سرینگر//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سرحد پار شلنگ کے تازہ سلسلے کی وجہ سے ریاست کی سرحدوں پر پیدا شدہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے منافرت کے ماحول کو فوری طور سے ختم کرنے کی ضرور ت پر زور دیا ہے تا کہ کراس فائر میں آنے والے لوگوں کی جان ومال کو تحفظ دیا جاسکے۔ انہوں نے جموں خطہ میں سرحدوں پر فائرنگ کی وجہ سے ہوئی ہلاکتوں کے تازہ سلسلے پر دُکھ کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گولہ باری کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کااحساس تحفظ اور جان و مال متاثر ہوتا ہے اور چلائی گئی کسی بھی گولی یا مارٹر شیل سے اس ریاست کے باشندے ہی متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے جموں میں بین الاقوامی سرحد پر گذشتہ روز تازہ شیلنگ سے چار شہریوں کی ہلاکت پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ ہمیں سرحدوں پر پیدا شدہ ناخوشگوار حالات کی وجہ سے آئے دن لوگوں کی جانوں کا زیاں اور جائیداد کی تباہی کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں سے بڑے پیمانے پر مکینوں کی ہجرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک آٹھ ماہ کے بچے کے جسم پر گولیوں کی تصاویر شائد اس خطہ میں انسانیت کا ضمیر جھنجوڑنے کے لئے کافی نہیں ہے تا کہ اس بے مقصد کے خون خرابے کا خاتمہ کیا جاسکے۔ریاست سے مستحکم امن اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے موثر سٹیٹس مین شِپ کا مظاہرہ کر کے بھارت اور پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر کے2003 میں سرینگر کے تاریخی دورے کے دوران امن اور باعزت حل کی تمنا ظاہر کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ2003 میں فائیر بندی کی بدولت ریاست کے لوگوں بالخصوص سرحدی علاقوں کے باشندوں نے ایک نئے پُر امن سلامتی ماحول کے تجربات سے فیض حاصل کیا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خطے میں نفرت اور بدزنی کی تاریخ سے آگے بڑھ کر سال2003 میں شروع کئے گئے امن عمل سے کئی فوائد حاصل ہوئے جن میں سرحدوں پر فائیر بندی، ایل او سی راستوں کو مسافروں کی نقل و حمل کے لئے کھولنے، سول سوسائٹی کے نمائندوں، میڈیا پیشہ وروں، تاجروں اور عام شہریوں کی ریاست کے دونوں اطراف آوا جاہی کو یقینی بنانا شامل ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس دور میں اُمید نے بددلی کی جگہ لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس عمل کو آگے نہ بڑھانے سے اعتماد سازی اور امن بحالی کا عمل مانند پڑ گیا اور نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے افہام وتفہیم کے عمل کو پھیکا کرنے کے خطرات سے بھی خبردار کرایا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پار ریاست میں مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں اعلان کئے گئے یکطرفہ جنگ بندی سے لوگوں کو راحت کی سانس نصیب ہوئی اور اب وقت آگیا ہے کہ اس اعتماد سازی کے اقدام کو سرحدوں تک بھی بڑھایا جاسکے اور یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے کے استحکام اور امن مفادات کے چلتے اس کا موثر رد عمل ظاہر کرے۔