عاصف بٹ
کشتواڑ // مسلسل تین روز کی موسلا دھار بارشوں کے بعد جمعرات کو موسم صاف ہوگیا جس پر عوام نے راحت کی سانس لی، تاہم ضلع بھر میں بجلی، پانی اور سڑک کا نظام تاحال معطل ہے، جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تیسرے روز بھی بجلی اور پانی کی سپلائی مکمل طور پر بند رہی۔ اگرچہ حکام نے شام تک بجلی بحالی کا دعویٰ کیا تھا، مگر بیشتر علاقوں میں بجلی بحال نہ ہوسکی۔ قصبہ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی سپلائی بھی بحال نہ ہونے کی وجہ سے عوام الناس مشکلات سے دوچار ہیں۔اندرونی رابطہ سڑکوں کو اگرچہ عارضی طور پر بحال کردیا گیا ہے، تاہم کشتواڑ۔سنتھن، اننت ناگ مرگن، بٹوت کشتواڑ اور پاڈر روڈ بدستور بند ہیں۔ اگرچہ ٹھاٹری تک سڑک کو بحال کر دیا گیا ہے لیکن ٹھاٹری کے بعد کا حصہ ہنوز بند ہے اور بحالی کا کام جاری ہے۔دورافتادہ علاقہ واڑون کے مرگی گاؤں کی عوام تیسرے روز بھی کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی امداد فراہم نہیں کی گئی، نہ ہی کوئی افسر یا اہلکار متاثرہ گاؤں تک پہنچا۔ عوام نے کہا کہ وہ صرف اللہ کی مدد کے منتظر ہیں کیونکہ ان کا سب کچھ تباہ ہوچکا ہے اور اب وہ بچوں سمیت زندگی بچانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر، ایس ڈی ایم مڑواہ اور دیگر افسران متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنے کے منتظر تھے لیکن ہیلی کاپٹر دستیاب نہ ہوسکا۔اس تباہی میں بیس کے قریب رہائشی مکان مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں، جبکہ ایک سو کے قریب گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ جامع مسجد کو بھی نقصان ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کنال زرعی اراضی تباہ اور مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔