اسد مرزا
وزیر اعظم نریندر مودی کی اس ہفتے تیانجن میں چینی صدر ژی چی پنگ اور روسی صدر ولادیمیرپوتن کے ساتھ ملاقات امریکی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنا آرہی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب کہ پوری دنیا میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف یا محصولات عائد کرنے کے فیصلوں نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی نئی اور مثبت پہل بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں، جیسا کہ ایشیا کے دو بڑے رہنماؤں کی روسی صدر کے ساتھ ملاقات۔ تاہم اس ملاقات کو اور اس سے حاصل ہونے والے بامعنی فیصلوں کا انحصار ہندوستان اور چین کے درمیان موجودہ خراب تعلقات کو بہتر کرنا سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔ تاکہ پھر یہ تین ملک ایک متحدہ محاذ بناکر امریکہ کے خلاف کھڑے ہوسکیں۔ہندوستان اور چین کے تعلقات سب سے پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک ایک مشترکہ تہذیبی، اقتصادی انحصار اور جغرافیائی تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن تصادم اور عدم اعتماد کی بناپر ان کے تعلقات زیادہ تر خراب رہے ہیں۔ اعتماد کی کمی انتہائی عملی انتظامات کو بھی نازک بنا سکتی ہے۔ حالیہ دہائیوں میں تعاون کے لیے غیر سنجیدہ کوششیں کی گئیں، لیکن پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسے واقعات جیسے کہ ڈوکلام اور گالوان کے واقعات رونما ہوئے۔ المیہ صرف جھڑپوں میں ہی نہیں بلکہ اس حقیقت میں بھی ہے کہ اس کی جڑوں سے عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لیے مستقبل پر مبنی کوئی سنجیدہ فریم ورک موجود نہیں ہے۔
امریکی گیم پلان بھی یہی ہے جو دونوں ہمسایوں کے درمیان اعتماد کے ٹوٹنے کو ہوا دیتا ہے۔ واشنگٹن نے اپنے توازن کے عمل کے ایک حصے کے طور پر ایشیا میں دشمنی اور شک دونوں کو پروان چڑھایا ہے، جو گھیراؤ کے بارے میں بیجنگ کے مفروضے کو تقویت دیتے ہوئے چین کے مقابلے میں ہندوستان کو کاؤنٹر ویٹ کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہندوستان اور چین دو ایشیائی تہذیبی ممالک ہیں اور وہ بیرونی جوڑ توڑ سے اوپر اٹھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ آیا ان کے مستقبل کو کسی اور ملک کے فائدے کے لیے تباہ کردیا جائے یا ان کے پاس اپنا راستہ طے کرنے کی حکمت عملی بنانے کی خواہش ہے یا نہیں۔سچی بات یہ ہے کہ مسلسل دشمنی سے کوئی بھی فریق فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ چین کو سست ترقی، سکڑتی ہوئی لیبر فورس اور مغرب کی طرف سے بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کا سامنا ہے، اور اگر ہندوستان اپنی نوجوان آبادی کی امنگوں کو پورا کرنا اور ’وکست بھارت‘ کے اہداف کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اعلیٰ ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا۔ 3,488 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ فوجی تعطل میں وسائل کو بند کرنا دونوں کے لیے کوئی جیت کا کھیل نہیں ہے۔اعتماد کی بحالی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اکیلے خیرسگالی نہیں ہے بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ مسلسل دشمنی معاشی اخراجات بڑھاتی ہے جو کوئی بھی فریق لمبے عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا ہے۔
ایک سربراہی اجلاس میں باہمی اعتماد پیدا نہیں کیا جا سکتا، لیکن برف پگھلانے کے لیے یہ ایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے۔ اسے مسلسل کوششوں سے تعمیر کیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب موجودہ وعدوں پر سختی سے عمل کرنا، فوج کی تعیناتی میں شفافیت، اور جبر اور جھوٹ کا خاتمہ کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ 2026 سے براہ راست پروازوں کا دوبارہ آغاز، طلباء کا تبادلہ، اور ثقافتی سرگرمیاں، جیسے کیلاش ماناسروور یاترا، ایسے چھوٹے اشارے ہیں۔ سماجی رابطہ تنازعات کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیتا ہے۔ جب عام شہری، طلباء اور کاروبار امن میں شامل ہوجاتے ہیں، تو رہنما اسے فراہم کرانے کے لیے دباؤ محسوس کرتے ہیں۔
ہندوستان کی چین مساوات کو امریکہ کی موجودگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تعلقات کا یہ مثلث ایشیا کے اسٹریٹجک منظر نامے کو توڑ دیتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے، چین کو متوازن کرنے کے لیے ہندوستان کا انتخاب ایک جمہوری پارٹنر کے طور پر ہے۔ وہیں بیجنگ کے لیے، ہندوستان کا واشنگٹن کی طرف جھکاؤ ایک مسلسل چڑچڑا پن اور ایشیا میں غلبہ کے اس کے وژن کے لیے ممکنہ خطرہ ہے۔ نئی دہلی کے لیے، دونوں ممالک اہمیت رکھتے ہیں، لیکن بہت مختلف طریقوں سے۔ہندوستان امریکی ٹیکنالوجی، سرمایہ اور دفاعی تعاون سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس تاریخ سے بھی واقف ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی لین دین پر مبنی ہے۔ واشنگٹن کسی وقت گرم جوشی کا مظاہرہ کرسکتا ہے ، لیکن ترجیحات تبدیل ہونے پر یہ رویہ سرد بھی ہو سکتا ہے۔ پھر بھی یہ ہندوستان کے لیے ایشیائی حکمت عملی اور چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی ایک کوشش ہونا چاہیے۔ہندوستان کو واشنگٹن کے خدشات دور کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر چین کے ساتھ براہ راست نمٹنا سیکھنا چاہیے۔ اس طرح ہندوستان اپنے جمہوری شراکت داروں پر اپنے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی اسٹریٹجک جگہ کو محفوظ بنا سکیگا۔ نئی دہلی کے لیے یہ حکمت عملی کی وضاحت کا بھی امتحان ہے۔ ہندوستان امریکہ کی عظیم حکمت عملی کا محض ایک حصہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایشیا کے مستقبل کا فیصلہ برسلز یا واشنگٹن میں نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر ہوگا کہ ہندوستان اور چین اپنے تعلقات کو کیسے استوار کرتے ہیں۔ مغرب ایک منقسم ایشیا کو پروان چڑھانا چاہتا ہے اور اس کی اسٹریٹجک کمیونٹی نے اسے کوئی راز نہیں رکھا۔
مستقبل میں، مشترکہ دلچسپی کے نئے دائرے تلاش کرنے کا چیلنج باقی ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، گرین ٹیکنالوجی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور لچکدار سپلائی چینز میں مواقع موجود ہیں۔ مشترکہ منصوبوں میں بداعتمادی کو ختم کرنے اور تعاون کی طرف مائل ہونے والی حکمت عملی بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تاریخی صدمات کو تجارت سے ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ایک ایسی ترغیب دے سکتا ہے جو آگے بڑھنے کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہے۔آگے کے راستے میں کئی چیلنجز ہیں۔ سرحدی مسائل کا حل، خواہ اس کی طرف احتیاط کے ساتھ قدم بڑھایا جائے، مثبت ہوگا۔ کمیونیکیشن میکانزم اور ہاٹ لائنز کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ سیاسی رسہ کشی کا اطلاق معاشی تعلقات پر نہیں ہونا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لیڈروں کو گھریلو سامعین کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کمزوری کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک بہتر کل کے لیے احتیاط کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ ہے۔تیانجن چوٹی کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے، ہندوستان نے ظاہر کیا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح پر شرکت کے لیے تیار ہے۔ اپنی دفاعی جدید کاری اور بیرونی شراکت داری کو جاری رکھ کر، اس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کمزوری کی پوزیشن سے کام نہیں کرے گا اور دراصل وقت کی ضرورت یہی ہے کہ ہندوستان کے سفارت کار دونوں ٹریک پر کام کریں۔ یعنی کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان میل جول کو بڑھاوا دیں اور ساتھ ہی اپنے سلامتی تقاضوں کو نظر انداز بھی نہ کریں۔
ایک ایشیائی صدی کے وعدے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، جو ہندوستان اور چین کے عروج کی وجہ سے ہے۔ یہ وعدہ اس وقت تک کھوکھلا رہے گا جب تک کہ دونوں وقار اور تعاون کے ساتھ ایک ساتھ رہنے کا راستہ تلاش نہیں کرتے۔ دائمی دشمنی قوم پرستانہ بیان بازی کا کام دے سکتی ہے، لیکن یہ دونوں ممالک کو کمزور کرتی ہے۔ تعمیری بقائے باہمی، چاہے مشکل ہی کیوں نہ ہو، کثیر قطبی ترتیب میں مشترکہ قیادت کے امکانات کو واضح کرتا ہے اور تقویت دیتا ہے۔اس کے ذریعے دونوں ملک اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرتے ہوئے مغرب کے خلاف ایک نیا محاذ بناسکتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر انھیں عالمی رہنما تسلیم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔اس طریقے سے حالیہ عرصے میں مغرب نے اپنی ساکھ میں گراوٹ دیکھی ہے اس طرح کی پالیسیوں کو نظرانداز کرکے ہندوستان اور چین دونوں اپنے ممالک کو بہت آگے لے جاسکتے ہیں۔ جغرافیائی سیاست میں اعتماد کوئی نرم لفظ نہیں ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر قومیں یا تو اکٹھی ہوتی ہیں یا الگ الگ رہ کر اپنے وسائل ضائع کرتی ہیں، اپنی معیشت کو کمزور کرتی ہیں، اور اپنے عوام کی جانیں گنواتیں ہیں۔ موجودہ منظر نامے میں عالمی اثر و رسوخ کی چوٹی پر کھڑے دو تہذیبی ممالک کے لیے، اعتماد سے انکار کی قیمت خود ایشیائی صدی کا نقصان ہو سکتی ہے۔ پھر بھی، جیسا کہ مصافحہ اور بات چیت آگے کے راستے کو روشن کرتی ہیں۔ وہیں چین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر ہندوستان مصلحتاً جھک کر بات کرنے کے لیے تیار ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ چین کی خوشنودی کررہا ہے بلکہ چین کو یہ ماننا چاہیے کہ یہ ہندوستان کا بڑکپن ہے اور ایسا وہ صرف اس لیے کررہا ہے تاکہ دو عظیم ممالک عالمی اور ایشیائی سطح پر ساجھے داری کی ایک نئی مثال قائم کرکے تاریخ رقم کرسکیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے: www.asadmirza.in)