جموں// ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال رواں کے اوائل میں جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کے بعد سے سرحدی بستیوں میں امن کا ماحول قائم ہے تاہم بعض لوگوں میں خاموشی کے اس ماحول کی عمر کم ہونے کے خدشات پائے جا رہے ہیں۔بتا دیں کہ ہندوستان اور پاکستان نے ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ اس سے متصل سبھی سیکٹروں میں 24اور 25 فروری کی شب سے جنگ بندی اور دیگر سمجھوتوں پر عمل کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔ضلع راجوری کے سرحدی گاؤں ڈینگہ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ علاقے میں گذشتہ آٹھ ماہ سے امن کا ماحول قائم ہے لیکن اس میں کبھی بھی خلل واقع ہو سکتی ہے ۔رائے کمار نامی ایک مقامی شخص نے میڈیا کو بتایا کہ فائرنگ بند ہونے سے امن قائم ہوا ہے اور ہم اچھی طرح سے کھیتی باڑی کر سکتے ہیں لیکن پڑوسی ملک کبھی بھی فائرنگ کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا: ‘ہم بہت خوش ہیں پہلے ایسا ماحول نہیں تھا اور جو یہاں وزیر اعظم نرندر مودی کی سرکار میں بنکر تعمیر کئے گئے ان سے بھی ہمیں کافی فائدہ ہوا’۔ایک اور مقامی باشندے نے بتایا کہ یہاں پہلے اس طرح کے حالات نہیں تھے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد سے ہم اچھی طرح سے رہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘آج کے اور پہلے کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے سرحد پر یہ چیزیں بند ہونی چاہئے تاکہ دونوں ملک ترقی کر سکیں’۔ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں اب شانتی ہے اور ہمارے بچے اب باہر جا کر کھیل بھی سکتے ہیں اور ہم بھی کھیتوں میں کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کافی برے دن دیکھے ہیں لیکن اب امن قائم ہے ۔سری نگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے ماہ ستمبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سال رواں کے دوران جموں و کشمیر میں سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کے باوصف سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری کے تبادلے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں سر حدوں کے آر پار بے تحاشا جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے سرحدوں پر سال 2020 کے دوران ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے زائد از پانچ ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔