محمد تسکین
بانہال //سب ڈویژن بانہال کے خوبصورت علاقہ مہو سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ کوہ پیما اور مہم جو سیاحت اور ٹریکنگ کو فروغ دینے والے تنویر احمد نے پیر پنجال سلسلے کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ تتاکوٹی کو سر کرکے ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔ ضلع بڈگام کے دودھ پتھری کے راستے تنویر بن احد نے گاندربل کے ایک اور مہم جو ساتھی اعجاز مخدومی کے ساتھ ضلع بڈگام اور ضلع پونچھ کی سرحدوں میں آنے والی تتاکوٹی کو سر کیا ہے۔ تنویر احمد نائیک ولد مرحوم عبدالاحد نائیک ساکنہ مہو تحصیل کھڑی ضلع رامبن اپنے ضلع رامبن کے پہلے رامبن کوہ پیما بن گئے ہیں۔ تتاکوٹی کی چوٹی جموں اور کشمیر کے اضلاع بڈگام اور پونچھ کی سرحد پر 4,760 میٹر (15,620 فٹ) کی بلند چوٹی کے ساتھ ایک پہاڑ ہے اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کی سب سے نمایاں چوٹی ہے اور وادی کشمیر کو جنوب مغرب سے گھیرے ہوئے ہے۔ ڈپٹی کمشنر رامبن مسرت اسلام نے بھی تنویر بن احد کی کامیابی کو سراہا ہے اور مبارکبادی کے پیغام کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے۔ مسرت الاسلام نے لکھا ہے “مہو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اور ایڈونچر ٹورزم کے پروموٹر تنویر احمد نے پیر پنجال سلسلے کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ تتاکوٹی کو سر کر کے رامبن کے سر کو فخر سے انچا کیا۔ اس کے علاؤہ سوشل میڈیا پر تتا کوٹی کی چوٹی کو سر کرنے پر عام لوگوں اور مہم جوئی وے لگاو رکھنے والے لوگوں نے بھی تنویر احمد کو مبارکباد پیش کی ہے۔ مشہور کوہ پیما اور میڈیکل مشنری آفیسر ڈاکٹر ارنسٹ نیو اپنی کتاب ” Beyond the Pirpanjal ” میں لکھتے ہیں کہ “پیر پنجال سلسلے کی تمام چوٹیوں میں سب سے اونچی اور نمایاں چوٹی بلاشبہ تتاکوٹی (تاتاکوتی) ہی ہے۔ ڈاکٹر ارنسٹ نیوی نے سنہ 1900 عیسوی میں تتاکوٹی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کی لیکن تقریباً تین چوتھائی راستے تک ہی چوٹی تک پہنچ پائے تھے۔