سبزار احمد بٹ
ثاقب اپنی جماعت کا سب سے ذہین لڑکا تھا۔ وہ نہ صرف پڑھائی میں بہترین تھا بلکہ بے حد خوبصورت بھی تھا۔ درمیانہ قد، گھنی بھنویں، بڑی بڑی آنکھیں، کشادہ پیشانی اور چمکدار بال اُس کی شخصیت کو مزید نکھارتے تھے۔ تمام اساتذہ اسے دل و جان سے چاہتے تھے۔
کلاس میں کوئی بھی اہم کام ہوتا تو سب سے پہلے ثاقب ہی کو بلایا جاتا۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی بچے کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہی حال ساقب کا ہوا۔ کبھی کبھی وہ اپنے اساتذہ سے اس انداز میں بات کرتا کہ بہت برا لگتا۔ رفتہ رفتہ تکبر اُس پر غالب آگیا۔ اب اسے لگنے لگا کہ جو کچھ بھی وہ ہے، اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے ہے، اس میں اساتذہ کا کوئی کردار نہیں۔ اسے اپنی ذہانت اور اپنی صورت پر ناز ہونے لگا۔ استاد جب بھی اُس سے کچھ پوچھتے تو وہ الٹا جواب دیتا۔ اس کی باتوں سے اساتذہ کا دل دکھتا۔
دانش سر اکثر اسے سمجھاتے:
“ثاقب، اس طرح کی بدتمیزی اچھی نہیں لگتی۔”
لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔کبھی کبھی دانش سر کو افسوس ہوتا تھا کہ اس نے ثاقب کو اتنی اہمیت کیوں دی ۔ نہ وہ ثاقب کو اتنی اہمیت دیتے نہ ساقب بگڑتا کیونکہ کچھ بچوں کو پیار ہضم ہی نہیں ہوتا ۔وہ اساتذہ کے پیار کو ان کی کمزوری سمجھتے ہیں۔
ایک دن دانش سر نے “پانی کی اہمیت” پر لیکچر دیا۔ دورانِ درس ثاقب مسکرا رہا تھا لیکن استاد نے اس پر توجہ نہ دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ پھر کوئی الٹی سیدھی بات کرے گا۔ کلاس کے بعد جب ثاقب نے ہاتھ دھوئے تو نل کھلا چھوڑ دیا۔ اتنے میں دانش سر آگئے اور کہنے لگے:
“بیٹا، ابھی ہم پانی کی اہمیت پر بات کر رہے تھے، اور تم نل کیوں کھلا چھوڑ گئے؟”
ساقب طنزیہ انداز میں بولا:
“سر! آپ کو پتا ہے زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے۔ میرے ایک نل کھلا رکھنے سے دنیا کے سمندر تو خشک نہیں ہوجائیں گے!”
یہ سن کر استاد کو بہت دکھ ہوا مگر وہ خاموش ہوگئے۔ وہاں پر موجود سبھی بچوں کو بہت برا لگا اور وہ چپ چاپ وہاں سے نکل گئے ۔
چند دن بعد اسکول میں ایک صحت افزا مقام کی سیر کا پروگرام بنا۔ بچوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کھانے پینے کا سامان ساتھ لائیں کیونکہ انہیں پہاڑی راستے سے گزرنا تھا۔ ہر گروپ کے ساتھ ایک استاد تھا۔ ثاقب کی ٹیم کے ساتھ دانش سر تھے۔
چلتے چلتے گرمی بڑھ گئی۔ ساقب نے بوتل کھول کر بچوں پر پانی پھینکنا شروع کر دیا۔ اور اسی طرح کی شرارت کرنے لگا جس کا وہ عادی ہو چکا تھا ۔ دانش سر نے کہا:
“بیٹا، پانی بچا کر رکھو، آگے پہاڑوں میں پانی نہیں ملے گا۔”
ثاقب پھر وہی جملہ دہرانے لگا:
“سر! زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی ہے!”
استاد خاموش ہوگئے۔
سفر کٹھن تھا۔ سب لوگ بڑی خاموشی سے سفر کر رہے تھے ۔ اچانک ثاقب کا پاؤں پھسلا اور وہ زور سے گر پڑا۔ اُس کی ناک زخمی ہو گئی اور ٹانگ سے خون بہنے لگا۔ وہ تکلیف میں کراہنے لگا اور بار بار صرف ایک لفظ کہہ رہا تھا:
“پانی… پانی… پانی…”
لیکن سب بچوں کی بوتلیں خالی ہوچکی تھیں۔ کسی کے پاس ایک بوند پانی بھی نہ تھا۔ سبھی بچے ثاقب کے ارد گرد جمع ہو گئے ۔ اتنے میں دانش سر نے ثاقب کا سر اپنی گود میں رکھا اور اپنی رومال کو پھاڑ کر آدھی اس کی ٹانگ پر باندھی اور آدھے سے اس کا چہرہ صاف کیا۔ ایک طالب علم قریب ہی کی نالی سے چند بوندیں لایا، استاد نے بڑی نرمی سے وہ بوندیں ساقب کے منہ میں ڈال دیں۔ ساقب کی آنکھیں کھل گئیں۔
ثاقب چونکہ جسامت میں ٹھیک ٹھاک تھا اس لئے کوئی بھی بچہ اسے اپنے کندھے پر نہیں اٹھا سکتا تھا اور باقی ساری ٹولیاں آگے جا چکی تھیں ۔
اس کے بعد دانش سر نے زخمی ساقب کو کندھے پر اٹھایا اور دشوار گزار راستوں سے گزرتے رہے ۔ دانش سر پسینے سے شرابور تھے اور سانس پھولتے ہوئے بھی قدم بڑھاتے رہے۔ بڑی مشکل سے ثاقب کو اپنی منزل تک پہنچایا ۔ وہاں پہنچ کر مرہم پٹی کی گئی۔ جب ثاقب کو ہوش آیا تو سب سے پہلے اُس نے شرمندگی کے ساتھ دانش سر کو ڈھونڈا اور دھیمی آواز میں کہا:
“سر… آج مجھے پانی کی اہمیت بھی سمجھ آگئی اور آپ کا پیار بھی۔ میں زندگی بھر یہ قرض نہیں اُتار سکتا۔” آج آپ نہیں ہوتے تو میں مر ہی جاتا ۔
دانش سر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے ثاقب کو گلے لگایا اور پیار سے کہا:
“بیٹا، رشتہ علم اور پیار کا ہمیشہ قائم رہتا ہے۔”
���
اویل نورآباد ، کولگام، کشمیر، موبائل نمبر؛7006738436