زاہدبشیر
گول//گول سب ڈویژن میں گزشتہ کئی روز سے مسلسل شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں عام زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی اور مٹی کے تودے گرنے سے متعدد رابطہ سڑکیں ابھی تک بند ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اہم دیہات کو جوڑنے والی سڑکیں بند ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ سروس متاثر ہوئی ہے بلکہ لوگوں کو روزمرہ ضروریات کی اشیاء پہنچانے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔زرعی اراضی اور کھیت کھلیان بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، کئی جگہوں پر پانی کھڑا ہونے سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بجلی اور مواصلاتی نظام بھی وقفے وقفے سے متاثر ہوتا رہا، جس کی وجہ سے عوام مزید پریشان ہیں۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے فوری طور پر سڑکوں کی بحالی، بجلی و پانی کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر محکمہ صحت نے بھی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی وبائی بیماری سے بچا جا سکے۔جموں سرینگر شاہراہ کے ساتھ ساتھ گول مہور شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے گول کا رابطہ جموں سے مکمل طو رپر منقطع ہو چکا ہے جس وجہ سے سبزیوں و دوسرے غذائی اجناس کی شدید قلت کا خدشہ ہے کیونکہ بازار میں گزشتہ روز سے سبزیوں کی شدید قلت پائی جا رہی ہے اور مرغ وغیرہ بھی نایاب ہے ۔ لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ گول میں غذائی اجناس کو لے کر ہنگامی بنیادیوں پر کوئی راستہ ڈھوندا جائے ورنہ یہاں پر غذائی اجناس کی قلت سے عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور جلد از جلد گول مہور کا راستہ بحال کیاجائے تا کہ مہور کے راستہ سے سبزی وغیرہ لایا جا سکے ۔ وہیں کئی سماجی و سیاسی شخصیات نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر راحتی ٹیمیں روانہ کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔