بانڈی پورہ +سوپور//بانڈی پورہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بانڈی پورہ قصبہ، ارن ،آلوسہ ،کنن ،ماڈر، چکریشی پورہ، آیت مولا، سنروانی ،خیار اونگام ،کہنوسہ، اشٹنگو، حاجن، سمبل ، نائندکھے ،شاہ گنڈ اوردیگر علاقوں کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما شروع ہونے سے قبل ہی بجلی کی کٹوتی بڑے پیمانے پیمانے پر کی جارہی ہے۔کہنوسہ اور اشٹنگو کے لوگوں نے کہا کہ اس وسیع علاقے کو وٹلب سوپور رسیونگ سٹیشن کے ساتھ جوڑا گیاہے جس کی وجہ سے علاقے کو شیڈول کے مطابق بجلی سپلائی فراہم نہیں ہورہی ہے ۔علاقے کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ کہنوسہ اشٹنگو اوردیگر ملحقہ بستیوں کو پتوشے گرڈسٹیشن کے ساتھ جوڑا جائے ۔بانڈی پورہ کی دورافتاد پہاڑی بستیوں ویون ،آٹھوتو ،پانار،چھانہ دجی ،بینلی پورہ ،کوٹا ستھری اورکڈورا شمتھن کے لوگوں نے کہا کہ ان بستیوں میں اب بجلی اکثر آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔ لوگوں نے ضلع انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی سپلائی میں فوری طور پر معقولیت لائی جائے ۔سوپور کے زینہ گیر علاقے میںبجلی کی غیر مقررہ کٹوتی کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگوں نے پی ڈی ڈی پر کٹوتی کے شیڈول پر عمل نہ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا’’ ہمیں 24 گھنٹے میں 10-12 گھنٹے بھی بجلی نہیں مل رہی ہے جو افسوسناک ہے‘‘۔کئی طلباء نے کہا ’’ ہم JKSSB اور دیگر مسابقتی امتحانات سمیت مختلف جاری اور آنے والے بورڈ امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں لیکن بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ہمیں سخت مشکلات درپیش ہیں‘‘۔ آرام پورہ سوپور کے ایک طالب علم محمد عظیم نے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے وہ اچھی طرح پڑھائی بھی نہیں کرسکتے۔نور باغ سوپور کے ایک باشندے شوکت احمد ملک نے کہا ’’جیسے ہی سردیاں آتی ہیں، بجلی آنکھ مچولی کا کھیل شروع کر دیتی ہے‘‘۔دریں اثناء پی ڈی ڈی سوپور کے ایک اہلکار نے کہاکہ بجلی کی اس صورتحال کیلئے اوور لوڈنگ ہے کیونکہ لوگ زیادہ تر ہیٹر، بوائلراور گیزر استعمال کرتے ہیں۔