خدا نے اس بڑی دنیا کو بنا کر ہر انسان کے لئے دروازے کھول کر رکھے ہیں کہ وہ ایک کنویں والی مینڈک کی طرح زندگی گزارے یا پھر اس مینڈک کی طرح زندگی گزارے جو ایک وسیع و عریض سمندر میں غوطے مارتا ہے۔ اب یہ ایک انسان پر منحصر ہے کہ وہ کیا کریں۔ عقل انسان کا سب سے بڑا خزانہ ہےاور عقل کے بغیر انسان انسان نہیں ہے۔ اب اگر ہم اپنے معاشرے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں، تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ بیشتر لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عقل کا بہت کم استعمال کرتے ہیں اور تنگ نظری یا نظریات کے شکار ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے لئے بھی بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہے۔ ایک انسان جس سماج میں جنم لیتا ہے، وہ سماج اُس کو ایک مخصوص سانچے میں ڈالتا ہے۔ اُس کی ظاہری بناوٹ، ذہنی پختگی یا خامی، پسند یاناپسند، دیکھنے اور سوچنے کا زاویہ، وغیرہ ہر چیز پر معاشرے کا بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر ہوتا ہے۔ آج ہم یہاںآنے والی سطروں میںبعض اُن وجوہات کی بات کریں گے ،جن کی وجہ سے انسان تنگ نظریات کا شکار ہوجاتا ہے۔
پہلا ہے مذہبی جنون۔ ہم نے مذہب کو موت اور حیات کا مسئلہ بنایا ہے۔ ہمارے یہاں مذہب ہی سب کچھ ہے، جو بھی کوئی کسی مخصوص مذہب کا پیروی کرتا ہے، وہ اُسی کا ہوکر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی کوئی بھی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس سے اس انسان کی دماغی وسعت محدود ہوکر رہ جاتی ہے اور وہ کسی بھی بات کی تہہ تک پہنچ نہیں پاتااور نہ ہی اپنے حدود سے اوپر اٹھ کرکچھ دیکھ پاتا ہے،پھر آہستہ آہستہ جہالت کا شکار ہوجاتا ہے، جو کہ ایک لعنت ہے۔ جہالت ہی باعث عذاب بن جاتی ہے اور اس طرح پورا معاشرہ اس کا شکار ہوجاتا ہے۔
دوسرا ہے کم علمی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اَن پڑھ اچھا ہے، بد علم اور کم علم سے۔ اس کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک اَن پڑھ جس بات کو جانتا ہے، وہی بات کرتا ہے، مگر کم عمل اور بد علم وہ باتیں کرتا ہے، جس کو وہ خود بھی نہیں جانتا۔بغور دیکھا جائے جتنا بھی نقصان ہمارے سماج کو پہنچا ہے، اُس کے زیادہ تر ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عالم اور دانا سمجھتے ہیں۔ ایک دانا مخصوص سوچ رکھ کر بھی ہمیشہ اپنے گریبان میں جھانکتا رہتا ہے کہ کہیں میں غلط تو نہیں ہوں! کیا میں واقعی اس راہ پرچلتا ہوں جو راہ اللہ کو پسند ہے؟ کیا میں واقعی انسان کہنے کے لائق ہوں؟ کیا میں دوسرے مذاہب کے بارے میں ساری واقفیت رکھتا ہوں؟ ایسے سارے سوالات ایک حاضر دماغ کا ہی شیوہ ہوتا ہے۔
تیسرا ہے ہمارا اپنا رویہ۔ ہم ہر بات کو سچ مان کر چلتے ہیں۔ کوئی بھی امیر یا اثر رسوخ رکھنے والا آدمی ہمارے لئے ایک نمونہ بنتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو اس بات پر مائل کرتے ہیں کہ یہی لوگ حق پر ہے،باقی سب گمراہ ہیں۔ اس سے ہمارے اذہان تنگ در تنگ ہو جاتے ہیںاور پھر ہم یہ سوچ بھی نہیں پاتے کہ پیسہ اور مرتبہ دانائی اور انسانیت کے معیارات نہیں ہوسکتے۔ البتہ غور و فکر اور اللہ کی رحمت ہی انسان کو وسعت سے ہمکنار کرتی ہے۔
چوتھا ہے ہمارا سماج۔ ہمارے سماج کی ایک بُری عادت ہے کہ جس چیز کو وہ حق مانتے ہیں، وہیں حق ہے، باقی سب کچھ ناحق ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ جو پہلے سے چل رہا ہوتا تھا،وہی چلتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو بھی کوئی بات ہے، اُس کو رد کرنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔جس کے باعث ہمارا سماج ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے چلا جاتا ہے اور سکوتِ لب اور اذہان کو زنگ لگ جاتا ہے۔ انسان یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے یا کوئی اور بھی حق پر ہوسکتا ہے، کسی کی بات میری بات سے اعلیٰ ہوسکتی ہے، کسی کا عمل میرے اعمال سے اعلیٰ ہوسکتے ہیں، کسی کا سوچ میری سوچ سے بہتر ہوسکتی ہے،اور یہی چیزیں ترقی کی نشانیاں ہوتی ہیں۔
چوتھا اور آخری ہے اللہ سے دوری۔ اللہ تعالیٰ واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر وقت غور و فکر کیا کروں۔ غور و فکر سے دماغ کی وسعت بڑھ جاتی ہے اور اس سے نئی نئی باتیں سیکھنے کو ملتی رہتی ہیں اور ہر وقت اذہان کھلے رہنے سے زنگ لگنے کے مواقع بہت کم ہوجاتے ہیں۔ اتنی بڑی دنیا میں ہر کوئی چیز اپنے اندر ایک سبق رکھی ہوئی ہے۔ کھانے کو ہی لیجئے۔ اس کو مومن اور کافر دونوں کھاتے ہیں۔ اگر کافر یہ سوچے کہ کھانا صرف ہم کو ملتا ہے اور کسی کو نہیں، اس لئے صرف ہم ہی حق پرہیں، تو اس سے اُن کی زندگیوں میں جمود آجائے گا۔ اور اگر مسلمان بھی اسی ڈگری پر چل پڑے، تو اس کا نتیجہ بھی پہلے والا ہوگا۔ اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ دنیا کی دولت اور مرتبے کسی بھی قوم کے لئے مخصوص نہیں ۔ شرط صرف یہ ہے کہ ایک انسان صرف وہ کام کرے جو اذہان کو وسعت فراہم کریں۔
آیئے اب ہم یہ عہد کریں کہ ہم تنگ نظریات کو چھوڑ کر اذہان کو وسعت دینے کے کاموں میں لگ جائیں۔ اس کے لئے ہمیںزیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اپنے من میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کی اندھی نقالی کسی بھی طریقے سے باعث رحمت نہیں ہوتی ہے۔ رحمت کے لئے ہمیں بھی ایسا رویہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ دنیاوی زندگی بھی اور اُخروی زندگی بھی سکون کے ساتھ گذر جائیں۔ تو دیر کس بات کی ہے۔ اے انسان! تو کیوں ایک کنویں کی مینڈک کی طرح جیتا ہے۔ کیا تجھے میری عظیم قدرت کی طرف نظر نہیں پڑتی؟ کیوں تو اندھا بن کر جیتا رہا؟ یہ سوالات انسان سے ضرور پوچھے جائیں گے۔ اُس وقت انسان کو پتہ چلے گا کہ میں نے دنیا میں رہ کر اپنی زندگی کو کیوں چند مخصوص نظریات کا شکاربناکے رکھا! اب بھی موقع ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا گہرائی سے مشاہدہ کریں۔
(مضمون نگار الھدیٰ کوچنگ سنٹر مصطفیٰ آباد، زینہ کوٹ میں مدرس ہیں، رابطہ۔7889346763)