زاہد بشیر
گول//گول اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گذشتہ رات سے جاری شدید بارشوں نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس سے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق 29اور30اگست کی درمیانی شب اچانک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہوا اگر چہ یہ سلسلہ ایک دو گھنٹے ہی رہا لیکن بارش اور گن گرج اتنی تھی کہ لوگ کافی خوفزدہ ہو گئے اس دوران گول کے ہارہ جابہ، جمن ، شیرلی و دوسرے علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی آئی اور کئی جگہوں پر بادل پھٹنے کے واقعات بھی رونما ہوئے جس وجہ سے نچلے علاقوں میں کھڑی فصلیں اور زرعی اراضی پانی کی لپیٹ میں آکر بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس سے کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مکئی، سبزیاں اور دیگر فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔شدید بارشوں کے نتیجے میں متعدد رابطہ سڑکیں بھی بند ہوگئیں ہیں جس کے باعث آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ خاص طور پر گول گاگرہ روڈ، کے چار نالوں میں کافی زیادہ پانی آنے کی وجہ سے یہاں یہ علاقے سب ڈویژن کے ساتھ رابطہ سڑک سے منقطع ہوئے وہیں گول مہور رابطہ سڑک بھی ہنوز تین روز سے لگا تار بند پڑی ہوئی ہے ۔ اس دوران گول سب ڈویژن کے ساتھ جوڑنے والی چھوٹی رابطہ سڑکیں مٹی کے تودے گرنے اور پانی کے ریلوں کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ کئی گاؤں مکمل طور پر بلاک ہو گئے ہیں جس سے لوگوں کو ایمرجنسی صورتحال میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔اس دوران پانی کی سپلائی لائنوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے اور آج پورے دن محکمہ جل شکتی کے اہلکار اس کاروائی میں لگے ہوئے تھے تا کہ لوگوں کو پینے کے پانی کی سپلائی جلد ازجلد بحال کیا جا سکے ۔مقامی آبادی نے انتظامیہ سے فوری بحالی اقدامات اور کسانوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو زرعی نقصان مزید بڑھ سکتا ہے اور غذائی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے عوام کو غیر ضروری طور پر ندی نالوں کے قریب جانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی ہے اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر صورتحال سے نمٹنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔