سرینگر //جموں کشمیر میں بجلی کے نظام میں مستقبل قریب میں کسی سدھار کو کم ہی امکان ہے کیوں کہ محکمہ کا مجموعی تیکنیکی وتجارتی (AT&C) خسارہ60.4فیصد ہے اور یہ ملک میں سب سے زیادہ ہے جبکہ محکمہ بجلی ابھی تک ترسیلی اور تقسیم کاری نقصان کو 50فیصد تک کم کرنے میں ناکام ہے۔محکمہ ان نقصانات کو کم کرنے کیلئے کوئی بہتر منصوبہ نہیں بنارہا ہے اور ان نقصانات میں کمی لانے کیلئے محکمہ بجلی زبانی جمع خرچ سے کام لیکر صرف عوام کو ہی اس کا ذمہ دار گردانتا ہے،جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ محکمہ خود ہی ان نقصانات کاذمہ دا ر ہے کیوں کہ جموں کشمیر میں سرکاری محکموں کے علاوہ عام لوگوں سے نہ ہی بجلی فیس کی برابر وصولی کی جارہی ہے اور نہ ہی لوڈ کے مطابق فیس لی جارہی ہے۔بجلی کی خریداری کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اورجموں کشمیربجلی واجبات کواداکرنے میں ناکام ہے۔بجلی کا جتنا استعما ل ہورہا ہے اس کی فیس اتنی ادانہیں ہوتی اور یہ محکمہ کی ناکامی ہے۔ منظور نظرافراد اور سرکاری محکمے جو بجلی کازیادہ استعمال کرتے ہیں اورفیس کم اداکرتے ہیں،کی وجہ سے مجموعی تیکنیکی اورتجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔مجموعی تیکنیکی وتجارتی خسارہ کیا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اگر کوئی گھر میں یا دفتر میں30یونٹ کی بجلی استعمال کرتا ہے اور فیس 10یونٹ کے حساب کی ادا کرتے ہیں، اس سے یہ نقصان ہوتا ہے ،بجلی فیس وقت پر ادا نہ کرنے سے یہ نقصان ہوتا ہے ۔محکمہ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں محکمہ بجلی سالانہ 6200 کروڑ روپے بجلی کی خریداری پرصرف کرتا ہے اور محکمہ کو صرف 2600کروڑ کی آمدن ہوتی ہے جبکہ محکمہ ابھی بھی 3600 کروڑ روپے کے خسارے سے دوچار ہے۔ تین ماہ قبل حق اطلاعات قانون کے تحت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کشمیرپاورڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے انکشاف کیا کہ کشمیر میں 2348 کروڑ روپے کے بجلی بل زیر التو اء ہیں اور یہ زیادہ تر سرکاری محکموں کے ہیں ۔آر ٹی آئی کے جواب کے مطابق، تقریباً 20 نجی ہسپتالوں کے پاس بجلی کے بلوں کی مد میں KPDCL کے تقریباً 1.4 کروڑ واجب الادا ہیں۔لیکن محکمہ اس کیلئے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ محکمہ کی غیر معیاری اور ناقص منصوبہ بندی ہی جموںوکشمیر میں بجلی کے ناقص نظام کی ذمہ دار ہے اور آج اس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔یا درہے کہ اس سے قبل محکمہ نے اس نقصان پر قابو پانے کیلئے تین بار میٹر نصب کئے لیکن پھر ان کو رد قرار دیکر ان کی جگہ نئے میٹر نصب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اب آخری بار سمارٹ میٹر نصب کرنے کا منصوبہ ہے اور اس کے تحت کسی حد تک لوگ برابر بجلی استعمال کریں گے اور اس کی فیس بھی ادا کریں گے لیکن یہ تب ممکن ہے جب محکمہ اس میں سنجیدہ ہو ۔محکمہ پی ڈی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں 8لاکھ میٹر 2023تک نصب کئے جائیں گے اور سمارٹ میٹر سے میٹرنگ ،بلنگ اور کلیکشن میں شفافیت آئے گی جو بجلی کے نقصانات کو بھی کم کرے گی اور عوام کو معیاری بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی۔