کپوارہ//سرحدی ضلع کپوارہ کے کرالہ پورہ کے مضافات میں واقع مڈل سکول گزریال گزشتہ 72سالو ں سے ہائی سکول کا درجہ بڑھانے کا منتظر ہے ۔سرکار کی عدم توجہی پر مقامی لوگو ں میں شدید نا راضگی پائی جارہی ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سوپور کے ہر د شیو علاقہ سے پرائمری سکول کو منتقل کر کے گزریال میں قائم کیا گیا اور اس سکول کے تحت علاقہ کے نصف درجن گائو ں کے طلبہ اپنی تعلیم حاصل کرتے تھے ۔مقامی لوگو ں نے بتا یالوگو ں کے اصرار پر کئی سال کے بعد پرائمری سکول کا درجہ بڑھا کر اس سے مڈل سکول کا درجہ دیا گیا اور تب سے آج تک مذکورہ سکول ہائی سکول کا درجہ بڑھانے کا منتظر ہے ۔لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سکول کو گزریال میں قائم کرنے میں اب 72سال گزر گئے لیکن ہر بار سرکار کی عدم توجہی کا شکار رہا اوریہی وجہ ہے کہ جب جب سرکار نے ریاست میں باقی سکولو ں کا درجہ بڑھا یا تو مڈل سکول گزریال کو ہر بار نظر انداز کیا ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ یہا ں کے بچو ں کو مڈل پاس کر کے اپنا داخلہ لینے کے لئے در در کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور گزریال سید وسرے ہائی سکول 5سے6کلو میٹر دو رہے جس کے دوران طلبہ کو زبردست مشکلات کا سا منا کر نا پڑ رہا ہے ۔ایک مقامی شہری حبیب اللہ لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ مڈل سکول گزریال کا درجہ بڑھانے کے لئے یہا ں کے لوگو ں نے کافی اثر و رسو خ اختیار کیا لیکن ہر با ر انہیں مایوسی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔انہو ں نے کہا کہ یہا ں کی کثیر آ بادی گزشتہ60سال کے دوران اس بات کے منتظر ہیں کہ مڈل سکول گزریال کا درجہ کب بڑھایا جائے لیکن ان کے خواب ادھورے ہی رہ گئے ۔ایک اور سماجی کارکن پیر اظہر کا کہنا ہے کہ جب جب سرکارنے ریاست میں ماڈل سکولو ں کا درجہ بڑھا یا تو اس سکول کے ساتھ ہر بار سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا ۔ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ 2014میں جب اس وقت کی سر کار نے ریاست بھر میں نئے انتظامی یو نٹ قائم کرنے کا اعلان کیا گیااور ریاست بھر میں درجنو ں سکولو ں کا درجہ بڑھا دیا گیا جبکہ مڈل سکول گزریال کو بھی لوگو ں کی دیرینہ مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا درجہ بڑھا کا ہائی سکول بنایا گیا اور اس کے لئے سرکار نے با ضابطہ طور ایک حکم نامہ بھی جاری کیا ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ سابق ممبر اسمبلی اور کابینہ وزیر میر سیف اللہ نے اکتوبر2014میں مڈل سکول گزریال کا درجہ بڑھا کر ہائی سکول کا افتتاح کیا اور سائن بو رڈ کی با ضابطہ نقاب کشائی کی لیکن ریاست میں نئی سر کار معرض وجود میں آ نے کے بعد ہائی سکول گزریال حکم نامہ کو منسو خ کیا گیا اور اس کو مڈل سکول ہی تک محدود رکھا گیا ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ حیران اور افسون ناک بات یہ ہے کہ موجود سرکار نے یہا ں کے عوام سے بھونڈا مذاق کیا کیونکہ مڈل سکول گزریال کا سائن بورڈ آج بھی ہائی سکول گزریال کے بڑے حروف سے لکھا گیا ہے ۔لوگو ں نے اس بات کو لیکر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ایک روز قبل سرکار کی جاب سے سے ریاست بھر میں سرکاری سکولوں کا جو درجہ بڑھایا دیا گیا اس میں مڈل سکول گزریال کو دو بارہ نظر انداز کیا گیا جبکہ کئی علاقوں میں ایک کلو میٹر کے دائرے میں نصف درجن سے کم مڈل سکولو ں کا درجہ بڑھا کر ہائی سکول بنائے گئے جبکہ ان علاقوں میں پہلے ہی ہائر سیکنڈری سکول موجود ہے ۔ان علاقوں میں اگرچہ خوشی کا ماحول ہے لیکن گزریال کے لوگو ں میں اس قدر مایوسی چھا گئی کہ وہ خون کے آنسو بہانے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگو ں کو محکمہ تعلیم اور موجودہ سرکار کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمارے بچو ں کے مستقبل کی فکر نہیں ہے اور آج کے خراب ماحول میں بھی ان کے بچو ں کو دور دراز علاقوں میں قائم ہائی سکولوں میں داخلہ لینا پڑتا ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر تعلیم چودھری ذوالفقار ضلع ترقیاتی بورڈ مٹینگ کے بعد واسن کا دورہ کیا جس کے بعد گزریال کی ایک عوامی وفد ان سے ملاقی ہوئی اور انہیں مڈل سکول گزریال کا درجہ بڑھانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد وزیر مو صوف نے لوگو ں کو یقین دلایا کہ مڈل سکول گزریال کا درجہ بڑھا یا جائے گا لیکن ہفتہ کو جو ں ہی ریاست بھر میں سرکاری سکولو ں کا درجہ بڑھانے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تو مڈل سکول گزریال کا درجہ نہ بڑھانے پر گزریال کے لوگ اس قدر مایوس ہوئے کہ انہیں سرکار کے تئیں زبردست ناراضگی پیدا ہوئی ہے