سرینگر// فریڈم پارٹی نے کہاہے کہ بھارت کا غیر منصفانہ طرز عمل دہائیوں سے جاری ہے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ کشمیری عوام کی اُمنگوں کا خیال کررہا ہے اور نہ اُسے بین الاقوامی فورموں کے اندر کئے گئے وعدوں کا پاس و لحاظ ہے۔بیان کے مطابق ان وعدوں میں5جنوری1949کی وہ تاریخی قرار داد اہمیت کی حامل ہے جو کشمیر تنازعہ کے حل سے متعلق اقوام متحدہ کے اندر پاس کی گئی اور جس کو نافذ کرنے کیلئے نے نئی دلی نے حامی بھر لی ہے۔بیان کے مطابق اس ساری صورتحال میں کشمیریوں نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ حصول حق خود ارادیت کی خاطر اپنی پر امن سیاسی جد و جہد جاری رکھےں گے۔ پیپلز لیگ کے محبوس چیئر مین غلام محمد خان سوپوری اور قائمقام چیئرمین سید محمد شفیع نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر بلاتاخیر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ موصولہ بیان کے مطابق کٹھوعہ جیل سے خان سوپوری نے اپنے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بنیادی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ ان قرار دادوں میں یہاں کے عوام کی رائے اور منشاءکو مقدم قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے احساسات اور خواہشات کو بنیاد بنا کر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قرار دادوںپرعمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر گزشتہ7 6 برسوں سے التواءمیں پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس مسئلہ کو لے کر نہ صرف تین خون ریز جنگیں ہوئیں بلکہ اس مسئلہ کی وجہ سے ہی ان دو ممالک کے علاوہ کشمیر میں بھی بے شمار انسانی جانیں اور جائیداد کا اتلاف ہوا۔ڈےمو کر ٹےک پو لٹےکل مو منٹ کے چیئر مین فر دوس احمد شاہ نے کہا ہے کہ 5 جنو ری 1949کو سلا متی کو نسل نے اےک اہم قر ار داد پا س کی جس کی رُو سے جموں کشمےر کے لو گوں کو اپنی رائے دہی کا حق ےعنی حق خو د ارادےت کے ذ رےعے لو گوں سے رائے پو چھی جا ئے کہ وہ کےا چا ہتے ہےں لےکن د ہائےاں گز ر جا نے کے بعد بھی ان قرار داروں پر عمل در آ مد نہ ہو سکا ۔ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے5جنوری1949کی قرارداد کو عملانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کی خواہشات اور احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے برآمد کیا جانا چاہئے۔