سرینگر،جناب صاحب صورہ،نادی ہل رفیع آباد،بانڈی پورہ ،کھرم سرہامہ، زچلڈارہ ہندوارہ، تجرشریف سوپور اور وادی کے دیگر کئی علاقوں کی مساجد ،خانقاہوں اور درگاہوں میں منعقد ہوئیں۔تجر شریف سوپور کی خانقاہ میں رات بھر ہزاروں عقیدتمند شب خوانی میں محو رہے ۔